<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 19:03:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 19:03:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کریملن کا امریکی اسٹریٹیجی میں روس کیلئے براہِ راست خطرہ کے لیبل کے خاتمے کا خیرمقدم کیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280219/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کریملن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے قومی سلامتی کے اسٹریٹیجی میں ترمیم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں روس کو براہِ راست خطرہ کہنے کا تذکرہ ختم کر دیا گیا، یہ بات ترجمان دمتری پیسکوف نے کہی۔ یہ ردعمل اتوار کو روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے جاری کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2014 میں کریمیا کے الحاق اور 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کے بعد سے امریکہ نے روس کو ایک بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ تاہم، جمعہ کو جاری ہونے والی نئی پالیسی نرم لہجے میں پیش کی گئی اور محدود تعاون کی ہدایت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دمتری پیسکوف نے کہا کہ نئی اسٹریٹیجی میں روس کو براہِ راست خطرہ قرار دینے والے الفاظ ہٹا دیے گئے اور اس کے بجائے ماسکو کے ساتھ اسٹریٹیجک استحکام کے مسائل پر تعاون کی سفارش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسے مثبت قدم سمجھا ہے اور مزید کہا کہ روس دستاویز کا بغور جائزہ لے گا قبل ازیں کہ کوئی وسیع تر نتیجہ اخذ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی 29 صفحات پر مشتمل اسٹریٹیجی میں ٹرمپ کی خارجہ پالیسی لچکدار حقیقت پسندی کے طور پر بیان کی گئی ہے اور کہا گیا کہ امریکی پالیسی بنیادی طور پر جو امریکہ کے لیے مفید ہو اس کے تحت چلائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق، واشنگٹن یوکرین کے تنازعے کے فوری حل کی کوشش کرے گا اور ماسکو کے ساتھ اسٹریٹیجک استحکام کو دوبارہ قائم کرنے کا ہدف رکھے گا، جبکہ یہ واضح کیا گیا کہ یوکرین میں روس کے اقدامات ایک مرکزی سلامتی کا مسئلہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسٹریٹیجی کا اعلان اس وقت ہوا جب امریکی امن کوششیں رک گئی ہیں اور واشنگٹن نے روس کی اہم مطالبات کی حمایت کرنے والی تجویز پیش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ اکثر روسی صدر ولادی میر پوتن کی تعریف کرتے رہے ہیں، جس پر ناقدین نے ان پر الزام لگایا کہ وہ ماسکو کے حوالے نرم رویہ رکھتے ہیں، حالانکہ ان کی حکومت نے یوکرین میں روس کے اقدامات پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی اتحادی، جو روس کو روکنے کے لیے امریکی فوجی مدد پر انحصار کرتے ہیں، اس تبدیلی کو نزدیک سے دیکھ رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی نرم لہجہ ماسکو کے خلاف اقدامات کو کمزور کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کریملن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے قومی سلامتی کے اسٹریٹیجی میں ترمیم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں روس کو براہِ راست خطرہ کہنے کا تذکرہ ختم کر دیا گیا، یہ بات ترجمان دمتری پیسکوف نے کہی۔ یہ ردعمل اتوار کو روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے جاری کیا۔</strong></p>
<p>2014 میں کریمیا کے الحاق اور 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کے بعد سے امریکہ نے روس کو ایک بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ تاہم، جمعہ کو جاری ہونے والی نئی پالیسی نرم لہجے میں پیش کی گئی اور محدود تعاون کی ہدایت دی گئی۔</p>
<p>دمتری پیسکوف نے کہا کہ نئی اسٹریٹیجی میں روس کو براہِ راست خطرہ قرار دینے والے الفاظ ہٹا دیے گئے اور اس کے بجائے ماسکو کے ساتھ اسٹریٹیجک استحکام کے مسائل پر تعاون کی سفارش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسے مثبت قدم سمجھا ہے اور مزید کہا کہ روس دستاویز کا بغور جائزہ لے گا قبل ازیں کہ کوئی وسیع تر نتیجہ اخذ کیا جائے۔</p>
<p>نئی 29 صفحات پر مشتمل اسٹریٹیجی میں ٹرمپ کی خارجہ پالیسی لچکدار حقیقت پسندی کے طور پر بیان کی گئی ہے اور کہا گیا کہ امریکی پالیسی بنیادی طور پر جو امریکہ کے لیے مفید ہو اس کے تحت چلائی جائے گی۔</p>
<p>دستاویز کے مطابق، واشنگٹن یوکرین کے تنازعے کے فوری حل کی کوشش کرے گا اور ماسکو کے ساتھ اسٹریٹیجک استحکام کو دوبارہ قائم کرنے کا ہدف رکھے گا، جبکہ یہ واضح کیا گیا کہ یوکرین میں روس کے اقدامات ایک مرکزی سلامتی کا مسئلہ ہیں۔</p>
<p>اس اسٹریٹیجی کا اعلان اس وقت ہوا جب امریکی امن کوششیں رک گئی ہیں اور واشنگٹن نے روس کی اہم مطالبات کی حمایت کرنے والی تجویز پیش کی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ اکثر روسی صدر ولادی میر پوتن کی تعریف کرتے رہے ہیں، جس پر ناقدین نے ان پر الزام لگایا کہ وہ ماسکو کے حوالے نرم رویہ رکھتے ہیں، حالانکہ ان کی حکومت نے یوکرین میں روس کے اقدامات پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں۔</p>
<p>یورپی اتحادی، جو روس کو روکنے کے لیے امریکی فوجی مدد پر انحصار کرتے ہیں، اس تبدیلی کو نزدیک سے دیکھ رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی نرم لہجہ ماسکو کے خلاف اقدامات کو کمزور کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280219</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Dec 2025 14:07:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/07140605919ba42.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/07140605919ba42.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
