<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی منظوری کے بعد اسٹاک مارکیٹ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280291/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے رجحانات دیکھے گئے۔ بینچ مارک k  کے ایس ای 100 انڈیکس منگل کو نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا، کیونکہ پیر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی تقسیم کی منظوری کے بعد سرمایہ کاروں میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر مارکیٹ میں تیزی کا رجحان غالب رہا، جو پورے ٹریڈنگ سیشن کے دوران انڈیکس میں اضافے سے ظاہر ہوا، اور انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 169,601.03 پوائنٹس تک پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,153.14 پوائنٹس یا 0.69 فیصد اضافے کے ساتھ 169,456.38 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز  نے مارکیٹ کے اختتام کے بعد رپورٹ میں کہا ہے کہ اس تیزی کو مزید تقویت آئی ایم ایف کی جانب سے تقریباً 1.1 ارب ڈالر ای ایف ایف اور 220 ملین ڈالر آر ایس ایف کے تحت منظوری دینے سے ملی، جس کے نتیجے میں دونوں قرض پروگرامز، جن کی مجموعی مالیت 8.4 ارب ڈالر ہے، دونوں قرض پروگرامز اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری رہیں اور سرمایہ کاروں کے جذبات کو فروغ ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اس شاندار رفتار کی بنیاد مقامی میوچل فنڈز کی مضبوط اور مستقل خریداری تھی، جس نے مارکیٹ کے جذبات کو بحال کیا اور تیزی کو مستحکم رکھا۔ مارکیٹ کے بڑے اسٹاک پی ایس او، ایچ بی ایل،لک،ایف ایف سی اور ایم ایل سی ایف نے اس تیزی کی قیادت کی، جنہوں نے مشترکہ طور پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 640 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے مثبت رجحان کی وجہ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کو قرار دیا جس سے جنوبی ایشیائی ملک کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر جاری ہوں گے، جن میں سے تقریباً 1 ارب ڈالر ای ایف ایف اور 200 ملین ڈالر آر ایس ایف کے تحت شامل ہیں، جس سے دونوں اسکیموں کے تحت مجموعی رقم تقریباً 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے ہفتے کا آغاز مضبوط اور پراعتماد انداز میں کیا، جہاں حصص بازار میں نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,217.67 پوائنٹس کے اضافے سے 168,303.25 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ امریکی ڈالر مستحکم رہا کیونکہ سرمایہ کار رواں ہفتے کے آخر میں امریکا میں شرحِ سود میں کمی کے امکانات کے پیشِ نظر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ دوسری جانب جاپان کے شمال مشرقی علاقے میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد جاپانی ین میں بھی استحکام رہا، کیونکہ زلزلے کے اثرات محدود رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینکوں کے اہم اجلاسوں سے قبل سرمایہ کاروں کا رجحان محتاط رہا، جن میں اسی روز ریزرو بینک آف آسٹریلیا کا اہم فیصلہ بھی شامل تھا، جبکہ مارکیٹس عالمی شرحِ سود کے مستقبل سے متعلق واضح تصویر کی منتظر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے ریزرو بینک آف آسٹریلیا، سوئس نیشنل بینک اور بینک آف کینیڈا سے شرحِ سود برقرار رکھنے کی توقع کی جا رہی ہے جبکہ توقع ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو بدھ کو شرحِ سود میں کمی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصل توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو کی دسمبر میں متوقع شرحِ سود میں کمی کے بعد آگے کیا ہوگا جبکہ بانڈ سرمایہ کار امریکا میں محدود نرم مالیاتی پالیسی کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پوزیشنز ترتیب دے رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ کے متعدد بینکوں کا اندازہ ہے کہ مسلسل افراطِ زر کے خدشات اور امریکی معیشت کی زیادہ مضبوطی کی توقعات کے باعث 2026 میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے کم تعداد میں شرحِ سود میں کٹوتیاں کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی صورتحال کے باعث حصص بازار میں کاروبار محدود دائرے میں جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص کے لیے ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس وال اسٹریٹ میں کمزور رات بھر کی ٹریڈنگ کے بعد 0.28 فیصد کمی کا شکار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹربینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں معمولی بہتری  ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.40 پر بند ہوئی، یعنی  ڈالر کے مقابلے میں صرف ایک پیسےکا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر تجارتی حجم 783.08 ملین سے بڑھ کر 1,031 ملین ہو گیا۔ شیئرز کی کل مالیت پچھلے سیشن کے 49.95 ارب روپے سے بڑھ کر 51.32 ارب روپے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ حجم کے لحاظ سے سرِفہرست رہی جس کے 86.72 ملین شیئرز  کی خرید فروخت ہوئی۔ اس کے بعد بنیز لمیٹڈ کے 62.06 ملین شیئرز، اور  پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے 41.12 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو 483 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 272 میں اضافہ، 179 میں کمی اور 32 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/09171627717a55a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/09171627717a55a.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے رجحانات دیکھے گئے۔ بینچ مارک k  کے ایس ای 100 انڈیکس منگل کو نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا، کیونکہ پیر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی تقسیم کی منظوری کے بعد سرمایہ کاروں میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا۔</strong></p>
<p>مجموعی طور پر مارکیٹ میں تیزی کا رجحان غالب رہا، جو پورے ٹریڈنگ سیشن کے دوران انڈیکس میں اضافے سے ظاہر ہوا، اور انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 169,601.03 پوائنٹس تک پہنچا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,153.14 پوائنٹس یا 0.69 فیصد اضافے کے ساتھ 169,456.38 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز  نے مارکیٹ کے اختتام کے بعد رپورٹ میں کہا ہے کہ اس تیزی کو مزید تقویت آئی ایم ایف کی جانب سے تقریباً 1.1 ارب ڈالر ای ایف ایف اور 220 ملین ڈالر آر ایس ایف کے تحت منظوری دینے سے ملی، جس کے نتیجے میں دونوں قرض پروگرامز، جن کی مجموعی مالیت 8.4 ارب ڈالر ہے، دونوں قرض پروگرامز اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری رہیں اور سرمایہ کاروں کے جذبات کو فروغ ملا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اس شاندار رفتار کی بنیاد مقامی میوچل فنڈز کی مضبوط اور مستقل خریداری تھی، جس نے مارکیٹ کے جذبات کو بحال کیا اور تیزی کو مستحکم رکھا۔ مارکیٹ کے بڑے اسٹاک پی ایس او، ایچ بی ایل،لک،ایف ایف سی اور ایم ایل سی ایف نے اس تیزی کی قیادت کی، جنہوں نے مشترکہ طور پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 640 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔</p>
<p>ماہرین نے مثبت رجحان کی وجہ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کو قرار دیا جس سے جنوبی ایشیائی ملک کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر جاری ہوں گے، جن میں سے تقریباً 1 ارب ڈالر ای ایف ایف اور 200 ملین ڈالر آر ایس ایف کے تحت شامل ہیں، جس سے دونوں اسکیموں کے تحت مجموعی رقم تقریباً 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے ہفتے کا آغاز مضبوط اور پراعتماد انداز میں کیا، جہاں حصص بازار میں نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,217.67 پوائنٹس کے اضافے سے 168,303.25 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ امریکی ڈالر مستحکم رہا کیونکہ سرمایہ کار رواں ہفتے کے آخر میں امریکا میں شرحِ سود میں کمی کے امکانات کے پیشِ نظر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ دوسری جانب جاپان کے شمال مشرقی علاقے میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد جاپانی ین میں بھی استحکام رہا، کیونکہ زلزلے کے اثرات محدود رہے۔</p>
<p>مرکزی بینکوں کے اہم اجلاسوں سے قبل سرمایہ کاروں کا رجحان محتاط رہا، جن میں اسی روز ریزرو بینک آف آسٹریلیا کا اہم فیصلہ بھی شامل تھا، جبکہ مارکیٹس عالمی شرحِ سود کے مستقبل سے متعلق واضح تصویر کی منتظر رہیں۔</p>
<p>رواں ہفتے ریزرو بینک آف آسٹریلیا، سوئس نیشنل بینک اور بینک آف کینیڈا سے شرحِ سود برقرار رکھنے کی توقع کی جا رہی ہے جبکہ توقع ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو بدھ کو شرحِ سود میں کمی کرے گا۔</p>
<p>تاہم اصل توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو کی دسمبر میں متوقع شرحِ سود میں کمی کے بعد آگے کیا ہوگا جبکہ بانڈ سرمایہ کار امریکا میں محدود نرم مالیاتی پالیسی کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پوزیشنز ترتیب دے رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ کے متعدد بینکوں کا اندازہ ہے کہ مسلسل افراطِ زر کے خدشات اور امریکی معیشت کی زیادہ مضبوطی کی توقعات کے باعث 2026 میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے کم تعداد میں شرحِ سود میں کٹوتیاں کی جائیں گی۔</p>
<p>اسی صورتحال کے باعث حصص بازار میں کاروبار محدود دائرے میں جاری رہا۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص کے لیے ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس وال اسٹریٹ میں کمزور رات بھر کی ٹریڈنگ کے بعد 0.28 فیصد کمی کا شکار رہا۔</p>
<p>دریں اثناء انٹربینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں معمولی بہتری  ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.40 پر بند ہوئی، یعنی  ڈالر کے مقابلے میں صرف ایک پیسےکا اضافہ ہوا۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر تجارتی حجم 783.08 ملین سے بڑھ کر 1,031 ملین ہو گیا۔ شیئرز کی کل مالیت پچھلے سیشن کے 49.95 ارب روپے سے بڑھ کر 51.32 ارب روپے ہو گئی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ حجم کے لحاظ سے سرِفہرست رہی جس کے 86.72 ملین شیئرز  کی خرید فروخت ہوئی۔ اس کے بعد بنیز لمیٹڈ کے 62.06 ملین شیئرز، اور  پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے 41.12 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔</p>
<p>منگل کو 483 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 272 میں اضافہ، 179 میں کمی اور 32 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/09171627717a55a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/09171627717a55a.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280291</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 19:05:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/09101649c247c4a.webp" type="image/webp" medium="image" height="395" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/09101649c247c4a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
