<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل نے سب سے زیادہ صحافیوں کو قتل کیا، رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280311/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے منگل کو جاری اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے صحافیوں میں سے تقریباً نصف کی ہلاکتوں کا ذمہ دار اسرائیل ہے، جس نے صرف غزہ میں 29 فلسطینی صحافیوں کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران عالمی سطح پر مجموعی طور پر 67 صحافی قتل ہوئے، جو 2024 کے 66 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔ آر ایس ایف نے کہا کہ اسرائیلی فورسز مجموعی تعداد کے 43 فیصد کی ذمہ دار ہیں، جس کے باعث وہ صحافیوں کی سب سے خطرناک دشمن بن چکی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ 25 اگست کو جنوبی غزہ کے ایک اسپتال پر کیے گئے ڈبل ٹیپ حملے میں پانچ صحافی مارے گئے، جن میں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے دو معاونین بھی شامل تھے۔ غزہ میں اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک تقریباً 220 صحافی قتل ہو چکے ہیں، جس سے اسرائیل مسلسل تیسرے سال بھی دنیا میں صحافیوں کا سب سے بڑا قاتل قرار پایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران غیر ملکی صحافی اب بھی غزہ کا آزادانہ طور پر دورہ نہیں کر سکتے اور صرف اسرائیلی فوج کے سخت نگرانی والے دوروں میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے۔ میڈیا تنظیموں اور آزادیِ صحافت کی بین الاقوامی آوازوں کے مطالبات کے باوجود صورتحال میں بہتری نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے دیگر حصوں میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میکسیکو میں بھی انتہائی خونریز ثابت ہوا، جہاں نو صحافی قتل ہوئے، حالانکہ صدر کلاؤڈیا شین باؤم نے ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے وعدے کیے تھے۔ اسی طرح جنگ زدہ یوکرین میں تین اور سوڈان میں چار صحافی مارے گئے، جو دنیا کے سب سے خطرناک ممالک میں شمار ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ 2025 کی مجموعی تعداد ماضی کے مقابلے میں کم ہے، مثال کے طور پر 2012 میں شام کی خانہ جنگی کے دوران 142 صحافی قتل ہوئے تھے، پھر بھی یہ اوسط سالانہ 80 کے قریب رہنے والی تعداد کے مقابلے میں تشویشناک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایس ایف کی رپورٹ کے مطابق یکم دسمبر 2025 تک دنیا بھر کے 47 ممالک میں 503 صحافی اپنے پیشہ ورانہ کام کی وجہ سے قید تھے، جن میں چین 121، روس 48 اور میانمار 47 گرفتار صحافیوں کے ساتھ بدترین ممالک قرار پائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے منگل کو جاری اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے صحافیوں میں سے تقریباً نصف کی ہلاکتوں کا ذمہ دار اسرائیل ہے، جس نے صرف غزہ میں 29 فلسطینی صحافیوں کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران عالمی سطح پر مجموعی طور پر 67 صحافی قتل ہوئے، جو 2024 کے 66 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔ آر ایس ایف نے کہا کہ اسرائیلی فورسز مجموعی تعداد کے 43 فیصد کی ذمہ دار ہیں، جس کے باعث وہ صحافیوں کی سب سے خطرناک دشمن بن چکی ہیں۔</strong></p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ 25 اگست کو جنوبی غزہ کے ایک اسپتال پر کیے گئے ڈبل ٹیپ حملے میں پانچ صحافی مارے گئے، جن میں رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے دو معاونین بھی شامل تھے۔ غزہ میں اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک تقریباً 220 صحافی قتل ہو چکے ہیں، جس سے اسرائیل مسلسل تیسرے سال بھی دنیا میں صحافیوں کا سب سے بڑا قاتل قرار پایا ہے۔</p>
<p>اس دوران غیر ملکی صحافی اب بھی غزہ کا آزادانہ طور پر دورہ نہیں کر سکتے اور صرف اسرائیلی فوج کے سخت نگرانی والے دوروں میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے۔ میڈیا تنظیموں اور آزادیِ صحافت کی بین الاقوامی آوازوں کے مطالبات کے باوجود صورتحال میں بہتری نہیں آئی۔</p>
<p>رپورٹ کے دیگر حصوں میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میکسیکو میں بھی انتہائی خونریز ثابت ہوا، جہاں نو صحافی قتل ہوئے، حالانکہ صدر کلاؤڈیا شین باؤم نے ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے وعدے کیے تھے۔ اسی طرح جنگ زدہ یوکرین میں تین اور سوڈان میں چار صحافی مارے گئے، جو دنیا کے سب سے خطرناک ممالک میں شمار ہوئے۔</p>
<p>اگرچہ 2025 کی مجموعی تعداد ماضی کے مقابلے میں کم ہے، مثال کے طور پر 2012 میں شام کی خانہ جنگی کے دوران 142 صحافی قتل ہوئے تھے، پھر بھی یہ اوسط سالانہ 80 کے قریب رہنے والی تعداد کے مقابلے میں تشویشناک ہے۔</p>
<p>آر ایس ایف کی رپورٹ کے مطابق یکم دسمبر 2025 تک دنیا بھر کے 47 ممالک میں 503 صحافی اپنے پیشہ ورانہ کام کی وجہ سے قید تھے، جن میں چین 121، روس 48 اور میانمار 47 گرفتار صحافیوں کے ساتھ بدترین ممالک قرار پائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280311</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 16:00:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/091558043a9f1b8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/091558043a9f1b8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
