<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے بغیر جنگ بندی ادھوری ہے، قطری وزیراعظم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280196/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ثالث قطر کے وزیراعظم نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ دو ماہ سے غزہ میں جاری جنگ بندی اُس وقت تک مکمل نہیں ہوگی جب تک امریکا اور اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ امن منصوبے کے تحت  اسرائیلی افواج  فلسطینی علاقے سے مکمل طور پر  واپس نہیں چلی جاتیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوحہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا ہے کہ ’’ہم اس وقت ایک نازک مرحلے پر ہیں… جنگ بندی اُس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا نہ ہو اور غزہ میں استحکام بحال نہ کیا جائے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر نے امریکہ اور مصر کے ساتھ مل کر غزہ میں وہ مشکل جنگ بندی کرائی جو 10 اکتوبر کو نافذ ہوئی اور جس نے اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال سے جاری لڑائی کو بڑی حد تک روک دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت، جو تاحال شروع نہیں ہوا، اسرائیل نے غزہ میں اپنی پوزیشنز سے انخلا کرنا ہے، ایک عبوری انتظامیہ نے انتظام سنبھالنا ہے، اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کو تعینات کیا جانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب اور مسلم ممالک اس نئی استحکام فورس میں حصہ لینے سے ہچکچا رہے ہیں، جو بالآخر کسی فلسطینی گروہ سے لڑائی میں اُلجھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے، جنہوں نے فورم سے خطاب کیا، کہا ہے کہ فورس سے متعلق بات چیت جاری ہے اور اس کے کمانڈ ڈھانچے اور کون سے  ممالک اس میں شامل ہوں گے، جیسے اہم سوالات ابھی باقی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن فیدان کے مطابق اس فورس کا پہلا مقصد ’’فلسطینیوں کو اسرائیلیوں سے الگ کرنا ہونا چاہیے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ  “یہ ہمارا بنیادی ہدف ہونا چاہیے۔ اس کے بعد باقی رہ جانے والے مسائل پر بات کی جا سکتی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 نکاتی منصوبے کے تحت، جسے سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش کیا تھا، حماس کو غیر مسلح ہونا ہے، جبکہ جو ارکان اپنے ہتھیار رکھ دیں گے انہیں غزہ چھوڑنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم گروپ نے اس تجویز کو متعدد بار مسترد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’پائیدار حل‘&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ استحکام فورس کا حصہ بننا چاہتا ہے، لیکن اسرائیل اس پر معترض ہے کیونکہ وہ انقرہ کو حماس کے بہت قریب سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیدان نے کہا کہ “میری رائے میں اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد قابلِ عمل طریقہ یہ ہے کہ امن مذاکرات میں سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ شامل ہوا جائے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ محمد نے بتایا کہ قطر اور جنگ بندی کے دیگر ضامن، ترکیہ، مصر اور امریکہ، “اگلے مرحلے کے لیے راستہ ہموار کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں”۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا ہے کہ  “اور یہ اگلا مرحلہ بھی ہماری نظر میں عارضی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ  “اگر ہم… صرف گزشتہ دو برس میں جو ہوا اسے حل کر رہے ہیں تو یہ کافی نہیں۔ ہمیں ایک ایسا پائیدار حل درکار ہے جو دونوں قوموں کے لیے انصاف فراہم کرے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قاہرہ کے مطابق مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعطی نے ہفتے کے روز فورم کے موقع پر قطری وزیراعظم سے ملاقات کی تاکہ جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصری وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ “ملاقات میں غزہ کی زمینی صورتحال پر بات چیت ہوئی، اور دونوں حکام نے شرم الشیخ امن معاہدے پر عملدرآمد کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا ہے”۔ یہ معاہدہ اکتوبر میں بحیرہ احمر کے ساحلی شہر میں طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر نے غزہ کے لیے 5,000 پولیس اہلکاروں کی تربیت کا منصوبہ بھی اعلان کیا ہے اور وہ ان ممالک میں شامل ہے جو استحکام فورس کے ممکنہ دستوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ثالث قطر کے وزیراعظم نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ دو ماہ سے غزہ میں جاری جنگ بندی اُس وقت تک مکمل نہیں ہوگی جب تک امریکا اور اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ امن منصوبے کے تحت  اسرائیلی افواج  فلسطینی علاقے سے مکمل طور پر  واپس نہیں چلی جاتیں۔</strong></p>
<p>دوحہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا ہے کہ ’’ہم اس وقت ایک نازک مرحلے پر ہیں… جنگ بندی اُس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا نہ ہو اور غزہ میں استحکام بحال نہ کیا جائے۔‘‘</p>
<p>قطر نے امریکہ اور مصر کے ساتھ مل کر غزہ میں وہ مشکل جنگ بندی کرائی جو 10 اکتوبر کو نافذ ہوئی اور جس نے اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال سے جاری لڑائی کو بڑی حد تک روک دیا ہے۔</p>
<p>معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت، جو تاحال شروع نہیں ہوا، اسرائیل نے غزہ میں اپنی پوزیشنز سے انخلا کرنا ہے، ایک عبوری انتظامیہ نے انتظام سنبھالنا ہے، اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کو تعینات کیا جانا ہے۔</p>
<p>عرب اور مسلم ممالک اس نئی استحکام فورس میں حصہ لینے سے ہچکچا رہے ہیں، جو بالآخر کسی فلسطینی گروہ سے لڑائی میں اُلجھ سکتی ہے۔</p>
<p>ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے، جنہوں نے فورم سے خطاب کیا، کہا ہے کہ فورس سے متعلق بات چیت جاری ہے اور اس کے کمانڈ ڈھانچے اور کون سے  ممالک اس میں شامل ہوں گے، جیسے اہم سوالات ابھی باقی ہیں۔</p>
<p>لیکن فیدان کے مطابق اس فورس کا پہلا مقصد ’’فلسطینیوں کو اسرائیلیوں سے الگ کرنا ہونا چاہیے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ  “یہ ہمارا بنیادی ہدف ہونا چاہیے۔ اس کے بعد باقی رہ جانے والے مسائل پر بات کی جا سکتی ہے۔”</p>
<p>20 نکاتی منصوبے کے تحت، جسے سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش کیا تھا، حماس کو غیر مسلح ہونا ہے، جبکہ جو ارکان اپنے ہتھیار رکھ دیں گے انہیں غزہ چھوڑنے کی اجازت ہوگی۔ تاہم گروپ نے اس تجویز کو متعدد بار مسترد کیا ہے۔</p>
<p><strong>’پائیدار حل‘</strong></p>
<p>ترکیہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ استحکام فورس کا حصہ بننا چاہتا ہے، لیکن اسرائیل اس پر معترض ہے کیونکہ وہ انقرہ کو حماس کے بہت قریب سمجھتا ہے۔</p>
<p>فیدان نے کہا کہ “میری رائے میں اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد قابلِ عمل طریقہ یہ ہے کہ امن مذاکرات میں سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ شامل ہوا جائے۔”</p>
<p>شیخ محمد نے بتایا کہ قطر اور جنگ بندی کے دیگر ضامن، ترکیہ، مصر اور امریکہ، “اگلے مرحلے کے لیے راستہ ہموار کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں”۔</p>
<p>انہوں نے کہا ہے کہ  “اور یہ اگلا مرحلہ بھی ہماری نظر میں عارضی ہے۔”</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ  “اگر ہم… صرف گزشتہ دو برس میں جو ہوا اسے حل کر رہے ہیں تو یہ کافی نہیں۔ ہمیں ایک ایسا پائیدار حل درکار ہے جو دونوں قوموں کے لیے انصاف فراہم کرے۔”</p>
<p>قاہرہ کے مطابق مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعطی نے ہفتے کے روز فورم کے موقع پر قطری وزیراعظم سے ملاقات کی تاکہ جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔</p>
<p>مصری وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ “ملاقات میں غزہ کی زمینی صورتحال پر بات چیت ہوئی، اور دونوں حکام نے شرم الشیخ امن معاہدے پر عملدرآمد کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا ہے”۔ یہ معاہدہ اکتوبر میں بحیرہ احمر کے ساحلی شہر میں طے پایا تھا۔</p>
<p>مصر نے غزہ کے لیے 5,000 پولیس اہلکاروں کی تربیت کا منصوبہ بھی اعلان کیا ہے اور وہ ان ممالک میں شامل ہے جو استحکام فورس کے ممکنہ دستوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280196</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Dec 2025 22:04:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/06213808499394a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/06213808499394a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
