<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:48:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 08:48:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا کی اپوزیشن رہنما نوبل جیتنے کے بعد روپوشی سے سامنے آگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280380/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو تقریباً ایک سال کی روپوش زندگی کے بعد اوسلو میں اپنے حامیوں سے ملاقات کے لیے سامنے آئیں، جہاں انہوں نے جمعرات کو نوبل امن انعام جیتا۔ ماریا کورینا ماچاڈو نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ واپس وینزویلا جائیں گی اور انہیں اپنے اقدامات کے خطرات کا علم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوبل انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ ماریا کورینا ماچاڈو نے تقریب میں شرکت کے لیے ہر ممکن کوشش کی، جو انتہائی خطرناک سفر تھا، لیکن وہ وقت پر پہنچ نہیں سکیں۔ انعام ان کی بیٹی نے وصول کیا اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے تحت ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کی رات ماریا کورینا ماچاڈو گرینڈ ہوٹل کے بالکونی پر نمودار ہوئیں اور حامیوں کو ہاتھ ہلا کر اور بوسے بھیج کر خوش آمدید کہا۔ حامیوں نے لیبرٹاد کے نعرے لگائے اور کئی افراد نے ان سے گلے مل کر دعائیں کیں۔ ماریا کورینا ماچاڈو نے کہا کہ رٌوپوشی  کے دوران وہ اپنی بچوں کی زندگی کے اہم لمحات سے محروم رہیں، جیسے گریجویشن اور شادیوں میں شرکت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوبل انسٹی ٹیوٹ نے امن انعام ان کو آمرانہ حکومت سے جمہوری تبدیلی کے لیے جدوجہد کے اعتراف میں دیا۔ اپنی  تقریر میں ماریا کورینا ماچاڈو نے وینزویلا کے عوام سے مادورو کی گرفت کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت حاصل کرنے کے لیے آزادی کے لیے لڑنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماریا کورینا ماچاڈو نے الزام لگایا کہ مادورو نے جولائی 2024 کے انتخابات چوری کیے، جس میں وہ حصہ نہیں لے سکیں، اور اپوزیشن کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز یوریوٹیا نے انتخابات جیتے، جو اب جلاوطنی میں ہیں۔ ماریا کورینا ماچاڈو نے انتخاب کے بعد رٌوپوشی اختیار کی تھی اور جنوری میں کاراکاس میں آخری مرتبہ عوامی طور پر دیکھی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماریا کورینا ماچاڈو کے اوسلو آنے کا فیصلہ ذاتی اور سیاسی خطرات کے ساتھ ہے۔ ان کے واپس جانے پر گرفتاری کا خطرہ ہے، کیونکہ یہ ایک علامتی اقدام کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ماریا کورینا ماچاڈو نے مادورو کے دور میں اغوا، تشدد اور ریاستی دہشت گردی کو انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب کے دوران ان کی والدہ، تین بیٹیاں اور کچھ لاطینی امریکی رہنما بھی موجود تھے۔ ماریا کورینا ماچاڈو نے اپنی نوبل ٹرافی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی سونپی، جس سے تنقید بھی ہوئی، جبکہ اوسلو میں امریکہ کی حالیہ فوجی حرکات اور ڈرگ اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں جاری تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو تقریباً ایک سال کی روپوش زندگی کے بعد اوسلو میں اپنے حامیوں سے ملاقات کے لیے سامنے آئیں، جہاں انہوں نے جمعرات کو نوبل امن انعام جیتا۔ ماریا کورینا ماچاڈو نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ واپس وینزویلا جائیں گی اور انہیں اپنے اقدامات کے خطرات کا علم ہے۔</strong></p>
<p>نوبل انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ ماریا کورینا ماچاڈو نے تقریب میں شرکت کے لیے ہر ممکن کوشش کی، جو انتہائی خطرناک سفر تھا، لیکن وہ وقت پر پہنچ نہیں سکیں۔ انعام ان کی بیٹی نے وصول کیا اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے تحت ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کی۔</p>
<p>جمعرات کی رات ماریا کورینا ماچاڈو گرینڈ ہوٹل کے بالکونی پر نمودار ہوئیں اور حامیوں کو ہاتھ ہلا کر اور بوسے بھیج کر خوش آمدید کہا۔ حامیوں نے لیبرٹاد کے نعرے لگائے اور کئی افراد نے ان سے گلے مل کر دعائیں کیں۔ ماریا کورینا ماچاڈو نے کہا کہ رٌوپوشی  کے دوران وہ اپنی بچوں کی زندگی کے اہم لمحات سے محروم رہیں، جیسے گریجویشن اور شادیوں میں شرکت۔</p>
<p>نوبل انسٹی ٹیوٹ نے امن انعام ان کو آمرانہ حکومت سے جمہوری تبدیلی کے لیے جدوجہد کے اعتراف میں دیا۔ اپنی  تقریر میں ماریا کورینا ماچاڈو نے وینزویلا کے عوام سے مادورو کی گرفت کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت حاصل کرنے کے لیے آزادی کے لیے لڑنا ضروری ہے۔</p>
<p>ماریا کورینا ماچاڈو نے الزام لگایا کہ مادورو نے جولائی 2024 کے انتخابات چوری کیے، جس میں وہ حصہ نہیں لے سکیں، اور اپوزیشن کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز یوریوٹیا نے انتخابات جیتے، جو اب جلاوطنی میں ہیں۔ ماریا کورینا ماچاڈو نے انتخاب کے بعد رٌوپوشی اختیار کی تھی اور جنوری میں کاراکاس میں آخری مرتبہ عوامی طور پر دیکھی گئیں۔</p>
<p>ماریا کورینا ماچاڈو کے اوسلو آنے کا فیصلہ ذاتی اور سیاسی خطرات کے ساتھ ہے۔ ان کے واپس جانے پر گرفتاری کا خطرہ ہے، کیونکہ یہ ایک علامتی اقدام کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ماریا کورینا ماچاڈو نے مادورو کے دور میں اغوا، تشدد اور ریاستی دہشت گردی کو انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا۔</p>
<p>تقریب کے دوران ان کی والدہ، تین بیٹیاں اور کچھ لاطینی امریکی رہنما بھی موجود تھے۔ ماریا کورینا ماچاڈو نے اپنی نوبل ٹرافی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی سونپی، جس سے تنقید بھی ہوئی، جبکہ اوسلو میں امریکہ کی حالیہ فوجی حرکات اور ڈرگ اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں جاری تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280380</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Dec 2025 12:35:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/1112325710fd12d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/1112325710fd12d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
