<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:51:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:51:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اکاؤنٹس اسٹیٹمنٹ جمع نہ کرانے پر ایس ای سی پی کا نامزد شراکت داروں اور ایل ایل پیز پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280201/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) نے اعلان کیا ہے کہ جو لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنرشپس (ایل ایل پیز) اپنے اکاؤنٹس اسٹیٹمنٹ کمیشن میں جمع کرانے میں ناکام رہیں گی، ان پر روزانہ جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ نامزد شراکت داروں پر  25,000 روپے تک کا جرمانہ لگایا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں ایس ای سی پی نے ایک ایس آر او جاری کیا ہے، جو 2017 کے لمیٹڈ لائبیلٹی پارٹنرشپ ایکٹ کی دفعہ 52 اور دفعہ 20 کی ذیلی شق 3، نیز لمیٹڈ لائبیلٹی پارٹنرشپ ریگولیشنز 2018 کی ریگولیشن 16 کی ذیلی ریگولیشن 3 کے تحت حاصل اختیارات کے تحت جاری کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے یہ مسودہ عوامی رائے کے لیے جاری کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق یہ  یکم جولائی 2026 سے نافذ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی ایل ایل پی کی جانب سے اس تقاضے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں 25,000 روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا اور ہر روز کے لیے مزید 500 روپے یومیہ جرمانہ لاگو ہوگا جب تک کہ خلاف ورزی برقرار رہے۔ اس کے علاوہ شراکت داری کے ہر نامزد شریک پر 2,000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ تاہم اگر کمیشن کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کے 30 دن کے اندر اندر خلاف ورزی ختم کر دی جائے تو جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن ایل ایل پیز کا سالانہ ٹرن اوور 1 ارب روپے سے زائد ہے، ان پر ایس ای سی پی کی جانب سے مقرر کردہ بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات (آئی ایف آر ایس) کا اطلاق ہوگا۔ آڈٹ کا تقاضہ بھی وہی ہوگا جو انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے منظور شدہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن ایل ایل پیز کا ٹرن اوور 500 ملین روپے سے زائد اور 1 ارب روپے تک ہے، ان پر ایس ای سی پی کی جانب سے نوٹیفائی کردہ بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات برائے چھوٹے اور درمیانے ادارے (آئی ایف آر ایس فار ایس ایم ایز) کا اطلاق ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ جن ایل ایل پیز کا ٹرن اوور 500 ملین روپے سے کم ہے، ان پر ایس ای سی پی کے جاری کردہ چھوٹے درجے کے اداروں کے لیے نظرثانی شدہ اکاؤنٹنگ اور مالیاتی رپورٹنگ معیارات (اے ایف آر ایس) لاگو ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) نے اعلان کیا ہے کہ جو لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنرشپس (ایل ایل پیز) اپنے اکاؤنٹس اسٹیٹمنٹ کمیشن میں جمع کرانے میں ناکام رہیں گی، ان پر روزانہ جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ نامزد شراکت داروں پر  25,000 روپے تک کا جرمانہ لگایا جائے گا۔</strong></p>
<p>اس سلسلے میں ایس ای سی پی نے ایک ایس آر او جاری کیا ہے، جو 2017 کے لمیٹڈ لائبیلٹی پارٹنرشپ ایکٹ کی دفعہ 52 اور دفعہ 20 کی ذیلی شق 3، نیز لمیٹڈ لائبیلٹی پارٹنرشپ ریگولیشنز 2018 کی ریگولیشن 16 کی ذیلی ریگولیشن 3 کے تحت حاصل اختیارات کے تحت جاری کیا گیا ہے۔</p>
<p>کمیشن نے یہ مسودہ عوامی رائے کے لیے جاری کیا ہے۔</p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق یہ  یکم جولائی 2026 سے نافذ ہوگا۔</p>
<p>کسی بھی ایل ایل پی کی جانب سے اس تقاضے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں 25,000 روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا اور ہر روز کے لیے مزید 500 روپے یومیہ جرمانہ لاگو ہوگا جب تک کہ خلاف ورزی برقرار رہے۔ اس کے علاوہ شراکت داری کے ہر نامزد شریک پر 2,000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ تاہم اگر کمیشن کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کے 30 دن کے اندر اندر خلاف ورزی ختم کر دی جائے تو جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>جن ایل ایل پیز کا سالانہ ٹرن اوور 1 ارب روپے سے زائد ہے، ان پر ایس ای سی پی کی جانب سے مقرر کردہ بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات (آئی ایف آر ایس) کا اطلاق ہوگا۔ آڈٹ کا تقاضہ بھی وہی ہوگا جو انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے منظور شدہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔</p>
<p>جن ایل ایل پیز کا ٹرن اوور 500 ملین روپے سے زائد اور 1 ارب روپے تک ہے، ان پر ایس ای سی پی کی جانب سے نوٹیفائی کردہ بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات برائے چھوٹے اور درمیانے ادارے (آئی ایف آر ایس فار ایس ایم ایز) کا اطلاق ہوگا۔</p>
<p>جبکہ جن ایل ایل پیز کا ٹرن اوور 500 ملین روپے سے کم ہے، ان پر ایس ای سی پی کے جاری کردہ چھوٹے درجے کے اداروں کے لیے نظرثانی شدہ اکاؤنٹنگ اور مالیاتی رپورٹنگ معیارات (اے ایف آر ایس) لاگو ہوں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280201</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Dec 2025 10:03:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/07100208f72a54a.webp" type="image/webp" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/07100208f72a54a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
