<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 01:32:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Jul 2026 01:32:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیڈ کی شرحِ سود میں ممکنہ کمی، خام تیل کی قیمتیں دو ہفتوں کی بلند سطح پر برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280240/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پیر کے روز دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہیں، کیونکہ سرمایہ کار اس توقع میں مبتلا ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو اس ہفتے شرح سود میں کمی کرے گا، جس سے معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور توانائی کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، روس اور وینیزویلا سے تیل کی فراہمی کو درپیش جغرافیائی سیاسی خطرات بھی مارکیٹ کے ماحول کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 4 سینٹ یا 0.06 فیصد اضافے کے ساتھ 63.79 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 7 سینٹ یا 0.12 فیصد بڑھ کر 60.15 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ دونوں بینچ مارک گزشتہ جمعہ کو 18 نومبر کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر بند ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق سرمایہ کار اس بات کے 84 فیصد امکانات ظاہر کر رہے ہیں کہ فیڈرل ریزرو منگل اور بدھ کے اجلاس میں شرحِ سود میں ایک چوتھائی پوائنٹ کمی کرے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ اجلاس کئی برسوں میں سب سے زیادہ اختلافی ہو سکتا ہے، کیونکہ سرمایہ کار نہ صرف پالیسی کے فیصلے بلکہ مرکزی بینک کی مستقبل کی سمت پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ میں یوکرین اور روس کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت سست ہے، کیونکہ کیف کے لیے سکیورٹی ضمانتوں اور روس کے زیر قبضہ علاقوں کی حیثیت جیسے اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا نتیجہ عالمی تیل مارکیٹ پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے اور اگر جنگ کے خاتمے کی موجودہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو روزانہ دو ملین بیرل سے زائد تیل کی رسد میں ممکنہ رد و بدل آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران جی سیون ممالک اور یورپی یونین روسی تیل پر موجودہ پرائس کیپ کو ختم کرکے مکمل سمندری پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں، جس سے دنیا کے دوسرے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک کی سپلائی محدود ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے وینیزویلا پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور مبینہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث کشتیوں پر حملوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے خاتمے کی دھمکیوں نے بھی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر چین میں آزاد ریفائنریز نے نئی درآمدی کوٹہ پالیسی کے تحت پابندی کا شکار ایرانی تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے، جس سے مقامی سطح پر موجود تیل کے ذخائر میں کمی اور اضافی رسد میں کچھ نرمی دیکھنے میں آئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پیر کے روز دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہیں، کیونکہ سرمایہ کار اس توقع میں مبتلا ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو اس ہفتے شرح سود میں کمی کرے گا، جس سے معاشی سرگرمیوں میں بہتری اور توانائی کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، روس اور وینیزویلا سے تیل کی فراہمی کو درپیش جغرافیائی سیاسی خطرات بھی مارکیٹ کے ماحول کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 4 سینٹ یا 0.06 فیصد اضافے کے ساتھ 63.79 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 7 سینٹ یا 0.12 فیصد بڑھ کر 60.15 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ دونوں بینچ مارک گزشتہ جمعہ کو 18 نومبر کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر بند ہوئے تھے۔</p>
<p>مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق سرمایہ کار اس بات کے 84 فیصد امکانات ظاہر کر رہے ہیں کہ فیڈرل ریزرو منگل اور بدھ کے اجلاس میں شرحِ سود میں ایک چوتھائی پوائنٹ کمی کرے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ اجلاس کئی برسوں میں سب سے زیادہ اختلافی ہو سکتا ہے، کیونکہ سرمایہ کار نہ صرف پالیسی کے فیصلے بلکہ مرکزی بینک کی مستقبل کی سمت پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>یورپ میں یوکرین اور روس کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت سست ہے، کیونکہ کیف کے لیے سکیورٹی ضمانتوں اور روس کے زیر قبضہ علاقوں کی حیثیت جیسے اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا نتیجہ عالمی تیل مارکیٹ پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے اور اگر جنگ کے خاتمے کی موجودہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو روزانہ دو ملین بیرل سے زائد تیل کی رسد میں ممکنہ رد و بدل آ سکتا ہے۔</p>
<p>اس دوران جی سیون ممالک اور یورپی یونین روسی تیل پر موجودہ پرائس کیپ کو ختم کرکے مکمل سمندری پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں، جس سے دنیا کے دوسرے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک کی سپلائی محدود ہو سکتی ہے۔</p>
<p>امریکا نے وینیزویلا پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور مبینہ منشیات اسمگلنگ میں ملوث کشتیوں پر حملوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے خاتمے کی دھمکیوں نے بھی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p>ادھر چین میں آزاد ریفائنریز نے نئی درآمدی کوٹہ پالیسی کے تحت پابندی کا شکار ایرانی تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے، جس سے مقامی سطح پر موجود تیل کے ذخائر میں کمی اور اضافی رسد میں کچھ نرمی دیکھنے میں آئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280240</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 09:49:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/08094700eeb150a.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/08094700eeb150a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
