<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریکوڈک کیلئے امریکی سرمایہ کاری میں اضافہ، دو ارب ڈالر کا آلات و خدمات کا پیکج متوقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280364/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی نائب مشن چیف اور پاکستان میں قائم مقام سفیر نٹالی اے بیکر نے بدھ کے روز کہا کہ امریکی ایکزم بینک کی جانب سے ریکوڈیک منصوبے کے لیے منظور کیے گئے ایک ارب پچیس کروڑ ڈالر کے مالی تعاون سے امریکہ کی اعلیٰ معیار کی کان کنی کے آلات اور خدمات کی دو ارب ڈالر تک کی فراہمی ممکن ہوگی، جو منصوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے اپنے ویڈیو بیان میں نٹالی اے بیکر نے بلوچستان میں تانبے اور سونے کے بڑے ذخائر پر مبنی ریکوڈک کان کنی منصوبے کے لیے اس اہم مالیاتی پیکج کو ایک سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں امریکہ اور پاکستان کی کمپنیوں کے درمیان، خصوصاً اہم معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں، تعاون میں مزید اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ دونوں ممالک کے لیے روزگار اور خوشحالی کے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ ان کے مطابق یہ مالی معاونت آئندہ سالوں میں منصوبے کے لیے ضروری آلات اور خدمات فراہم کرے گی، جس سے امریکہ میں چھ ہزار اور پاکستان میں سات ہزار پانچ سو ملازمتیں پیدا ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نٹالی اے بیکر کے مطابق یہ کان مستقبل کے کان کنی منصوبوں کے لیے ایک کامیاب نمونہ ثابت ہوگی، جو امریکی برآمد کنندگان اور پاکستانی مقامی برادریوں دونوں کے لیے فائدہ مند ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون کی بدولت امریکی ساختہ کان کنی کی ٹیکنالوجی، مشینری اور آپریشنل خدمات پاکستان منتقل ہوں گی، جو دونوں ممالک میں ترقی کو آگے بڑھائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع تر خارجہ حکمت عملی کے مطابق ہے، جس میں تجارتی شراکت داریوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایسے معاہدوں کو امریکی سفارت کاری کا بنیادی ستون سمجھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکوڈک منصوبہ، جو بارک گولڈ کے اشتراک سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ترقی کر رہا ہے، ابتدائی طور پر سالانہ دو لاکھ میٹرک ٹن تانبے کی پیداوار دے گا، جبکہ بعد کے مراحل میں یہ مقدار دوگنی ہو جائے گی۔ طویل مدت میں اس منصوبے سے ستر ارب ڈالر سے زیادہ کا  کیش فلو حاصل ہونے کی توقع ہے، جو اسے دنیا کے منافع بخش ترین کان کنی منصوبوں میں شامل کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بٹالی اے بیکر نے کہا کہ یہ منصوبہ صرف تانبے اور سونے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد پاکستان کی اہم معدنیات کی صلاحیت کو کھولنا ہے، جو برقی گاڑیوں، قابل تجدید توانائی اور عالمی پائیدار صنعتوں کے لیے ناگزیر ہیں۔ منصوبے کے تحت پہلے سال میں دو ارب اٹھائیس کروڑ ڈالر کی برآمدی آمدنی متوقع ہے، جو پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً دس فیصد بنتی ہے۔ اس سے ملک کی معیشت کو مضبوط سہارا ملے گا، تجارتی خسارہ کم ہوگا اور مزید غیر ملکی سرمایہ کاری متوجہ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکوڈک منصوبہ بین الاقوامی فنانس کارپوریشن اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر سے زائد کے مجموعی مالیاتی پیکج کا حصہ ہے، جو اس منصوبے کی اہمیت اور عالمی اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی نائب مشن چیف اور پاکستان میں قائم مقام سفیر نٹالی اے بیکر نے بدھ کے روز کہا کہ امریکی ایکزم بینک کی جانب سے ریکوڈیک منصوبے کے لیے منظور کیے گئے ایک ارب پچیس کروڑ ڈالر کے مالی تعاون سے امریکہ کی اعلیٰ معیار کی کان کنی کے آلات اور خدمات کی دو ارب ڈالر تک کی فراہمی ممکن ہوگی، جو منصوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے اپنے ویڈیو بیان میں نٹالی اے بیکر نے بلوچستان میں تانبے اور سونے کے بڑے ذخائر پر مبنی ریکوڈک کان کنی منصوبے کے لیے اس اہم مالیاتی پیکج کو ایک سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں امریکہ اور پاکستان کی کمپنیوں کے درمیان، خصوصاً اہم معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں، تعاون میں مزید اضافہ ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ دونوں ممالک کے لیے روزگار اور خوشحالی کے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ ان کے مطابق یہ مالی معاونت آئندہ سالوں میں منصوبے کے لیے ضروری آلات اور خدمات فراہم کرے گی، جس سے امریکہ میں چھ ہزار اور پاکستان میں سات ہزار پانچ سو ملازمتیں پیدا ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>نٹالی اے بیکر کے مطابق یہ کان مستقبل کے کان کنی منصوبوں کے لیے ایک کامیاب نمونہ ثابت ہوگی، جو امریکی برآمد کنندگان اور پاکستانی مقامی برادریوں دونوں کے لیے فائدہ مند ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون کی بدولت امریکی ساختہ کان کنی کی ٹیکنالوجی، مشینری اور آپریشنل خدمات پاکستان منتقل ہوں گی، جو دونوں ممالک میں ترقی کو آگے بڑھائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع تر خارجہ حکمت عملی کے مطابق ہے، جس میں تجارتی شراکت داریوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایسے معاہدوں کو امریکی سفارت کاری کا بنیادی ستون سمجھتی ہے۔</p>
<p>ریکوڈک منصوبہ، جو بارک گولڈ کے اشتراک سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ترقی کر رہا ہے، ابتدائی طور پر سالانہ دو لاکھ میٹرک ٹن تانبے کی پیداوار دے گا، جبکہ بعد کے مراحل میں یہ مقدار دوگنی ہو جائے گی۔ طویل مدت میں اس منصوبے سے ستر ارب ڈالر سے زیادہ کا  کیش فلو حاصل ہونے کی توقع ہے، جو اسے دنیا کے منافع بخش ترین کان کنی منصوبوں میں شامل کرتا ہے۔</p>
<p>بٹالی اے بیکر نے کہا کہ یہ منصوبہ صرف تانبے اور سونے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد پاکستان کی اہم معدنیات کی صلاحیت کو کھولنا ہے، جو برقی گاڑیوں، قابل تجدید توانائی اور عالمی پائیدار صنعتوں کے لیے ناگزیر ہیں۔ منصوبے کے تحت پہلے سال میں دو ارب اٹھائیس کروڑ ڈالر کی برآمدی آمدنی متوقع ہے، جو پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً دس فیصد بنتی ہے۔ اس سے ملک کی معیشت کو مضبوط سہارا ملے گا، تجارتی خسارہ کم ہوگا اور مزید غیر ملکی سرمایہ کاری متوجہ ہوگی۔</p>
<p>ریکوڈک منصوبہ بین الاقوامی فنانس کارپوریشن اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر سے زائد کے مجموعی مالیاتی پیکج کا حصہ ہے، جو اس منصوبے کی اہمیت اور عالمی اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280364</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Dec 2025 09:05:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/11090320883d20e.webp" type="image/webp" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/11090320883d20e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
