<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلادیش، 2024 کے احتجاج میں ہلاک ہونیوالوں کی لاشوں کی تلاش کیلئے بڑے قبرستان میں کھدائی کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280258/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلادیش میں پولیس نے اتوار کے روز ایک بڑے قبرستان کی کھدائی شروع کی جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ گزشتہ سال سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے والے عوامی بغاوت کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تقریباً 114 لاشیں دفن ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس یونائیٹڈ نیشنز کے تعاون سے جاری تحقیق میں ارجنٹائن کے ماہر انسانی جسمیات لوئس فونڈی بریڈر مشاورتی کردار ادا کر رہے ہیں، جو دنیا بھر میں بڑے قبرستانوں کی کھدائی اور لاشوں کی شناخت کے مشن کی قیادت کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاشیں ڈھاکہ کے رائر بازار قبرستان میں رضاکار گروپ انجمن مفید الاسلام نے دفن کی تھیں، جس نے جولائی میں 80 اور اگست 2024 میں مزید 34 لاشیں وصول کی تھیں۔ یہ تمام افراد پرتشدد احتجاج کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے مطابق، حسینہ واجد کے اقتدار پر قابض رہنے کی کوشش کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے، اور یہ واقعات گزشتہ ماہ انہیں انسانیت کے خلاف جرائم میں سزا دلانے کا حصہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے سربراہ محمد صبغت اللہ نے کہا کہ ابتدائی طور پر خیال ہے کہ قبر میں تقریباً 114 لاشیں ہیں، تاہم درست تعداد تب ہی معلوم ہوگی جب کھدائی مکمل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرین میں محمد نبیل بھی شامل ہیں، جو اپنے بھائی 28سالہ سہیل رانا کی لاش تلاش کر رہے ہیں، جو جولائی 2024 میں لاپتہ ہو گیا تھا۔ رضاکاروں کی جانب سے لی گئی تصاویر اور لباس کی شناخت کے بعد خاندان نے اس کی موت کا یقین کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھودائی کے بعد نکالی  گئی لاشوں کا پوسٹ مارٹم اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کی جائے گی، جس کے مکمل ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ سینئر پولیس افسر ابو طالب کے مطابق، نرم حصوں سے ڈی این اے نکالنا ممکن نہیں، لہٰذا ہڈیوں کے ذریعے کام زیادہ وقت طلب ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈھاکہ کی چار میڈیکل کالجز کے ماہرین اور فونڈی بریڈر اس عمل میں شامل ہیں تاکہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق تحقیق یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حتمی طور پر، لاشوں کو مذہبی رسومات اور خاندان کی خواہش کے مطابق دوبارہ دفن کیا جائے گا۔ اس دوران، شیخ حسینہ، جو غیر حاضری میں سزائے موت کی سزا پا چکی ہیں، بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلادیش میں پولیس نے اتوار کے روز ایک بڑے قبرستان کی کھدائی شروع کی جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ گزشتہ سال سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹانے والے عوامی بغاوت کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تقریباً 114 لاشیں دفن ہیں۔</strong></p>
<p>اس یونائیٹڈ نیشنز کے تعاون سے جاری تحقیق میں ارجنٹائن کے ماہر انسانی جسمیات لوئس فونڈی بریڈر مشاورتی کردار ادا کر رہے ہیں، جو دنیا بھر میں بڑے قبرستانوں کی کھدائی اور لاشوں کی شناخت کے مشن کی قیادت کر چکے ہیں۔</p>
<p>لاشیں ڈھاکہ کے رائر بازار قبرستان میں رضاکار گروپ انجمن مفید الاسلام نے دفن کی تھیں، جس نے جولائی میں 80 اور اگست 2024 میں مزید 34 لاشیں وصول کی تھیں۔ یہ تمام افراد پرتشدد احتجاج کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے مطابق، حسینہ واجد کے اقتدار پر قابض رہنے کی کوشش کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے، اور یہ واقعات گزشتہ ماہ انہیں انسانیت کے خلاف جرائم میں سزا دلانے کا حصہ تھے۔</p>
<p>کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے سربراہ محمد صبغت اللہ نے کہا کہ ابتدائی طور پر خیال ہے کہ قبر میں تقریباً 114 لاشیں ہیں، تاہم درست تعداد تب ہی معلوم ہوگی جب کھدائی مکمل ہوگی۔</p>
<p>متاثرین میں محمد نبیل بھی شامل ہیں، جو اپنے بھائی 28سالہ سہیل رانا کی لاش تلاش کر رہے ہیں، جو جولائی 2024 میں لاپتہ ہو گیا تھا۔ رضاکاروں کی جانب سے لی گئی تصاویر اور لباس کی شناخت کے بعد خاندان نے اس کی موت کا یقین کیا۔</p>
<p>کھودائی کے بعد نکالی  گئی لاشوں کا پوسٹ مارٹم اور ڈی این اے ٹیسٹنگ کی جائے گی، جس کے مکمل ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ سینئر پولیس افسر ابو طالب کے مطابق، نرم حصوں سے ڈی این اے نکالنا ممکن نہیں، لہٰذا ہڈیوں کے ذریعے کام زیادہ وقت طلب ہوگا۔</p>
<p>ڈھاکہ کی چار میڈیکل کالجز کے ماہرین اور فونڈی بریڈر اس عمل میں شامل ہیں تاکہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق تحقیق یقینی بنائی جا سکے۔</p>
<p>حتمی طور پر، لاشوں کو مذہبی رسومات اور خاندان کی خواہش کے مطابق دوبارہ دفن کیا جائے گا۔ اس دوران، شیخ حسینہ، جو غیر حاضری میں سزائے موت کی سزا پا چکی ہیں، بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی میں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280258</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 13:45:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/081342358ab581f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/081342358ab581f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
