<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سری لنکا میں طوفان کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کی وارننگز جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280229/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سری لنکا میں حکام نے لینڈ سلائیڈنگ کی نئی وارننگز جاری کی ہیں، جب کہ طاقتور طوفان سے متاثرہ علاقوں میں بارشیں جاری ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 618 تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استوائی طوفانوں اور موسمی بارشوں کی ایک زنجیر نے جنوب مشرقی اور جنوبی ایشیا کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے لینڈ سلائیڈنگ، وسیع علاقے پانی میں ڈوبنے اور کمیونٹیز کے کٹ جانے کے واقعات ہوئے ہیں، جو سماترا جزیرے کے جنگلات سے لے کر سری لنکا کے بلند پہاڑی چائے کے باغات تک پھیلے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دو ہفتوں میں سری لنکا، انڈونیشیا، ملائشیا، تھائی لینڈ اور ویتنام میں قدرتی آفات کے نتیجے میں کم از کم  1812 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا میں سائیکلون ڈیتوا کے باعث پچھلے ہفتے کی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے تقریباً دو ملین افراد متاثر ہوئے ہیں، جو آبادی کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر (ڈی ایم سی) کے مطابق مون سون طوفان مزید بارشیں لا رہے ہیں اور    وسطی پہاڑی خطے سمیت شمال مغربی میڈلینڈزپہاڑی علاقوں کو غیر مستحکم بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکز میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث زمینی رابطہ منقطع ہونے والی کمیونٹیز کو ہیلی کاپٹر اور طیاروں کے ذریعے امداد پہنچائی جا رہی ہے۔ سری لنکا ایئر فورس نے بتایا کہ منگولیا سے امدادی سامان کا ایک جہاز  آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اب تک 618 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جن میں 464 افراد وسطی چائے کے علاقوں سے بتائے گئے ہیں، جبکہ 209 افراد لاپتہ ہیں۔ ریاستی کیمپوں میں موجود افراد کی تعداد 225,000 سے کم ہو کر 100,000 رہ گئی ہے۔ 75,000 سے زائد مکانات متاثر ہوئے، جن میں تقریباً 5,000 مکمل طور پر تباہ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانٹو اتوار کو شدید متاثرہ آچہ صوبے کے لیے روانہ ہوئے ، تاکہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی  اقدامات اور بحالی کی رفتار کو یقینی بنایا جا سکے۔ انڈونیشیا میں ہلاکتیں 916 تک پہنچ چکی ہیں اور 274 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر سبیانٹو نے امدادی سامان کی تقسیم، رہائشیوں کی نقل مکانی اور سڑکوں کی بحالی کے اقدامات کی نگرانی کا وعدہ کیا، جبکہ کئی متاثرین نے حکام پر  آفات کی سیاحت کا الزام عائد کیا کہ وہ صرف صورتحال دیکھنے آئے ہیں، مسائل حل کرنے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحالی اور دوبارہ تعمیر پر اندازاً 7 ارب ڈالر لاگت آسکتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سری لنکا کی درخواست پر غور شروع کر دیا ہے، تاکہ اضافی 200 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی جا سکے، جو پہلے سے طے شدہ 347 ملین ڈالر کے قرض میں شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر انورا کمرا ڈیسنائے نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ سری لنکا کی معیشت  کافی حد تک بحال ہوئی ہے، لیکن موجودہ صدمے کا سامنا اکیلے نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سری لنکا میں حکام نے لینڈ سلائیڈنگ کی نئی وارننگز جاری کی ہیں، جب کہ طاقتور طوفان سے متاثرہ علاقوں میں بارشیں جاری ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 618 تک پہنچ گئی ہے۔</strong></p>
<p>استوائی طوفانوں اور موسمی بارشوں کی ایک زنجیر نے جنوب مشرقی اور جنوبی ایشیا کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے لینڈ سلائیڈنگ، وسیع علاقے پانی میں ڈوبنے اور کمیونٹیز کے کٹ جانے کے واقعات ہوئے ہیں، جو سماترا جزیرے کے جنگلات سے لے کر سری لنکا کے بلند پہاڑی چائے کے باغات تک پھیلے ہوئے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ دو ہفتوں میں سری لنکا، انڈونیشیا، ملائشیا، تھائی لینڈ اور ویتنام میں قدرتی آفات کے نتیجے میں کم از کم  1812 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>سری لنکا میں سائیکلون ڈیتوا کے باعث پچھلے ہفتے کی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے تقریباً دو ملین افراد متاثر ہوئے ہیں، جو آبادی کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر (ڈی ایم سی) کے مطابق مون سون طوفان مزید بارشیں لا رہے ہیں اور    وسطی پہاڑی خطے سمیت شمال مغربی میڈلینڈزپہاڑی علاقوں کو غیر مستحکم بنا رہے ہیں۔</p>
<p>مرکز میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث زمینی رابطہ منقطع ہونے والی کمیونٹیز کو ہیلی کاپٹر اور طیاروں کے ذریعے امداد پہنچائی جا رہی ہے۔ سری لنکا ایئر فورس نے بتایا کہ منگولیا سے امدادی سامان کا ایک جہاز  آیا ہے۔</p>
<p>حکومت نے اب تک 618 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جن میں 464 افراد وسطی چائے کے علاقوں سے بتائے گئے ہیں، جبکہ 209 افراد لاپتہ ہیں۔ ریاستی کیمپوں میں موجود افراد کی تعداد 225,000 سے کم ہو کر 100,000 رہ گئی ہے۔ 75,000 سے زائد مکانات متاثر ہوئے، جن میں تقریباً 5,000 مکمل طور پر تباہ ہوئے۔</p>
<p>انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانٹو اتوار کو شدید متاثرہ آچہ صوبے کے لیے روانہ ہوئے ، تاکہ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی  اقدامات اور بحالی کی رفتار کو یقینی بنایا جا سکے۔ انڈونیشیا میں ہلاکتیں 916 تک پہنچ چکی ہیں اور 274 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔</p>
<p>صدر سبیانٹو نے امدادی سامان کی تقسیم، رہائشیوں کی نقل مکانی اور سڑکوں کی بحالی کے اقدامات کی نگرانی کا وعدہ کیا، جبکہ کئی متاثرین نے حکام پر  آفات کی سیاحت کا الزام عائد کیا کہ وہ صرف صورتحال دیکھنے آئے ہیں، مسائل حل کرنے نہیں۔</p>
<p>بحالی اور دوبارہ تعمیر پر اندازاً 7 ارب ڈالر لاگت آسکتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سری لنکا کی درخواست پر غور شروع کر دیا ہے، تاکہ اضافی 200 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی جا سکے، جو پہلے سے طے شدہ 347 ملین ڈالر کے قرض میں شامل ہوں گے۔</p>
<p>صدر انورا کمرا ڈیسنائے نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ سری لنکا کی معیشت  کافی حد تک بحال ہوئی ہے، لیکن موجودہ صدمے کا سامنا اکیلے نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<hr />
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280229</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Dec 2025 17:04:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/0716165275f65da.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/0716165275f65da.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
