<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:29:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:29:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سال 2025، ایف بی آر کے خلاف وفاقی محتسب کو ریکارڈ 35 ہزار 716 شکایات موصول</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280386/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی ٹیکس محتسب( ایف ٹی او) نے جنوری تا دسمبر 2025 کے دوران ایف بی آر کے خلاف 35 ہزار 716 شکایات موصول ہونے کی اطلاع دی ہے، جو ایک ریکارڈ تعداد ہے، جبکہ ایف بی آر نے ایف ٹی او کی جانب سے دی گئی 98 فیصد سفارشات پر عملدرآمد کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز ایف ٹی او سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے فیڈرل ٹیکس محتسب ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے اپنے دورِ ملازمت خصوصاً گزشتہ ایک سال کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر 23 ارب روپے سے زائد کی ریکوریز ہوئیں اور شکایات کے حل کا اوسط دورانیہ 34 دن رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2021 میں صرف 2867 شکایات موصول ہوئیں، تاہم ملک بھر میں آگاہی مہم اور مشاورتی سیشنز کے نتیجے میں شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بعد ازاں 2022 میں شکایات کی تعداد 6106، 2023 میں 7889، اور 2024 میں 12 ہزار 742 تک پہنچ گئی۔ موجودہ سال 2025 میں اب تک 35 ہزار 716 شکایات درج ہو چکی ہیں، جو ٹیکس دہندگان کے اس فورم پر بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر  آصف محمود جاہ کے مطابق ایف ٹی او نے نہ صرف سفارشات جاری کیں بلکہ ان پر عملدرآمد کی بھی بھرپور نگرانی کی، جس کے نتیجے میں 98 فیصد سفارشات پر عمل کیا گیا۔ صدرِ پاکستان نے بھی تقریباً 97 فیصد سفارشات کو برقرار رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار سالوں میں مجموعی طور پر 64 ہزار 664 شکایات داخل ہوئیں، جو گزشتہ 21 سال کے دوران پانچ ادوار میں موصول ہونے والی 37 ہزار 118 شکایات سے کہیں زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر  آصف محمود جاہ نے کہا کہ انہوں نے او آئی سی او ایمبڈزمین ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل اور فورم آف پاکستان امبڈزمین کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایف ٹی او نے سفارتی شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی سیل قائم کیا جس کے ذریعے اسلام آباد میں موجود سفارتی برادری کے ساتھ براہِ راست رابطہ کر کے ان کے ٹیکس سے متعلق مسائل کو فوری طور پر حل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آج بنگلادیش اور تنزانیہ جیسے ممالک بھی پاکستان کے ٹیکس محتسب کے ماڈل کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کے فروغ کو بھی ترجیح دی گئی۔ سال 2025 کے سرکاری انٹرن شپ پروگرام میں ملک بھر سے 150 سے زائد نوجوانوں نے شرکت کی اور انہیں شکایات کے حل، تحقیق، آگاہی اور ادارہ جاتی رابطوں کے حوالے سے عملی تربیت فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی ٹیکس محتسب( ایف ٹی او) نے جنوری تا دسمبر 2025 کے دوران ایف بی آر کے خلاف 35 ہزار 716 شکایات موصول ہونے کی اطلاع دی ہے، جو ایک ریکارڈ تعداد ہے، جبکہ ایف بی آر نے ایف ٹی او کی جانب سے دی گئی 98 فیصد سفارشات پر عملدرآمد کیا۔</strong></p>
<p>بدھ کے روز ایف ٹی او سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے فیڈرل ٹیکس محتسب ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے اپنے دورِ ملازمت خصوصاً گزشتہ ایک سال کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر 23 ارب روپے سے زائد کی ریکوریز ہوئیں اور شکایات کے حل کا اوسط دورانیہ 34 دن رہا۔</p>
<p>سال 2021 میں صرف 2867 شکایات موصول ہوئیں، تاہم ملک بھر میں آگاہی مہم اور مشاورتی سیشنز کے نتیجے میں شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بعد ازاں 2022 میں شکایات کی تعداد 6106، 2023 میں 7889، اور 2024 میں 12 ہزار 742 تک پہنچ گئی۔ موجودہ سال 2025 میں اب تک 35 ہزار 716 شکایات درج ہو چکی ہیں، جو ٹیکس دہندگان کے اس فورم پر بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر  آصف محمود جاہ کے مطابق ایف ٹی او نے نہ صرف سفارشات جاری کیں بلکہ ان پر عملدرآمد کی بھی بھرپور نگرانی کی، جس کے نتیجے میں 98 فیصد سفارشات پر عمل کیا گیا۔ صدرِ پاکستان نے بھی تقریباً 97 فیصد سفارشات کو برقرار رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار سالوں میں مجموعی طور پر 64 ہزار 664 شکایات داخل ہوئیں، جو گزشتہ 21 سال کے دوران پانچ ادوار میں موصول ہونے والی 37 ہزار 118 شکایات سے کہیں زیادہ ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر  آصف محمود جاہ نے کہا کہ انہوں نے او آئی سی او ایمبڈزمین ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل اور فورم آف پاکستان امبڈزمین کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایف ٹی او نے سفارتی شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی سیل قائم کیا جس کے ذریعے اسلام آباد میں موجود سفارتی برادری کے ساتھ براہِ راست رابطہ کر کے ان کے ٹیکس سے متعلق مسائل کو فوری طور پر حل کیا گیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آج بنگلادیش اور تنزانیہ جیسے ممالک بھی پاکستان کے ٹیکس محتسب کے ماڈل کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کے فروغ کو بھی ترجیح دی گئی۔ سال 2025 کے سرکاری انٹرن شپ پروگرام میں ملک بھر سے 150 سے زائد نوجوانوں نے شرکت کی اور انہیں شکایات کے حل، تحقیق، آگاہی اور ادارہ جاتی رابطوں کے حوالے سے عملی تربیت فراہم کی گئی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025<br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280386</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Dec 2025 13:53:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/11135046980ce25.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/11135046980ce25.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
