<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 19:57:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 19:57:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور ایران کا بجلی فروخت معاہدے میں توسیع پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280284/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور ایران نے بجلی کی فروخت کے معاہدے میں توسیع پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت نئی قیمت 7.7 سے 11.45 سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔ ترمیم شدہ معاہدہ آج (منگل) اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور ایران کے درمیان گزشتہ بجلی فروخت کا معاہدہ 31 دسمبر 2024 کو ختم ہو گیا تھا۔ وزیراعظم آفس نے بھی معاہدے کی تجدید سے متعلق تازہ پیش رفت طلب کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت پاکستان ایران سے 100 میگاواٹ بجلی درآمد کرتا ہے جو بلوچستان کی سرحدی اضلاع کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ تاریخی طور پر ادائیگیاں غیر رسمی ذرائع یا بارٹر ٹریڈ کے ذریعے کی جاتی رہی ہیں۔ ایران سے درآمد کی جانے والی یہ بجلی سالانہ تقریباً 18 ملین یونٹس بنتی ہے، جبکہ موجودہ قیمت 27 روپے فی یونٹ سے زائد ہے، جو درآمدی کوئلے اور آر ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، ایرانی کمپنی توانیر کا ایک وفد 25 دسمبر 2024 کو اسلام آباد آیا، جس کے بعد 26 اور 27 دسمبر کو سی پی پی اے-جی کے دفتر میں معاہدے کے مسودے پر مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کا تفصیلی ریکارڈ نوٹ وزیراعظم آفس کو بھجوا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے کم از کم ”ٹیک یا پے“ ذمہ داری پر اتفاق کیا ہے، جس کے مطابق خریدار تمام انٹر کنیکشن لائنز پر 30 ملین روپے ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمت کے تعین کے لیے مختلف فارمولوں پر غور کیا گیا، تاہم آخرکار درج ذیل فارمولے پر اتفاق ہوا:&lt;br&gt;R=3.2+0.075×P&lt;br&gt;اس میں R بجلی کی قیمت (امریکی سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ) ہے، 3.2 بجلی کی فراہمی کی مقررہ لاگت ہے، جبکہ P اوپیک باسکٹ میں خام تیل کی اوسط ماہانہ قیمت (60 سے 110 ڈالر فی بیرل کے درمیان) ہے۔ اس فارمولے کے تحت قیمت مقررہ حد 7.7 سے 11.45 سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ کے اندر رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولان–جیوانی اور پشین–مند انٹرکنیکشن لائنز کے لیے لائن لاس کی تقسیم سے متعلق جو اصول 2023 اور 2024 میں طے پائے تھے، انہیں بھی ترمیم نمبر 10 میں شامل کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترمیم شدہ شرائط پر باقاعدہ دستخط سے قبل دونوں فریق اپنے متعلقہ حکام کو بریف کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات سے قبل توانیر کے چیئرمین مصطفیٰ رجبی مشہدی نے سی پی پی اے-جی کے سی ای او ریحان اختر کو خط لکھ کر اس بات کی یاد دہانی کرائی تھی کہ توانیر معاہدے کی توسیع اور 6 نومبر 2002 کے اصل کنٹریکٹ کی تجدید کے لیے تیار ہے، جس کا اظہار انہوں نے اپنے پہلے مراسلوں میں بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور ایران نے بجلی کی فروخت کے معاہدے میں توسیع پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت نئی قیمت 7.7 سے 11.45 سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔ ترمیم شدہ معاہدہ آج (منگل) اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان اور ایران کے درمیان گزشتہ بجلی فروخت کا معاہدہ 31 دسمبر 2024 کو ختم ہو گیا تھا۔ وزیراعظم آفس نے بھی معاہدے کی تجدید سے متعلق تازہ پیش رفت طلب کی تھی۔</p>
<p>اس وقت پاکستان ایران سے 100 میگاواٹ بجلی درآمد کرتا ہے جو بلوچستان کی سرحدی اضلاع کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ تاریخی طور پر ادائیگیاں غیر رسمی ذرائع یا بارٹر ٹریڈ کے ذریعے کی جاتی رہی ہیں۔ ایران سے درآمد کی جانے والی یہ بجلی سالانہ تقریباً 18 ملین یونٹس بنتی ہے، جبکہ موجودہ قیمت 27 روپے فی یونٹ سے زائد ہے، جو درآمدی کوئلے اور آر ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، ایرانی کمپنی توانیر کا ایک وفد 25 دسمبر 2024 کو اسلام آباد آیا، جس کے بعد 26 اور 27 دسمبر کو سی پی پی اے-جی کے دفتر میں معاہدے کے مسودے پر مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کا تفصیلی ریکارڈ نوٹ وزیراعظم آفس کو بھجوا دیا گیا ہے۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے کم از کم ”ٹیک یا پے“ ذمہ داری پر اتفاق کیا ہے، جس کے مطابق خریدار تمام انٹر کنیکشن لائنز پر 30 ملین روپے ادا کرے گا۔</p>
<p>قیمت کے تعین کے لیے مختلف فارمولوں پر غور کیا گیا، تاہم آخرکار درج ذیل فارمولے پر اتفاق ہوا:<br>R=3.2+0.075×P<br>اس میں R بجلی کی قیمت (امریکی سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ) ہے، 3.2 بجلی کی فراہمی کی مقررہ لاگت ہے، جبکہ P اوپیک باسکٹ میں خام تیل کی اوسط ماہانہ قیمت (60 سے 110 ڈالر فی بیرل کے درمیان) ہے۔ اس فارمولے کے تحت قیمت مقررہ حد 7.7 سے 11.45 سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ کے اندر رہے گی۔</p>
<p>پولان–جیوانی اور پشین–مند انٹرکنیکشن لائنز کے لیے لائن لاس کی تقسیم سے متعلق جو اصول 2023 اور 2024 میں طے پائے تھے، انہیں بھی ترمیم نمبر 10 میں شامل کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>ترمیم شدہ شرائط پر باقاعدہ دستخط سے قبل دونوں فریق اپنے متعلقہ حکام کو بریف کریں گے۔</p>
<p>مذاکرات سے قبل توانیر کے چیئرمین مصطفیٰ رجبی مشہدی نے سی پی پی اے-جی کے سی ای او ریحان اختر کو خط لکھ کر اس بات کی یاد دہانی کرائی تھی کہ توانیر معاہدے کی توسیع اور 6 نومبر 2002 کے اصل کنٹریکٹ کی تجدید کے لیے تیار ہے، جس کا اظہار انہوں نے اپنے پہلے مراسلوں میں بھی کیا تھا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280284</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 09:28:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/09092645018df3a.webp" type="image/webp" medium="image" height="546" width="820">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/09092645018df3a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
