<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 17:09:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 17:09:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دین ٹیکسٹائل ملز میں 3.2 میگاواٹ کی نئی شمسی توانائی کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280316/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دین ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ (ڈی آئی این ٹی) نے  اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں 3.2 میگاواٹ کا اضافہ کیا ہے، جس سے کمپنی کی کل آپریشنل شمسی صلاحیت اب 11.2 میگاواٹ ہو گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے یہ معلومات پاکستان اسٹاک ایکسچینج(پی ایس ایکس) کو نوٹس کے ذریعے فراہم کیں اور کہا کہ یہ اقدام پائیداری اور توانائی کی کارکردگی کے لیے کمپنی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں توانائی کے متبادل ذرائع خاص طور پر شمسی توانائی، رہائشی اور تجارتی شعبوں میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکوئٹیبل ڈویلپمنٹ (پی آر آئی ای ڈ ی) کے مطابق ملک میں سولرائزیشن کا رجحان بے مثال ہے اور سولر فوٹوولٹک (پی یو) پینلز کی مجموعی صلاحیت 33 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑھتے ہوئے رجحان نے قومی گرڈ اور توانائی کے شعبے پر اثرات ڈالے ہیں، جہاں بجلی کی کھپت بدستور جمود کا شکار ہے، تاہم  توانائی کے اس نسبتاً سستے ذرائع سے فائدہ اٹھانے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دین ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ (ڈی آئی این ٹی) نے  اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں 3.2 میگاواٹ کا اضافہ کیا ہے، جس سے کمپنی کی کل آپریشنل شمسی صلاحیت اب 11.2 میگاواٹ ہو گئی ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی نے یہ معلومات پاکستان اسٹاک ایکسچینج(پی ایس ایکس) کو نوٹس کے ذریعے فراہم کیں اور کہا کہ یہ اقدام پائیداری اور توانائی کی کارکردگی کے لیے کمپنی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں توانائی کے متبادل ذرائع خاص طور پر شمسی توانائی، رہائشی اور تجارتی شعبوں میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکوئٹیبل ڈویلپمنٹ (پی آر آئی ای ڈ ی) کے مطابق ملک میں سولرائزیشن کا رجحان بے مثال ہے اور سولر فوٹوولٹک (پی یو) پینلز کی مجموعی صلاحیت 33 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p>اس بڑھتے ہوئے رجحان نے قومی گرڈ اور توانائی کے شعبے پر اثرات ڈالے ہیں، جہاں بجلی کی کھپت بدستور جمود کا شکار ہے، تاہم  توانائی کے اس نسبتاً سستے ذرائع سے فائدہ اٹھانے کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280316</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 18:57:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/09184155d7dbb13.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/09184155d7dbb13.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
