<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فائیو فار ففٹی فریم ورک کے تحت اصلاحات کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280346/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معروف پاکستانی امریکی معیشت دان اور پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر آف اکنامکس عاطف میاں نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک نئی اقتصادی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی جس میں مسلسل آمدنی میں اضافہ کے لیے فائیو فار ففٹی (5/50) فریم ورک کے تحت اقدامات کیے جائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف میاں نے منگل کو اپنی ویب سائٹ atifmian.com پر لکھا کہ مجوزہ 5/50 وژن کے تحت پاکستان کو آئندہ 50 سال کے لیے سالانہ فی کس آمدنی میں 5 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کرنا چاہیے تاکہ اوسط پاکستانی دنیا کے اوسط شہری کے برابر کمانے کے قابل ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جنوبی کوریا اور چین کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ممالک کبھی پاکستان کے برابر آمدنی کے حامل تھے لیکن انہوں نے مضبوط ادارے اور پالیسیاں قائم کر کے مسلسل بلند شرح نمو حاصل کی۔ عاطف میان کے مطابق، 5/50 وژن ایک قابل حصول ہدف ہے اور پاکستان بہترین صورتِ حال میں اس سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف میاں کا ماننا ہے کہ ان کا فائیو فار ففٹی وژن پاکستان کے لیے انقلابی ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے پچھلی نصف صدی میں 5/50 وژن پر عمل کیا ہوتا تو آج یہ دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں شامل ہوتا اور اس کی عالمی حیثیت فرانس کے برابر ہوتی۔ بدقسمتی سے، پچھلے پچاس سال میں پاکستان کی اقتصادی کارکردگی اس وژن سے بہت پیچھے رہی اور ترقی کا رحجان 1980 کی دہائی میں ناکافی 3.1 فیصد فی کس شرح سے کم ہو کر حالیہ سالوں میں تقریباً رکاوٹ کا شکار ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف میاں کے مطابق 5/50 وژن کو حاصل کرنے کے لیے، پاکستان کو سیاسی معنوں میں نہیں بلکہ اسٹریٹجک پالیسی کے لحاظ سے نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں ترقی کے تجربات کے تجزیے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ممالک عام طور پر ترقی کے دو الگ الگ نظاموں (گروتھ ریجیمز) میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک رکاوٹ کے نظام میں پھنسے رہتے ہیں: انہیں کبھی کبھار بلند شرح نمو حاصل ہو جاتی ہے، لیکن وہ جلد ہی معمول پر واپس آجاتی ہے اور وہ دنیا کے اوسط سے کبھی نہیں بڑھ پاتے۔ دوسرے ممالک ایسے ادارے اور پالیسیاں قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو مسلسل بلند شرح نمو فراہم کرتی ہیں: بیرونی جھٹکے چند سال کے لیے انہیں سست کرسکتے ہیں لیکن وہ جلد ہی طویل مدتی مضبوط راستے پر واپس آ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان جمود کے نظام میں پھنس گیا ہے، جس کی وجہ کئی پالیسی کی غلطیاں ہیں، جن میں آئی ایم ایف پروگرام بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف میاں کے مطابق جاری آئی ایم ایف پروگرام کی لیکویڈٹی سپورٹ کے لیے شدید ضرورت تھی لیکن یہ پائیدار ترقی فراہم کرنے کے لیے ناقص طریقے سے ڈیزائن کیا گیا۔ مثال کے طور پر، مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے بجلی پر ٹیکسز میں اضافہ کیا گیا، جس سے یہ دنیا کی مہنگی ترین بجلی میں شامل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان کی پالیسی ساز قیادت اب بھی سرمایہ کاری کو صحیح طرح نہیں سمجھتی اور بار بار قرضے کے ذریعے آنے والے ڈالرز کو ترقی پیدا کرنے والے سرمایہ کے طور پر غلط سمجھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ناقص ڈیزائن شدہ ایس آئی ایف سی اس کی تازہ مثال ہے اور اس سے پہلے کے غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاہدے بھی اسی طرح ناقص تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرِ اقتصادیات نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس کوئی سنجیدہ بیرونی اکاؤنٹ پالیسی موجود نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کئی دہائیوں پہلے واضح ہونا چاہیے تھا کہ زائد قیمت والے زر مبادلہ کی شرح برقرار رکھنا اور غیر پیداواری قرضوں کی حوصلہ افزائی کرنا برے نتائج دے گا، لیکن مالیاتی نظام پہلے ہی درہم برہم ہو چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف میان کے مطابق، 5/50 وژن کو حقیقت بنانے کے لیے پاکستان کو سوچ میں نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے، تاہم ایک کامیاب نظام کی تبدیلی کے لیے فیصلہ سازی کے عمل میں سنجیدہ سرمایہ کاری ضروری ہے، جس میں مضبوط ڈیٹا انفراسٹرکچر، آزاد تجزیاتی صلاحیت رکھنے والے ملکی تحقیقاتی ادارے، اور اعلیٰ سطح پر اہل تکنیکی ماہرین جن کے پاس حقیقی اختیارات تفویض کیے گئے ہوں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑھ کر، کامیاب نظام کی تبدیلی کے لیے حوصلے کی ضرورت ہے، وہ حوصلہ جو پس ماندہ مفادات سے الگ ہونے اور مختلف انداز میں سوچنے اور عمل کرنے کا ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معروف پاکستانی امریکی معیشت دان اور پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر آف اکنامکس عاطف میاں نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک نئی اقتصادی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی جس میں مسلسل آمدنی میں اضافہ کے لیے فائیو فار ففٹی (5/50) فریم ورک کے تحت اقدامات کیے جائیں۔</strong></p>
<p>عاطف میاں نے منگل کو اپنی ویب سائٹ atifmian.com پر لکھا کہ مجوزہ 5/50 وژن کے تحت پاکستان کو آئندہ 50 سال کے لیے سالانہ فی کس آمدنی میں 5 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کرنا چاہیے تاکہ اوسط پاکستانی دنیا کے اوسط شہری کے برابر کمانے کے قابل ہو جائے۔</p>
<p>انہوں نے جنوبی کوریا اور چین کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ممالک کبھی پاکستان کے برابر آمدنی کے حامل تھے لیکن انہوں نے مضبوط ادارے اور پالیسیاں قائم کر کے مسلسل بلند شرح نمو حاصل کی۔ عاطف میان کے مطابق، 5/50 وژن ایک قابل حصول ہدف ہے اور پاکستان بہترین صورتِ حال میں اس سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔</p>
<p>عاطف میاں کا ماننا ہے کہ ان کا فائیو فار ففٹی وژن پاکستان کے لیے انقلابی ثابت ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے پچھلی نصف صدی میں 5/50 وژن پر عمل کیا ہوتا تو آج یہ دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں شامل ہوتا اور اس کی عالمی حیثیت فرانس کے برابر ہوتی۔ بدقسمتی سے، پچھلے پچاس سال میں پاکستان کی اقتصادی کارکردگی اس وژن سے بہت پیچھے رہی اور ترقی کا رحجان 1980 کی دہائی میں ناکافی 3.1 فیصد فی کس شرح سے کم ہو کر حالیہ سالوں میں تقریباً رکاوٹ کا شکار ہو گیا۔</p>
<p>عاطف میاں کے مطابق 5/50 وژن کو حاصل کرنے کے لیے، پاکستان کو سیاسی معنوں میں نہیں بلکہ اسٹریٹجک پالیسی کے لحاظ سے نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔</p>
<p>دنیا بھر میں ترقی کے تجربات کے تجزیے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ممالک عام طور پر ترقی کے دو الگ الگ نظاموں (گروتھ ریجیمز) میں آتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک رکاوٹ کے نظام میں پھنسے رہتے ہیں: انہیں کبھی کبھار بلند شرح نمو حاصل ہو جاتی ہے، لیکن وہ جلد ہی معمول پر واپس آجاتی ہے اور وہ دنیا کے اوسط سے کبھی نہیں بڑھ پاتے۔ دوسرے ممالک ایسے ادارے اور پالیسیاں قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو مسلسل بلند شرح نمو فراہم کرتی ہیں: بیرونی جھٹکے چند سال کے لیے انہیں سست کرسکتے ہیں لیکن وہ جلد ہی طویل مدتی مضبوط راستے پر واپس آ جاتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان جمود کے نظام میں پھنس گیا ہے، جس کی وجہ کئی پالیسی کی غلطیاں ہیں، جن میں آئی ایم ایف پروگرام بھی شامل ہے۔</p>
<p>عاطف میاں کے مطابق جاری آئی ایم ایف پروگرام کی لیکویڈٹی سپورٹ کے لیے شدید ضرورت تھی لیکن یہ پائیدار ترقی فراہم کرنے کے لیے ناقص طریقے سے ڈیزائن کیا گیا۔ مثال کے طور پر، مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے بجلی پر ٹیکسز میں اضافہ کیا گیا، جس سے یہ دنیا کی مہنگی ترین بجلی میں شامل ہوگئی۔</p>
<p>انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان کی پالیسی ساز قیادت اب بھی سرمایہ کاری کو صحیح طرح نہیں سمجھتی اور بار بار قرضے کے ذریعے آنے والے ڈالرز کو ترقی پیدا کرنے والے سرمایہ کے طور پر غلط سمجھتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ناقص ڈیزائن شدہ ایس آئی ایف سی اس کی تازہ مثال ہے اور اس سے پہلے کے غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاہدے بھی اسی طرح ناقص تھے۔</p>
<p>ماہرِ اقتصادیات نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس کوئی سنجیدہ بیرونی اکاؤنٹ پالیسی موجود نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کئی دہائیوں پہلے واضح ہونا چاہیے تھا کہ زائد قیمت والے زر مبادلہ کی شرح برقرار رکھنا اور غیر پیداواری قرضوں کی حوصلہ افزائی کرنا برے نتائج دے گا، لیکن مالیاتی نظام پہلے ہی درہم برہم ہو چکا تھا۔</p>
<p>عاطف میان کے مطابق، 5/50 وژن کو حقیقت بنانے کے لیے پاکستان کو سوچ میں نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے، تاہم ایک کامیاب نظام کی تبدیلی کے لیے فیصلہ سازی کے عمل میں سنجیدہ سرمایہ کاری ضروری ہے، جس میں مضبوط ڈیٹا انفراسٹرکچر، آزاد تجزیاتی صلاحیت رکھنے والے ملکی تحقیقاتی ادارے، اور اعلیٰ سطح پر اہل تکنیکی ماہرین جن کے پاس حقیقی اختیارات تفویض کیے گئے ہوں شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑھ کر، کامیاب نظام کی تبدیلی کے لیے حوصلے کی ضرورت ہے، وہ حوصلہ جو پس ماندہ مفادات سے الگ ہونے اور مختلف انداز میں سوچنے اور عمل کرنے کا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280346</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Dec 2025 14:07:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/101211444fbde81.webp" type="image/webp" medium="image" height="1123" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/101211444fbde81.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
