<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 10:03:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Jul 2026 10:03:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب میں تین تعمیراتی سائٹس پر ای پی اے نے بھاری جرمانے عائد کر دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280218/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) نے نواز شریف آئی ٹی سٹی پروجیکٹ کی تین بڑی تعمیراتی سائٹس پر فی کس  5 لاکھ روپے کے بھاری جرمانے عائد کر دیے، سخت کارروائی اس وقت عمل میں لائی  گئی جب علاقے میں خطرناک سطح کی آلودگی دیکھی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جرمانے زمین ڈیولپرز کے آئی ٹی ٹاور، سی بی ڈی آئی ٹی ٹاور اور پی کے ایل آئی  اسپتال کے قریب واقع میکسیون کنسٹرکشن کمپنی  پر لگائے گئے ۔ حکام کے مطابق وہاں  واضح اور مسلسل خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نفاذ اس وقت ہوا جب ماحولیاتی انسپکٹر ہدایت اللہ نے معائنہ کیا  کہ بڑے پیمانے پر تعمیراتی اور بنیادی ڈھانچے کے کام بغیر کسی ضروری دھول کنٹرول اقدامات کے جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال کے آغاز میں  ای پی اے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے بار بار ہدایات جاری کرنے کے باوجود ٹھیکیداروں نے پانی کے چھڑکاؤ، دھول کے بارئر، اسکریننگ نیٹ یا ڈھیلے تعمیراتی مواد اور ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی مناسب کورنگ جیسی حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد  نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی کاروباری ضلع (سی بی ڈی) اتھارٹی کو جاری کردہ ایک سرکاری حکم نامے اور میڈیا کے ساتھ شیئر کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ صورتحال  تشویشناک ہے کیونکہ پی کے ایل آئی پر نصب ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشن نے مستقل طور پر 500 سے زیادہ ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) درج کیا، یہ سطح خطرناک  اور عوامی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرنے والی قرار دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای پی اے نے اس اضافے کی بڑی وجہ جاری تعمیراتی کاموں سے بے قابو دھول کے اخراج کو قرار دیا ہے، جو 900 ایکڑ کے ترقیاتی علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای پی اے  نے سی بی ڈی  پنجاب کو ہنگامی ہدایت جاری کی کہ جرمانے فوری طور پر وصول کیے جائیں اور مکمل رقم تین دن کے اندر سرکاری کھاتے میں جمع کرائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ  تمام  فعال سائٹ پر ہر ممکنہ اقدامات کیے جائیں  اور ایس او پیز  سختی سے نافذ کی جائیں، جس میں معمول کے مطابق پانی کے چھڑکاؤ، تعمیراتی مواد کی مناسب حفاظت اور دھول کو روکنے والے اسکریننگ ڈھانچوں کی تنصیب شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) نے نواز شریف آئی ٹی سٹی پروجیکٹ کی تین بڑی تعمیراتی سائٹس پر فی کس  5 لاکھ روپے کے بھاری جرمانے عائد کر دیے، سخت کارروائی اس وقت عمل میں لائی  گئی جب علاقے میں خطرناک سطح کی آلودگی دیکھی گئی۔</strong></p>
<p>یہ جرمانے زمین ڈیولپرز کے آئی ٹی ٹاور، سی بی ڈی آئی ٹی ٹاور اور پی کے ایل آئی  اسپتال کے قریب واقع میکسیون کنسٹرکشن کمپنی  پر لگائے گئے ۔ حکام کے مطابق وہاں  واضح اور مسلسل خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں۔</p>
<p>یہ نفاذ اس وقت ہوا جب ماحولیاتی انسپکٹر ہدایت اللہ نے معائنہ کیا  کہ بڑے پیمانے پر تعمیراتی اور بنیادی ڈھانچے کے کام بغیر کسی ضروری دھول کنٹرول اقدامات کے جاری ہیں۔</p>
<p>رواں سال کے آغاز میں  ای پی اے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے بار بار ہدایات جاری کرنے کے باوجود ٹھیکیداروں نے پانی کے چھڑکاؤ، دھول کے بارئر، اسکریننگ نیٹ یا ڈھیلے تعمیراتی مواد اور ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی مناسب کورنگ جیسی حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد  نہیں کیا۔</p>
<p>مرکزی کاروباری ضلع (سی بی ڈی) اتھارٹی کو جاری کردہ ایک سرکاری حکم نامے اور میڈیا کے ساتھ شیئر کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ صورتحال  تشویشناک ہے کیونکہ پی کے ایل آئی پر نصب ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشن نے مستقل طور پر 500 سے زیادہ ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) درج کیا، یہ سطح خطرناک  اور عوامی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرنے والی قرار دی گئی۔</p>
<p>ای پی اے نے اس اضافے کی بڑی وجہ جاری تعمیراتی کاموں سے بے قابو دھول کے اخراج کو قرار دیا ہے، جو 900 ایکڑ کے ترقیاتی علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔</p>
<p>ای پی اے  نے سی بی ڈی  پنجاب کو ہنگامی ہدایت جاری کی کہ جرمانے فوری طور پر وصول کیے جائیں اور مکمل رقم تین دن کے اندر سرکاری کھاتے میں جمع کرائی جائے۔</p>
<p>ایجنسی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ  تمام  فعال سائٹ پر ہر ممکنہ اقدامات کیے جائیں  اور ایس او پیز  سختی سے نافذ کی جائیں، جس میں معمول کے مطابق پانی کے چھڑکاؤ، تعمیراتی مواد کی مناسب حفاظت اور دھول کو روکنے والے اسکریننگ ڈھانچوں کی تنصیب شامل ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280218</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Dec 2025 13:59:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد بیگ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/071346073ecbab0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/071346073ecbab0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
