<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور پلانٹس کی نجکاری میں تاخیر، سینیٹ کمیٹی کا پاور ڈویژن پر اظہار برہمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280236/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاور ڈویژن کی جانب سے نجکاری فہرست میں شامل سرکاری ملکیتی پاور پلانٹس سے متعلق اہم مسائل حل نہ کیے جانے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر افنان اللہ خان، جنہوں نے اجلاس کی صدارت کی، نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاور ڈویژن نے سنگل خریدار ماڈل سے نکلنے کے لیے کوئی خاص پیش رفت نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوال اٹھایا کہ گیس کی فراہمی پہلے ہی محدود ہے اور اس کے ذخائر ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہو رہے ہیں۔ ایسے میں پاور پلانٹس کی نجکاری اور مستقبل کے معاہدوں کو گیس کی فراہمی سے مشروط کیسے کیا جا سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین کمیٹی نے غیرحل شدہ معاملات، خاص طور پر نندی پور پاور پلانٹ کے حوالے سے وضاحت بھی طلب کی۔ جوائنٹ سیکریٹری پاور ڈویژن غلام رسول نے کمیٹی کو بتایا کہ اہم زیر التوا معاملہ پلانٹس اور گیس سپلائر کے درمیان الگ گیس فروخت و خریداری کے معاہدے پر دستخط ہے، جو نجکاری سے قبل ضروری ہے تاکہ ممکنہ خریداروں کو ایک مستحکم اور قانونی طور پر واضح فریم ورک فراہم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت پاور پلانٹس کو گیس جب دستیاب ہو کی بنیاد پر فراہم کی جاتی ہے، جو کہ پٹرولیم ڈویژن کے دائرہ کار کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیچیدگیوں کے باعث ان پلانٹس کے لیے موجودہ صورت حال میں سنگل خریدار ماڈل ختم کرنا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوائنٹ سیکریٹری نے زور دیا کہ رولز آف بزنس کے تحت پاور ڈویژن کا کردار صرف وہ شرائطِ سابقہ پوری کرنا ہے جو نجکاری کمیشن نے تجویز کی ہیں اور کابینہ کے فیصلوں پر عمل درآمد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گیس فراہمی کا معاملہ نہایت پیچیدہ ہے اور اس کا تعلق ڈائریکٹر جنرل (گیس) سے ہے، جبکہ پٹرولیم ڈویژن، نیپرا اور آئی ایس ایم او کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ پٹرولیم وزیر کی سربراہی میں کئی اجلاس ہو چکے ہیں اور مختلف تجاویز اور جوابی تجاویز جس میں واپڈا کی رائے بھی شامل ہے—وزیراعظم آفس کو کابینہ سطح کے فیصلے کے لیے بھیجی جا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے نجکاری کے خواہشمند خریداروں کے لیے گیس فراہمی سے متعلق سفارشات بھی پیش کیں، جن میں شامل ہیں: (i) نجکاری کے عمل کو قبل از نجکاری اور بعد از نجکاری مراحل میں تقسیم کیا جائے؛ (ii) قبل از نجکاری مرحلے میں ’جب دستیاب ہو والی موجودہ گیس فراہمی برقرار رکھی جائے کیونکہ خریدار اور فروخت کنندہ دونوں سرکاری ادارے ہیں؛ (iii) بعد از نجکاری خریداروں کو حکومت کی موجودہ درآمدی پالیسیوں کے تحت گیس حاصل کرنا ہو گی—اگرچہ اس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ اگر ماڈل تبدیل نہیں ہوتا تو نجکاری کا فائدہ کیا ہوگا؛ اور (iv) نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدن کو فوری طور پر پلانٹس کے قرضوں اور واجبات کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نندی پور اور گدو پاور پلانٹس جو فعال نجکاری فہرست میں شامل دو بڑے جنکوز ہیں—کے نجکاری مرحلے پر بریفنگ دیتے ہوئے جوائنٹ سیکریٹری نے بتایا کہ نندی پور کے نو میں سے آٹھ ابتدائی اقدامات مکمل ہو چکے ہیں جبکہ ایک تاحال زیر التوا ہے۔ گڈو کے معاملے میں نو میں سے پانچ اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں اور چار باقی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گڈو کو نہ صرف گیس فراہمی کے چیلنجز درپیش ہیں بلکہ چارجز، قرضوں کی ادائیگی اور زمین کی ملکیت کی منتقلی جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ گڈو کو اس وقت کندھ کوٹ کے مخصوص گیس فیلڈز سے گیس مل رہی ہے، لیکن ذخائر میں کمی کے باعث سپلائی میں کمی کا خطرہ برقرار ہے۔ زمین کی ملکیت کی منتقلی کا معاملہ، جو کہ فی الحال واپڈا کے نام پر ہے باوجود اس کے کہ پلانٹ کا انتظامی کنٹرول متعلقہ حکام کے پاس ہے، سندھ حکومت کے ساتھ اٹھایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی چیئرمین نے نجکاری ڈویژن اور پاور ڈویژن کی کوششوں کو سراہا، لیکن سنگل خریدار ماڈل کو سرمایہ کاروں کے لیے غیر پرکشش قرار دیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کو متبادل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔ سیکریٹری نجکاری نے کمیٹی کو بتایا کہ نیپرا کے تعاون سے تیار کردہ جامع سی ٹی ڈی سی پلان تیار ہے اور کسی بھی وقت پیش کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تین منافع بخش ڈسکوز—آئیسیکو، فیسکو اور جیپکو—کی نجکاری پر بھی بریفنگ دی، جو فیز ون کے بیچ ون کا حصہ ہیں۔ مالیاتی مشیر کی رپورٹس جمع کرا دی گئی ہیں اور اب متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، جن میں پاور ڈویژن، نیپرا، سی پی پی اے، آئی ایس ایم او، ڈسکوز اور نجکاری کمیشن شامل ہیں، ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے سفارش کی کہ آئندہ اجلاس میں نیپرا، پٹرولیم ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل (گیس) اور پاور ڈویژن کے آئی ایس ایم او کے نمائندگان کو جینکو سے متعلق معاملات پر مزید غور کے لیے مدعو کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاور ڈویژن کی جانب سے نجکاری فہرست میں شامل سرکاری ملکیتی پاور پلانٹس سے متعلق اہم مسائل حل نہ کیے جانے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر افنان اللہ خان، جنہوں نے اجلاس کی صدارت کی، نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاور ڈویژن نے سنگل خریدار ماڈل سے نکلنے کے لیے کوئی خاص پیش رفت نہیں کی۔</p>
<p>انہوں نے سوال اٹھایا کہ گیس کی فراہمی پہلے ہی محدود ہے اور اس کے ذخائر ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہو رہے ہیں۔ ایسے میں پاور پلانٹس کی نجکاری اور مستقبل کے معاہدوں کو گیس کی فراہمی سے مشروط کیسے کیا جا سکتا ہے؟</p>
<p>چیئرمین کمیٹی نے غیرحل شدہ معاملات، خاص طور پر نندی پور پاور پلانٹ کے حوالے سے وضاحت بھی طلب کی۔ جوائنٹ سیکریٹری پاور ڈویژن غلام رسول نے کمیٹی کو بتایا کہ اہم زیر التوا معاملہ پلانٹس اور گیس سپلائر کے درمیان الگ گیس فروخت و خریداری کے معاہدے پر دستخط ہے، جو نجکاری سے قبل ضروری ہے تاکہ ممکنہ خریداروں کو ایک مستحکم اور قانونی طور پر واضح فریم ورک فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت پاور پلانٹس کو گیس جب دستیاب ہو کی بنیاد پر فراہم کی جاتی ہے، جو کہ پٹرولیم ڈویژن کے دائرہ کار کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیچیدگیوں کے باعث ان پلانٹس کے لیے موجودہ صورت حال میں سنگل خریدار ماڈل ختم کرنا ممکن نہیں۔</p>
<p>جوائنٹ سیکریٹری نے زور دیا کہ رولز آف بزنس کے تحت پاور ڈویژن کا کردار صرف وہ شرائطِ سابقہ پوری کرنا ہے جو نجکاری کمیشن نے تجویز کی ہیں اور کابینہ کے فیصلوں پر عمل درآمد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گیس فراہمی کا معاملہ نہایت پیچیدہ ہے اور اس کا تعلق ڈائریکٹر جنرل (گیس) سے ہے، جبکہ پٹرولیم ڈویژن، نیپرا اور آئی ایس ایم او کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ پٹرولیم وزیر کی سربراہی میں کئی اجلاس ہو چکے ہیں اور مختلف تجاویز اور جوابی تجاویز جس میں واپڈا کی رائے بھی شامل ہے—وزیراعظم آفس کو کابینہ سطح کے فیصلے کے لیے بھیجی جا چکی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے نجکاری کے خواہشمند خریداروں کے لیے گیس فراہمی سے متعلق سفارشات بھی پیش کیں، جن میں شامل ہیں: (i) نجکاری کے عمل کو قبل از نجکاری اور بعد از نجکاری مراحل میں تقسیم کیا جائے؛ (ii) قبل از نجکاری مرحلے میں ’جب دستیاب ہو والی موجودہ گیس فراہمی برقرار رکھی جائے کیونکہ خریدار اور فروخت کنندہ دونوں سرکاری ادارے ہیں؛ (iii) بعد از نجکاری خریداروں کو حکومت کی موجودہ درآمدی پالیسیوں کے تحت گیس حاصل کرنا ہو گی—اگرچہ اس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ اگر ماڈل تبدیل نہیں ہوتا تو نجکاری کا فائدہ کیا ہوگا؛ اور (iv) نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدن کو فوری طور پر پلانٹس کے قرضوں اور واجبات کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جائے۔</p>
<p>نندی پور اور گدو پاور پلانٹس جو فعال نجکاری فہرست میں شامل دو بڑے جنکوز ہیں—کے نجکاری مرحلے پر بریفنگ دیتے ہوئے جوائنٹ سیکریٹری نے بتایا کہ نندی پور کے نو میں سے آٹھ ابتدائی اقدامات مکمل ہو چکے ہیں جبکہ ایک تاحال زیر التوا ہے۔ گڈو کے معاملے میں نو میں سے پانچ اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں اور چار باقی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گڈو کو نہ صرف گیس فراہمی کے چیلنجز درپیش ہیں بلکہ چارجز، قرضوں کی ادائیگی اور زمین کی ملکیت کی منتقلی جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ گڈو کو اس وقت کندھ کوٹ کے مخصوص گیس فیلڈز سے گیس مل رہی ہے، لیکن ذخائر میں کمی کے باعث سپلائی میں کمی کا خطرہ برقرار ہے۔ زمین کی ملکیت کی منتقلی کا معاملہ، جو کہ فی الحال واپڈا کے نام پر ہے باوجود اس کے کہ پلانٹ کا انتظامی کنٹرول متعلقہ حکام کے پاس ہے، سندھ حکومت کے ساتھ اٹھایا جا چکا ہے۔</p>
<p>کمیٹی چیئرمین نے نجکاری ڈویژن اور پاور ڈویژن کی کوششوں کو سراہا، لیکن سنگل خریدار ماڈل کو سرمایہ کاروں کے لیے غیر پرکشش قرار دیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کو متبادل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔ سیکریٹری نجکاری نے کمیٹی کو بتایا کہ نیپرا کے تعاون سے تیار کردہ جامع سی ٹی ڈی سی پلان تیار ہے اور کسی بھی وقت پیش کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے تین منافع بخش ڈسکوز—آئیسیکو، فیسکو اور جیپکو—کی نجکاری پر بھی بریفنگ دی، جو فیز ون کے بیچ ون کا حصہ ہیں۔ مالیاتی مشیر کی رپورٹس جمع کرا دی گئی ہیں اور اب متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، جن میں پاور ڈویژن، نیپرا، سی پی پی اے، آئی ایس ایم او، ڈسکوز اور نجکاری کمیشن شامل ہیں، ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے سفارش کی کہ آئندہ اجلاس میں نیپرا، پٹرولیم ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل (گیس) اور پاور ڈویژن کے آئی ایس ایم او کے نمائندگان کو جینکو سے متعلق معاملات پر مزید غور کے لیے مدعو کیا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280236</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 09:02:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/080900266ea5a15.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/080900266ea5a15.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
