<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 01:34:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 01:34:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رائے: زراعت اور معیشت کے مستقبل کی تشکیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280214/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;زراعت کا شعبہ پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتا ہے۔ یہ طویل عرصے سے پس منظر میں کام کرتا رہا ہے، لیکن آج بھی قومی ترقی اور خوشحالی کی مضبوط ترین بنیاد ہے۔ یہ شعبہ ملک کے جی ڈی پی میں تقریباً 23.54 فیصد حصہ ڈالتا  اور مزدور قوت کے لگ بھگ 37 فیصد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔اس اہمیت کے باوجود گزشتہ چند برس میں شعبۂ زراعت کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024-25 میں زرعی ترقی صرف 0.56 فیصد رہی، جبکہ گندم، کپاس، مکئی اور گنے جیسی اہم فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے نے 4.72 فیصد مثبت ترقی حاصل کی، جو خوراک کی سیکیورٹی اور برآمدات کی صلاحیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال واضح کرتی ہے کہ پاکستان کی زرعی صلاحیت پوری طرح استعمال نہیں ہو رہی اور جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری میں اضافے اور پائیدار پالیسی ڈھانچے کی فوری ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی پس منظر میں بریجنگ پاکستان ایگریکلچر انویسٹمنٹ کانفرنس 2025  جو 9 سے 10 دسمبر کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگی  ایک اہم قومی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانفرنس کا مقصد زرعی سرمایہ کاری کا فروغ ، سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان تعاون مضبوط کرنا، قابلِ عمل پالیسی سفارشات کی تیاری اور موسمیاتی و ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی حکمتِ عملی وضع کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صرف ایک تقریب نہیں، بلکہ زرعی نظام کی ازسرنو تنظیم اور ایک مربوط پالیسی ڈھانچہ تشکیل دینے کی کوشش ہے، تاکہ پاکستان کا زرعی شعبہ منظم، پُرکشش اور سرمایہ کاری کے لیے تیار نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں حال ہی میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارت کے سینئر حکام، گرین پاکستان انیشی ایٹو (جی پی آئی) اور ایڈووکیسی اویئرنیس اینڈ سسٹین ایبل سروسز (اے اے ایس ایس ) کے نمائندوں نے کانفرنس کے شیڈول، پینل مباحثے، مقررین اور موضوعات کو حتمی شکل دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اداروں، نجی شعبے، سرمایہ کاروں، بینکاری سیکٹر، تکنیکی ماہرین اور زرعی اسٹیک ہولڈرز کی متوازن نمائندگی کو یقینی بنایا گیا ،تاکہ مباحثے محض نظری نہ ہوں بلکہ عملی، قابلِ عمل اور پالیسی سے مطابقت رکھنے والے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانفرنس میں آٹھ اہم سیشن شامل ہوں گے، جن میں پاکستان کی موجودہ زرعی ترجیحات اور مستقبل کے چیلنجز زیرِ بحث آئیں گے۔ ان میں بزنس فرینڈلی زرعی ماحول، جدید مارکیٹنگ نظام، کسانوں کی عالمی منڈیوں تک براہِ راست رسائی، مالیاتی خدمات میں بہتری، اسمارٹ ایگریکلچر، مکینائزیشن تک رسائی، پانی کے مؤثر انتظام، جدید آبپاشی ٹیکنالوجی، لائیو اسٹاک اور ڈیری میں سرمایہ کاری کے مواقع اور فوڈ سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی موسمیاتی کمزوری کو مدِنظر رکھتے ہوئے کانفرنس میں خصوصی توجہ کلائمٹ اسمارٹ ایگریکلچر پر دی جائے گی ،تاکہ فصلوں کو درجہ حرارت کی تبدیلی، پانی کی کمی، حیاتیاتی خطرات اور ماحولیاتی عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کو فوری طور پر زرعی اصلاحات، سرمایہ کاری میں اضافہ، جدید زرعی مشینری، بعد از برداشت پراسیسنگ انفرااسٹرکچر، کارپوریٹ فارمنگ، ویلیو ایڈیشن اور زرعی برآمدات کے فروغ کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابلِ فنانس منصوبوں کی شناخت، زرعی فنانسنگ ماڈلز کی تشکیل، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے شراکت داری کے فریم ورک اور نئے کاروباری ماڈلز کے نفاذ سے زرعی شعبے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ کسانوں کو براہِ راست منڈیوں تک رسائی اور مضبوط سپلائی چین نہ صرف ان کی آمدنی بڑھائے گی بلکہ قومی برآمدات کے نئے راستے بھی کھولے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانفرنس کی کامیابی بالآخر اس کی سفارشات اور فیصلوں پر عمل درآمد پر منحصر ہوگی۔ پاکستان میں ماضی کی کئی قومی کانفرنسیں تجاویز تک محدود رہ گئی تھیں، لیکن موجودہ زرعی بحران اور موسمیاتی خطرات عملی اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر حکومت، ماہرین اور سرمایہ کار مشترکہ، مربوط اور قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کریں تو یہ کانفرنس زرعی شعبے کی بحالی، خوراک کی سیکیورٹی، معاشی استحکام اور برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کانفرنس پاکستان کے زرعی مستقبل کی سمت متعین کرنے کا ایک فیصلہ کن موقع ہے۔ اس کے نتائج پر شفاف، مربوط اور بروقت عمل درآمد سے زرعی شعبہ سرمایہ کاروں کے لیے مزید دلکش بن سکتا ہے، دیہی معیشت میں ترقی، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور غذائی تحفظ  میں بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;بریجنگ پاکستان ایگریکلچر انویسٹمنٹ کانفرنس 2025 زرعی معیشت کی بحالی، زرعی وژن کی جدت سازی اور اس شعبے کو عالمی مقابلے کے قابل بنانے کا ایک اہم موقع پیش کرتی ہے۔ مضبوط فارم، فعال منڈیاں اور مستحکم معیشت کے خواہشمند تمام اسٹیک ہولڈرز اس پیشرفت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>زراعت کا شعبہ پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتا ہے۔ یہ طویل عرصے سے پس منظر میں کام کرتا رہا ہے، لیکن آج بھی قومی ترقی اور خوشحالی کی مضبوط ترین بنیاد ہے۔ یہ شعبہ ملک کے جی ڈی پی میں تقریباً 23.54 فیصد حصہ ڈالتا  اور مزدور قوت کے لگ بھگ 37 فیصد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔اس اہمیت کے باوجود گزشتہ چند برس میں شعبۂ زراعت کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں رہی۔</strong></p>
<p>مالی سال 2024-25 میں زرعی ترقی صرف 0.56 فیصد رہی، جبکہ گندم، کپاس، مکئی اور گنے جیسی اہم فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس لائیو اسٹاک کے ذیلی شعبے نے 4.72 فیصد مثبت ترقی حاصل کی، جو خوراک کی سیکیورٹی اور برآمدات کی صلاحیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔</p>
<p>یہ صورتِ حال واضح کرتی ہے کہ پاکستان کی زرعی صلاحیت پوری طرح استعمال نہیں ہو رہی اور جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری میں اضافے اور پائیدار پالیسی ڈھانچے کی فوری ضرورت ہے۔</p>
<p>اسی پس منظر میں بریجنگ پاکستان ایگریکلچر انویسٹمنٹ کانفرنس 2025  جو 9 سے 10 دسمبر کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگی  ایک اہم قومی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئی ہے۔</p>
<p>کانفرنس کا مقصد زرعی سرمایہ کاری کا فروغ ، سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان تعاون مضبوط کرنا، قابلِ عمل پالیسی سفارشات کی تیاری اور موسمیاتی و ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی حکمتِ عملی وضع کرنا ہے۔</p>
<p>یہ صرف ایک تقریب نہیں، بلکہ زرعی نظام کی ازسرنو تنظیم اور ایک مربوط پالیسی ڈھانچہ تشکیل دینے کی کوشش ہے، تاکہ پاکستان کا زرعی شعبہ منظم، پُرکشش اور سرمایہ کاری کے لیے تیار نظر آئے۔</p>
<p>کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں حال ہی میں وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارت کے سینئر حکام، گرین پاکستان انیشی ایٹو (جی پی آئی) اور ایڈووکیسی اویئرنیس اینڈ سسٹین ایبل سروسز (اے اے ایس ایس ) کے نمائندوں نے کانفرنس کے شیڈول، پینل مباحثے، مقررین اور موضوعات کو حتمی شکل دی۔</p>
<p>سرکاری اداروں، نجی شعبے، سرمایہ کاروں، بینکاری سیکٹر، تکنیکی ماہرین اور زرعی اسٹیک ہولڈرز کی متوازن نمائندگی کو یقینی بنایا گیا ،تاکہ مباحثے محض نظری نہ ہوں بلکہ عملی، قابلِ عمل اور پالیسی سے مطابقت رکھنے والے ہوں۔</p>
<p>کانفرنس میں آٹھ اہم سیشن شامل ہوں گے، جن میں پاکستان کی موجودہ زرعی ترجیحات اور مستقبل کے چیلنجز زیرِ بحث آئیں گے۔ ان میں بزنس فرینڈلی زرعی ماحول، جدید مارکیٹنگ نظام، کسانوں کی عالمی منڈیوں تک براہِ راست رسائی، مالیاتی خدمات میں بہتری، اسمارٹ ایگریکلچر، مکینائزیشن تک رسائی، پانی کے مؤثر انتظام، جدید آبپاشی ٹیکنالوجی، لائیو اسٹاک اور ڈیری میں سرمایہ کاری کے مواقع اور فوڈ سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی موسمیاتی کمزوری کو مدِنظر رکھتے ہوئے کانفرنس میں خصوصی توجہ کلائمٹ اسمارٹ ایگریکلچر پر دی جائے گی ،تاکہ فصلوں کو درجہ حرارت کی تبدیلی، پانی کی کمی، حیاتیاتی خطرات اور ماحولیاتی عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔</p>
<p>یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کو فوری طور پر زرعی اصلاحات، سرمایہ کاری میں اضافہ، جدید زرعی مشینری، بعد از برداشت پراسیسنگ انفرااسٹرکچر، کارپوریٹ فارمنگ، ویلیو ایڈیشن اور زرعی برآمدات کے فروغ کی ضرورت ہے۔</p>
<p>قابلِ فنانس منصوبوں کی شناخت، زرعی فنانسنگ ماڈلز کی تشکیل، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے شراکت داری کے فریم ورک اور نئے کاروباری ماڈلز کے نفاذ سے زرعی شعبے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ کسانوں کو براہِ راست منڈیوں تک رسائی اور مضبوط سپلائی چین نہ صرف ان کی آمدنی بڑھائے گی بلکہ قومی برآمدات کے نئے راستے بھی کھولے گی۔</p>
<p>کانفرنس کی کامیابی بالآخر اس کی سفارشات اور فیصلوں پر عمل درآمد پر منحصر ہوگی۔ پاکستان میں ماضی کی کئی قومی کانفرنسیں تجاویز تک محدود رہ گئی تھیں، لیکن موجودہ زرعی بحران اور موسمیاتی خطرات عملی اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔</p>
<p>اگر حکومت، ماہرین اور سرمایہ کار مشترکہ، مربوط اور قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کریں تو یہ کانفرنس زرعی شعبے کی بحالی، خوراک کی سیکیورٹی، معاشی استحکام اور برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوسکتی ہے۔</p>
<p>یہ کانفرنس پاکستان کے زرعی مستقبل کی سمت متعین کرنے کا ایک فیصلہ کن موقع ہے۔ اس کے نتائج پر شفاف، مربوط اور بروقت عمل درآمد سے زرعی شعبہ سرمایہ کاروں کے لیے مزید دلکش بن سکتا ہے، دیہی معیشت میں ترقی، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور غذائی تحفظ  میں بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>بریجنگ پاکستان ایگریکلچر انویسٹمنٹ کانفرنس 2025 زرعی معیشت کی بحالی، زرعی وژن کی جدت سازی اور اس شعبے کو عالمی مقابلے کے قابل بنانے کا ایک اہم موقع پیش کرتی ہے۔ مضبوط فارم، فعال منڈیاں اور مستحکم معیشت کے خواہشمند تمام اسٹیک ہولڈرز اس پیشرفت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔</p>
</blockquote>
<hr />
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280214</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Dec 2025 13:35:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ساجد محمود)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/0713182368ee3eb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/0713182368ee3eb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
