<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:37:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 16:37:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توانائی ڈویژن کی ماضی کی ناکامیاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280300/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے اتوار کو پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان یکم جنوری 2026 سے اضافی لِکوئیفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) بین الاقوامی منڈی میں فروخت کرنا شروع کر دے گا۔ یہ فیصلہ مقامی طلب میں کمی اور گیس کی اضافی فراہمی کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور 2013-18 کی حکومت کی ایک اور ناکام پالیسی کو ظاہر کرتا ہے: قطر کے ساتھ معاہدے پر 2016 میں اس وقت کے وزیرِ پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ دستخط کیے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابل ذکر ہے کہ  شاہد خاقان عباسی وزارت کی ویب سائٹ پر معاہدہ اپ لوڈ کرنے کے بار بار وعدے کے باوجود ایسا کرنے میں ناکام رہے جس کی وجہ یہ تھی کہ معاہدے کی ایک شق کے تحت دونوں فریقین کو اجازت نہیں تھی کہ  معاہدہ بغیر اہم شقوں کو چھپائے اپلوڈ کیا جائے۔ آج تک یہ معاہدہ وزارت کی ویب سائٹ پر انہی ردیکشنز کے ساتھ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2013-18 کی حکومت سی پیک کے تحت کیے گئے توانائی کے معاہدوں کے لیے بھی ذمہ دار تھی؛ تاہم، ان معاہدوں میں بھی کیپیسٹی پیمنٹس کی شق شامل تھی، یعنی چاہے اصل میں کتنی بجلی خریدی گئی، ادائیگی لازمی تھی، اور یہ شق آج بھی ملک کے معصوم بجلی صارفین کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔اس وقت حکومت نے یہ ضرور کہا کہ چین ہی واحد ملک تھا جس نے صدر شی کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے تحت ملک کے خسارے والے انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی تاہم امید کی جاسکتی تھی کہ حکومت کی قانونی ٹیم اس وقت یہ نشاندہی کرتی کہ آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ سابقہ تمام معاہدوں پر دوبارہ نظر ثانی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ناکامی اس کا سبب بنی کہ حکومت کو تمام آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ مل کر چین کے توانائی فراہم کنندگان کے معاہدوں کی کچھ شقوں پر دوبارہ بات چیت کرنی پڑ رہی ہے جبکہ چینی فریقین نے ان معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات سے انکار کیا ہے ۔ مزید برآں ملکی زرِ مبادلہ ذخائر کی کمی جو زیادہ تر قرض پر مبنی ہیں کی وجہ سے حکومت اپنے معاہداتی ذمہ داریوں کو چینی آئی پی پیز کے ساتھ پورا نہیں کر سکی، جس سے انہیں پلانٹس کے لیے ایندھن درآمد کرنے اور منافع کی ترسیل کرنے کی سہولت حاصل رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ حکومت نے گردشی قرضے کی بڑی مقدار کو ختم کرنے کے مقصد سے پاکستانی کمرشل بینکوں سے 1.25 کھرب روپے حاصل کیے ہیں، ایک ایسی رقم جو بلاشبہ نجی شعبے کے کریڈٹ پر منفی اثر ڈالے گی اور یہ دعویٰ کیا کہ بجلی کی قیمت کم ہو جائے گی کیونکہ آج ڈسکاؤنٹ ریٹ 11 فیصد کی نسبتاً کم سطح پر ہے، تاہم یہ امید ماضی میں پوری نہیں ہوئی تھی جب 2013 میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے 18 کمرشل بینکوں سے 400 ارب روپے سے کچھ کم قرض لیا تھا اور آج یہ سرکلر ڈیٹ 1.6 کھرب روپے سے تجاوز کرچکا ہے، اس امکان کے پیشِ نظر کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ بڑھ سکتا ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 15 اکتوبر 2025 کے پریس ریلیز میں زور دیا کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کسی بھی تبدیلی کا فیصلہ اعدادوشمار کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ریلیز کے مطابق آئی ایم ایف اسٹاف لیول ایگریمنٹ کے تحت جو 37 ماہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے دوسرے جائزے اور 28 ماہ ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے کے لیے طے ہوا، موجودہ تکنیکی مدد کے ساتھ اہم اعدادوشمار کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔ ریلیز میں مزید کہا گیا کہ مالی پالیسی مناسب سخت ہونی چاہیے اور اسے آنے والے ڈیٹا کی روشنی میں ایڈجسٹ کیا جائے جس میں حالیہ سیلابوں کے اثرات اور ملکی اقتصادی بحالی کے ارتقا کو شامل کیا جائے تاکہ مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے دائرے میں مستحکم رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں 2013-18 کی حکومت کا زرِ مبادلہ کی منڈی میں بار بار مداخلت کرنا تاکہ روپیہ کی قدر کو قائم رکھا جاسکے، ملک کے تجارتی خسارے کو نقصان پہنچا اور اس کے نتیجے میں عباسی کی قیادت والی حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ ایک اور فنڈ پروگرام حاصل کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس سلسلے میں پہلے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے  آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق کرنسی کی قدر میں کمی کی تھی۔ واضح رہے کہ زرِ مبادلہ کی منڈی میں مداخلت کی پالیسی اکتوبر 2022 سے جون 2013 تک جاری رہی جس کے نتیجے میں متعدد ایکسچینج ریٹس قائم ہوئے اور 4 ارب ڈالر کے زرِ مبادلہ ذخائر ترسیلاتِ زر کے ذریعے کم ہوگئے، نیز اس وقت جاری فنڈ پروگرام بھی رک گیا۔ پاکستان نے ان شدید ناقص پالیسیوں کے لیے بھاری قیمت ادا کی اور آج بھی ادا کر رہا ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ حکومت اپنی قانونی ٹیم کو مضبوط کرے تاکہ تمام معاہدوں کا جائزہ لیا جاسکے جو غیر ملکی اداروں کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے اتوار کو پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان یکم جنوری 2026 سے اضافی لِکوئیفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) بین الاقوامی منڈی میں فروخت کرنا شروع کر دے گا۔ یہ فیصلہ مقامی طلب میں کمی اور گیس کی اضافی فراہمی کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور 2013-18 کی حکومت کی ایک اور ناکام پالیسی کو ظاہر کرتا ہے: قطر کے ساتھ معاہدے پر 2016 میں اس وقت کے وزیرِ پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ دستخط کیے تھے۔</strong></p>
<p>یہ بات قابل ذکر ہے کہ  شاہد خاقان عباسی وزارت کی ویب سائٹ پر معاہدہ اپ لوڈ کرنے کے بار بار وعدے کے باوجود ایسا کرنے میں ناکام رہے جس کی وجہ یہ تھی کہ معاہدے کی ایک شق کے تحت دونوں فریقین کو اجازت نہیں تھی کہ  معاہدہ بغیر اہم شقوں کو چھپائے اپلوڈ کیا جائے۔ آج تک یہ معاہدہ وزارت کی ویب سائٹ پر انہی ردیکشنز کے ساتھ موجود ہے۔</p>
<p>2013-18 کی حکومت سی پیک کے تحت کیے گئے توانائی کے معاہدوں کے لیے بھی ذمہ دار تھی؛ تاہم، ان معاہدوں میں بھی کیپیسٹی پیمنٹس کی شق شامل تھی، یعنی چاہے اصل میں کتنی بجلی خریدی گئی، ادائیگی لازمی تھی، اور یہ شق آج بھی ملک کے معصوم بجلی صارفین کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔اس وقت حکومت نے یہ ضرور کہا کہ چین ہی واحد ملک تھا جس نے صدر شی کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے تحت ملک کے خسارے والے انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی تاہم امید کی جاسکتی تھی کہ حکومت کی قانونی ٹیم اس وقت یہ نشاندہی کرتی کہ آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ سابقہ تمام معاہدوں پر دوبارہ نظر ثانی کی ضرورت ہے۔</p>
<p>یہ ناکامی اس کا سبب بنی کہ حکومت کو تمام آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ مل کر چین کے توانائی فراہم کنندگان کے معاہدوں کی کچھ شقوں پر دوبارہ بات چیت کرنی پڑ رہی ہے جبکہ چینی فریقین نے ان معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات سے انکار کیا ہے ۔ مزید برآں ملکی زرِ مبادلہ ذخائر کی کمی جو زیادہ تر قرض پر مبنی ہیں کی وجہ سے حکومت اپنے معاہداتی ذمہ داریوں کو چینی آئی پی پیز کے ساتھ پورا نہیں کر سکی، جس سے انہیں پلانٹس کے لیے ایندھن درآمد کرنے اور منافع کی ترسیل کرنے کی سہولت حاصل رہی۔</p>
<p>موجودہ حکومت نے گردشی قرضے کی بڑی مقدار کو ختم کرنے کے مقصد سے پاکستانی کمرشل بینکوں سے 1.25 کھرب روپے حاصل کیے ہیں، ایک ایسی رقم جو بلاشبہ نجی شعبے کے کریڈٹ پر منفی اثر ڈالے گی اور یہ دعویٰ کیا کہ بجلی کی قیمت کم ہو جائے گی کیونکہ آج ڈسکاؤنٹ ریٹ 11 فیصد کی نسبتاً کم سطح پر ہے، تاہم یہ امید ماضی میں پوری نہیں ہوئی تھی جب 2013 میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے 18 کمرشل بینکوں سے 400 ارب روپے سے کچھ کم قرض لیا تھا اور آج یہ سرکلر ڈیٹ 1.6 کھرب روپے سے تجاوز کرچکا ہے، اس امکان کے پیشِ نظر کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ بڑھ سکتا ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 15 اکتوبر 2025 کے پریس ریلیز میں زور دیا کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کسی بھی تبدیلی کا فیصلہ اعدادوشمار کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ریلیز کے مطابق آئی ایم ایف اسٹاف لیول ایگریمنٹ کے تحت جو 37 ماہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے دوسرے جائزے اور 28 ماہ ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے کے لیے طے ہوا، موجودہ تکنیکی مدد کے ساتھ اہم اعدادوشمار کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔ ریلیز میں مزید کہا گیا کہ مالی پالیسی مناسب سخت ہونی چاہیے اور اسے آنے والے ڈیٹا کی روشنی میں ایڈجسٹ کیا جائے جس میں حالیہ سیلابوں کے اثرات اور ملکی اقتصادی بحالی کے ارتقا کو شامل کیا جائے تاکہ مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے دائرے میں مستحکم رہے۔</p>
<p>آخر میں 2013-18 کی حکومت کا زرِ مبادلہ کی منڈی میں بار بار مداخلت کرنا تاکہ روپیہ کی قدر کو قائم رکھا جاسکے، ملک کے تجارتی خسارے کو نقصان پہنچا اور اس کے نتیجے میں عباسی کی قیادت والی حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ ایک اور فنڈ پروگرام حاصل کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس سلسلے میں پہلے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے  آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق کرنسی کی قدر میں کمی کی تھی۔ واضح رہے کہ زرِ مبادلہ کی منڈی میں مداخلت کی پالیسی اکتوبر 2022 سے جون 2013 تک جاری رہی جس کے نتیجے میں متعدد ایکسچینج ریٹس قائم ہوئے اور 4 ارب ڈالر کے زرِ مبادلہ ذخائر ترسیلاتِ زر کے ذریعے کم ہوگئے، نیز اس وقت جاری فنڈ پروگرام بھی رک گیا۔ پاکستان نے ان شدید ناقص پالیسیوں کے لیے بھاری قیمت ادا کی اور آج بھی ادا کر رہا ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ حکومت اپنی قانونی ٹیم کو مضبوط کرے تاکہ تمام معاہدوں کا جائزہ لیا جاسکے جو غیر ملکی اداروں کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280300</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 14:11:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/09131207cdebd8b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/09131207cdebd8b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
