<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:57:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:57:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کیلئے امریکہ اہم اقتصادی شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280396/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریاض میں کلائمٹ ایڈاپٹیشن اینڈ ریزیلیئنس پینل ڈسکشن کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے لیے ایک اہم اقتصادی شراکت دار کے طور پر دوبارہ ابھر رہا ہے، جس کی تازہ مثال ریکوڈک پروجیکٹ کی سات ارب ڈالر کا فنانشل کلوزر ہے، جس میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) اور یو ایس ایگرم بینک نے حصہ لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینل ڈسکشن ”موسمیاتی موافقت اور لچک: ہم مطلوبہ سرمایہ کیسے یقینی بنائیں؟“ کے دوران مختلف عالمی مالیاتی رہنما موجود تھے، جن میں اردن کی وزیر منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون زینا توکان، تاجکستان کے وزیر خزانہ قہردزا فائز الدین اور ویسٹ افریقن ڈیولپمنٹ بینک کے صدر سرج ایکو شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں، خاص طور پر معدنیات و کان کنی اور جدید ٹیکنالوجیز جیسے اے آئی، بلاک چین اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں۔ انہوں نے ریکوڈک کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ملک کے اقتصادی اور توانائی کے مستقبل کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پروجیکٹ کی مالیاتی تکمیل سات ارب ڈالر کی ہے، جس میں آئی ایف سی نے مرکزی کردار ادا کیا اور یو ایس ایگرم بینک نے اہم شراکت دار کے طور پر حصہ لیا۔ پروجیکٹ کی تجارتی آپریشن کے پہلے سال یعنی 2028 میں برآمدات موجودہ برآمدی بنیاد کا تقریباً دس فیصد پیدا کرنے کا امکان ہے، جو ملک کی ترقی اور غیر ملکی زر مبادلہ میں اضافے کا سبب بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب بین الاقوامی جیوپولیٹیکل تعلقات پر سوال کیا گیا، تو وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان ایک ”اینڈ اینڈ“ نقطہ نظر رکھتا ہے، یعنی چین کے ساتھ طویل مدتی تعاون برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ بھی مثبت تعلقات قائم رکھنا۔ انہوں نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب اس انفراسٹرکچر کو تجارتی شراکت داری کے ذریعے کمرشلائز کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماحولیاتی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان میں شدید سیلابوں اور معاشی نقصان کا حوالہ دیا، جس سے ملک کی ترقی پر دباؤ بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے داخلی وسائل کے ذریعے فوری ریلیف اور بچاؤ اقدامات کو ممکن بنایا، تاہم بحالی اور تعمیر نو کے لیے بیرونی مالی معاونت ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے اے آئی ان ایبلڈ ابتدائی انتباہی نظام قائم کیا ہے جو ماہانہ بنیاد پر ماحولیاتی پیشن گوئیاں فراہم کرتا ہے، جس سے منصوبہ بندی اور فوری ردعمل ممکن ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کے وسائل محدود ہیں، اس لیے کثیرالجہتی شراکت داری اور نجی شعبے کی شمولیت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عالمی بینک کے ساتھ پاکستان کے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا ذکر کیا، جس میں تقریباً 20 ارب ڈالر مختص ہیں، اور ایک تہائی رقم ماحولیاتی ریزیلیئنس اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کمی کے لیے مخصوص ہے۔ انہوں نے عالمی ماحولیاتی مالیاتی فنڈز میں سست روی اور پیچیدہ طریقہ کار پر تشویش ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کلائمیٹ ریزیلینس فنڈ کے پہلے ٹرنچ کے طور پر 200 ملین ڈالر موصول ہو چکے ہیں، اور بیرونی مالی وسائل پاکستان کے ماحولیاتی ایڈاپٹیشن ایجنڈے کے لیے ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ریاض میں کلائمٹ ایڈاپٹیشن اینڈ ریزیلیئنس پینل ڈسکشن کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے لیے ایک اہم اقتصادی شراکت دار کے طور پر دوبارہ ابھر رہا ہے، جس کی تازہ مثال ریکوڈک پروجیکٹ کی سات ارب ڈالر کا فنانشل کلوزر ہے، جس میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) اور یو ایس ایگرم بینک نے حصہ لیا۔</strong></p>
<p>پینل ڈسکشن ”موسمیاتی موافقت اور لچک: ہم مطلوبہ سرمایہ کیسے یقینی بنائیں؟“ کے دوران مختلف عالمی مالیاتی رہنما موجود تھے، جن میں اردن کی وزیر منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون زینا توکان، تاجکستان کے وزیر خزانہ قہردزا فائز الدین اور ویسٹ افریقن ڈیولپمنٹ بینک کے صدر سرج ایکو شامل تھے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں، خاص طور پر معدنیات و کان کنی اور جدید ٹیکنالوجیز جیسے اے آئی، بلاک چین اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں۔ انہوں نے ریکوڈک کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ملک کے اقتصادی اور توانائی کے مستقبل کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پروجیکٹ کی مالیاتی تکمیل سات ارب ڈالر کی ہے، جس میں آئی ایف سی نے مرکزی کردار ادا کیا اور یو ایس ایگرم بینک نے اہم شراکت دار کے طور پر حصہ لیا۔ پروجیکٹ کی تجارتی آپریشن کے پہلے سال یعنی 2028 میں برآمدات موجودہ برآمدی بنیاد کا تقریباً دس فیصد پیدا کرنے کا امکان ہے، جو ملک کی ترقی اور غیر ملکی زر مبادلہ میں اضافے کا سبب بنے گا۔</p>
<p>جب بین الاقوامی جیوپولیٹیکل تعلقات پر سوال کیا گیا، تو وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان ایک ”اینڈ اینڈ“ نقطہ نظر رکھتا ہے، یعنی چین کے ساتھ طویل مدتی تعاون برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ بھی مثبت تعلقات قائم رکھنا۔ انہوں نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب اس انفراسٹرکچر کو تجارتی شراکت داری کے ذریعے کمرشلائز کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ماحولیاتی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان میں شدید سیلابوں اور معاشی نقصان کا حوالہ دیا، جس سے ملک کی ترقی پر دباؤ بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے داخلی وسائل کے ذریعے فوری ریلیف اور بچاؤ اقدامات کو ممکن بنایا، تاہم بحالی اور تعمیر نو کے لیے بیرونی مالی معاونت ناگزیر ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے اے آئی ان ایبلڈ ابتدائی انتباہی نظام قائم کیا ہے جو ماہانہ بنیاد پر ماحولیاتی پیشن گوئیاں فراہم کرتا ہے، جس سے منصوبہ بندی اور فوری ردعمل ممکن ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کے وسائل محدود ہیں، اس لیے کثیرالجہتی شراکت داری اور نجی شعبے کی شمولیت ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے عالمی بینک کے ساتھ پاکستان کے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا ذکر کیا، جس میں تقریباً 20 ارب ڈالر مختص ہیں، اور ایک تہائی رقم ماحولیاتی ریزیلیئنس اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کمی کے لیے مخصوص ہے۔ انہوں نے عالمی ماحولیاتی مالیاتی فنڈز میں سست روی اور پیچیدہ طریقہ کار پر تشویش ظاہر کی۔</p>
<p>آخر میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کلائمیٹ ریزیلینس فنڈ کے پہلے ٹرنچ کے طور پر 200 ملین ڈالر موصول ہو چکے ہیں، اور بیرونی مالی وسائل پاکستان کے ماحولیاتی ایڈاپٹیشن ایجنڈے کے لیے ناگزیر ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280396</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Dec 2025 15:51:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/11154910e3fcc19.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/11154910e3fcc19.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
