<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:25:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:25:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کا پاکستان پر محتاط معاشی پالیسیوں کے تسلسل پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280322/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کو محتاط معاشی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار اور درمیانی مدت کی ترقی کے لیے اصلاحات کو تیز کرنا ہوگا۔ یہ بات انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر اور ایکٹنگ چیئرمین نائجل کلارک نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے ای ایف ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر عملدرآمد کے ذریعے متعدد حالیہ جھٹکوں کے باوجود میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھا ہے۔ ان کے مطابق حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو میں بہتری آئی ہے، مہنگائی کی توقعات قابو میں رہی ہیں، جبکہ مالیاتی اور بیرونی عدم توازن میں کمی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق مالی سال 2026 کے پرائمری بیلنس کے ہدف کے حصول کے ساتھ ساتھ حالیہ تباہ کن سیلاب سے متاثرہ افراد کی فوری امداد کی ضروریات کو پورا کرنا حکومت کی مالیاتی پالیسی پر عملدرآمد کے عزم کا واضح ثبوت ہے۔ آئی ایم ایف نے زور دیا کہ ٹیکس پالیسی میں سادگی اور ٹیکس بیس میں اضافے کے ذریعے محصولات بڑھانا مالیاتی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے تاکہ پاکستان موسمیاتی لچک، سماجی تحفظ، عوامی سرمایہ کاری اور ہیومن کیپیٹل ڈویلپمنٹ کے لیے مزید مالی گنجائش پیدا کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے مطابق سخت مانیٹری پالیسی نے مہنگائی میں کمی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پالیسی کا تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ مہنگائی اسٹیٹ بینک کے ہدف کے دائرے میں رہے۔ ساتھ ہی زرمبادلہ کی مارکیٹ میں گہرائی لانے اور شرح مبادلہ کو لچکدار رہنے کی اجازت دینے پر بھی زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ مالیاتی شعبے کی مضبوط نگرانی اور ریگولیٹری عملدرآمد کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ بینکاری نظام مضبوط اور کیپیٹلائزڈ رہے۔ علاوہ ازیں کیپٹل مارکیٹ کی ترقی سے نجی اور سرکاری شعبے کے لیے مالیاتی ذرائع میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ وقت پر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نے سرکلر ڈیٹ کے حجم اور اس کے اضافی بوجھ میں کمی میں مدد کی ہے، تاہم بجلی اور گیس کے پیداواری اور تقسیم کے اخراجات میں پائیدار کمی لانا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورننس اور انسداد بدعنوانی سے متعلق ڈائیگناسٹک رپورٹ کی اشاعت کو آئندہ اصلاحات کے لیے مثبت قدم قرار دیا گیا اور سرکاری کاروباری اداروں کی گورننس بہتر بنانے، کاروباری ماحول میں بہتری اور معاشی ڈیٹا کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو شدید موسمیاتی خطرات خصوصاً حالیہ سیلاب کے تناظر میں لچک بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی۔ آر ایس ایف پروگرام کے تحت قدرتی آفات کے ردعمل، پانی کے مؤثر استعمال، سرکاری منصوبہ بندی میں موسمیاتی عناصر کے انضمام اور موسمیاتی خطرات کی شفاف معلومات کی فراہمی کے لیے اصلاحات میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے مالی سال 2025 میں پاکستان کی جی ڈی پی نمو 3 فیصد اور 2026 میں 3.2 فیصد ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔ مہنگائی 2024 میں 23.4 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 4.5 فیصد اور 2026 میں 6.3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ بے روزگاری کی شرح 8.3 فیصد سے کم ہو کر 7.5 فیصد تک آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مجموعی بجٹ خسارہ 2024 میں 6.8 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 5.4 فیصد اور 2026 میں 4 فیصد تک ہونے کی توقع ہے، جبکہ پرائمری بیلنس 2026 میں 2.5 فیصد سرپلس پر برقرار رہے گا۔ مجموعی سرکاری قرض 2025 میں 70.6 فیصد اور 2026 میں 69.6 فیصد آف جی ڈی پی کے برابر رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ 2025 میں 0.5 فیصد سرپلس دے سکتا ہے جبکہ 2026 میں معمولی خسارے میں جانے کا امکان ہے۔ زرمبادلہ ذخائر 2024 کے 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2025 میں 14.5 ارب ڈالر اور 2026 میں 17.8 ارب ڈالر ہونے کا تخمینہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید بتایا گیا کہ 28 ماہ پر مشتمل آر ایس ایف پروگرام توانائی، پانی، موسمیاتی خطرات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ ایگزیکٹو بورڈ نے ای ایف ایف کی دوسری اور آر ایس ایف کی پہلی قسط کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر موصول ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کو محتاط معاشی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار اور درمیانی مدت کی ترقی کے لیے اصلاحات کو تیز کرنا ہوگا۔ یہ بات انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہی گئی۔</strong></p>
<p>آئی ایم ایف کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر اور ایکٹنگ چیئرمین نائجل کلارک نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے ای ایف ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر عملدرآمد کے ذریعے متعدد حالیہ جھٹکوں کے باوجود میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھا ہے۔ ان کے مطابق حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو میں بہتری آئی ہے، مہنگائی کی توقعات قابو میں رہی ہیں، جبکہ مالیاتی اور بیرونی عدم توازن میں کمی جاری ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق مالی سال 2026 کے پرائمری بیلنس کے ہدف کے حصول کے ساتھ ساتھ حالیہ تباہ کن سیلاب سے متاثرہ افراد کی فوری امداد کی ضروریات کو پورا کرنا حکومت کی مالیاتی پالیسی پر عملدرآمد کے عزم کا واضح ثبوت ہے۔ آئی ایم ایف نے زور دیا کہ ٹیکس پالیسی میں سادگی اور ٹیکس بیس میں اضافے کے ذریعے محصولات بڑھانا مالیاتی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے تاکہ پاکستان موسمیاتی لچک، سماجی تحفظ، عوامی سرمایہ کاری اور ہیومن کیپیٹل ڈویلپمنٹ کے لیے مزید مالی گنجائش پیدا کر سکے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے مطابق سخت مانیٹری پالیسی نے مہنگائی میں کمی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پالیسی کا تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ مہنگائی اسٹیٹ بینک کے ہدف کے دائرے میں رہے۔ ساتھ ہی زرمبادلہ کی مارکیٹ میں گہرائی لانے اور شرح مبادلہ کو لچکدار رہنے کی اجازت دینے پر بھی زور دیا گیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ مالیاتی شعبے کی مضبوط نگرانی اور ریگولیٹری عملدرآمد کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ بینکاری نظام مضبوط اور کیپیٹلائزڈ رہے۔ علاوہ ازیں کیپٹل مارکیٹ کی ترقی سے نجی اور سرکاری شعبے کے لیے مالیاتی ذرائع میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ وقت پر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نے سرکلر ڈیٹ کے حجم اور اس کے اضافی بوجھ میں کمی میں مدد کی ہے، تاہم بجلی اور گیس کے پیداواری اور تقسیم کے اخراجات میں پائیدار کمی لانا ناگزیر ہے۔</p>
<p>گورننس اور انسداد بدعنوانی سے متعلق ڈائیگناسٹک رپورٹ کی اشاعت کو آئندہ اصلاحات کے لیے مثبت قدم قرار دیا گیا اور سرکاری کاروباری اداروں کی گورننس بہتر بنانے، کاروباری ماحول میں بہتری اور معاشی ڈیٹا کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو شدید موسمیاتی خطرات خصوصاً حالیہ سیلاب کے تناظر میں لچک بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی۔ آر ایس ایف پروگرام کے تحت قدرتی آفات کے ردعمل، پانی کے مؤثر استعمال، سرکاری منصوبہ بندی میں موسمیاتی عناصر کے انضمام اور موسمیاتی خطرات کی شفاف معلومات کی فراہمی کے لیے اصلاحات میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے مالی سال 2025 میں پاکستان کی جی ڈی پی نمو 3 فیصد اور 2026 میں 3.2 فیصد ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔ مہنگائی 2024 میں 23.4 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 4.5 فیصد اور 2026 میں 6.3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ بے روزگاری کی شرح 8.3 فیصد سے کم ہو کر 7.5 فیصد تک آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مجموعی بجٹ خسارہ 2024 میں 6.8 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 5.4 فیصد اور 2026 میں 4 فیصد تک ہونے کی توقع ہے، جبکہ پرائمری بیلنس 2026 میں 2.5 فیصد سرپلس پر برقرار رہے گا۔ مجموعی سرکاری قرض 2025 میں 70.6 فیصد اور 2026 میں 69.6 فیصد آف جی ڈی پی کے برابر رہے گا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ 2025 میں 0.5 فیصد سرپلس دے سکتا ہے جبکہ 2026 میں معمولی خسارے میں جانے کا امکان ہے۔ زرمبادلہ ذخائر 2024 کے 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2025 میں 14.5 ارب ڈالر اور 2026 میں 17.8 ارب ڈالر ہونے کا تخمینہ ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید بتایا گیا کہ 28 ماہ پر مشتمل آر ایس ایف پروگرام توانائی، پانی، موسمیاتی خطرات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ ایگزیکٹو بورڈ نے ای ایف ایف کی دوسری اور آر ایس ایف کی پہلی قسط کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر موصول ہوں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280322</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Dec 2025 08:57:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/10085313dea9e67.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/10085313dea9e67.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
