<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تجارتی عدم توازن، اسلام آباد اور جکارتہ کا 4 ارب ڈالر کے معاہدے کا جائزہ لینے پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280328/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور انڈونیشیا نے منگل کو انڈونیشیا-پاکستان پرفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (آئی پی-پی ٹی اے) کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا، جس کی مالیت تقریباً 4 ارب ڈالر ہے، تاکہ دو طرفہ تجارت کو فروغ دیا جا سکے اور موجودہ تجارتی عدم توازن کو دور کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایگریمنٹ 2012 سے نافذ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان متعدد مصنوعات پر ترجیحی ٹیرف رعایتیں فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، جس سے اقتصادی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت خاص طور پر ٹیکسٹائل، زرعی اور مشینی شعبوں کی مصنوعات کم ٹیرف کے ذریعے ایک دوسرے کی مارکیٹ میں زیادہ مسابقتی ہو جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جائزے کا مقصد معاہدے کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اور ٹیرف کی شرحوں کو بدلتی ہوئی تجارتی صورت حال اور دونوں ممالک کے مفادات کے مطابق ڈھالنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ وزیر اعظم شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کے درمیان وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملاقات کے دوران طے پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کیا اور آئی پی -پی ٹی اے کے تحت تجارت کو بڑھانے پر زور دیا تاکہ پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی-پی ٹی اے کی وجہ سے پہلے ہی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ ہوا ہے، تاہم دونوں فریقین نے موجودہ تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا، جو اس وقت انڈونیشیا کے حق میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارت کے علاوہ، دونوں رہنماؤں نے سرمایہ کاری کے تعلقات کو گہرا کرنے پر بھی زور دیا۔ صدر پرابووو سوبیانتو نے انڈونیشیا کے سوورین ویلتھ فنڈ اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل  کے ذریعے تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا اور صحت، تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت جیسے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے پر بات کی۔ دونوں ممالک نے حلال صنعتوں، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا، جہاں ترقی کے بڑے مواقع موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی پی-پی ٹی اے حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات، جیسے کھانے، ادویات اور کاسمیٹکس کی تجارت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ پاکستان اور انڈونیشیا اس قسم کی مصنوعات کے بڑے پیدا کنندہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے خطے کی سلامتی کے خدشات، خاص طور پر کشمیر اور غزہ کے موجودہ بحران پر روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل کے عزم کا اعادہ کیا، اور وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ میں ہنگامی اقدامات اور انسانی امداد فراہم کرنے میں انڈونیشیا کے فعال کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان 75 سالہ سفارتی تعلقات کی مناسبت سے کیا گیا اور باہمی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی مفادات کے فروغ پر زور دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی اور سرمایہ کاری کے علاوہ، بات چیت میں دفاع، سلامتی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون کے مواقع پر بھی غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور انڈونیشیا نے منگل کو انڈونیشیا-پاکستان پرفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (آئی پی-پی ٹی اے) کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا، جس کی مالیت تقریباً 4 ارب ڈالر ہے، تاکہ دو طرفہ تجارت کو فروغ دیا جا سکے اور موجودہ تجارتی عدم توازن کو دور کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>یہ ایگریمنٹ 2012 سے نافذ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان متعدد مصنوعات پر ترجیحی ٹیرف رعایتیں فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، جس سے اقتصادی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت خاص طور پر ٹیکسٹائل، زرعی اور مشینی شعبوں کی مصنوعات کم ٹیرف کے ذریعے ایک دوسرے کی مارکیٹ میں زیادہ مسابقتی ہو جاتی ہیں۔</p>
<p>اس جائزے کا مقصد معاہدے کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اور ٹیرف کی شرحوں کو بدلتی ہوئی تجارتی صورت حال اور دونوں ممالک کے مفادات کے مطابق ڈھالنا ہے۔</p>
<p>یہ معاہدہ وزیر اعظم شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کے درمیان وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملاقات کے دوران طے پایا۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کیا اور آئی پی -پی ٹی اے کے تحت تجارت کو بڑھانے پر زور دیا تاکہ پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>آئی پی-پی ٹی اے کی وجہ سے پہلے ہی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ ہوا ہے، تاہم دونوں فریقین نے موجودہ تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا، جو اس وقت انڈونیشیا کے حق میں ہے۔</p>
<p>تجارت کے علاوہ، دونوں رہنماؤں نے سرمایہ کاری کے تعلقات کو گہرا کرنے پر بھی زور دیا۔ صدر پرابووو سوبیانتو نے انڈونیشیا کے سوورین ویلتھ فنڈ اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل  کے ذریعے تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا اور صحت، تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت جیسے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کرنے پر بات کی۔ دونوں ممالک نے حلال صنعتوں، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا، جہاں ترقی کے بڑے مواقع موجود ہیں۔</p>
<p>آئی پی-پی ٹی اے حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات، جیسے کھانے، ادویات اور کاسمیٹکس کی تجارت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ پاکستان اور انڈونیشیا اس قسم کی مصنوعات کے بڑے پیدا کنندہ ہیں۔</p>
<p>ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے خطے کی سلامتی کے خدشات، خاص طور پر کشمیر اور غزہ کے موجودہ بحران پر روشنی ڈالی۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل کے عزم کا اعادہ کیا، اور وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ میں ہنگامی اقدامات اور انسانی امداد فراہم کرنے میں انڈونیشیا کے فعال کردار کو سراہا۔</p>
<p>یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان 75 سالہ سفارتی تعلقات کی مناسبت سے کیا گیا اور باہمی اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی مفادات کے فروغ پر زور دیتا ہے۔</p>
<p>تجارتی اور سرمایہ کاری کے علاوہ، بات چیت میں دفاع، سلامتی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون کے مواقع پر بھی غور کیا گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280328</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Dec 2025 09:55:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/1009534037485f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/1009534037485f1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
