<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بائنانس کے وفد کی ملاقات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280195/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی حکومت نے ہفتہ کے روز بائنانس کے وفد کے ساتھ ملاقات میں ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن کے لیے مضبوط عزم کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بائنانس کی سینئر قیادت، بشمول عالمی سی ای او رچرڈ ٹینگ، اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف ( سی او اے ایس) اور چیف آف ڈیفنس فورسز ( سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم کے دفتر  سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی ( پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب بھی اس ملاقات میں شریک ہوئے اور اپنی تنظیم کے بارے میں بریفنگ دی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت فنانس ڈویژن میں ایک اعلیٰ سطح کے اس مشاورتی اجلاس کے انعقاد کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے، جس کی مشترکہ صدارت وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور پی وی اے آر اے کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کی، اور پاکستان کے نیشنل ڈیجیٹل اثاثہ فریم ورک پر کام کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی) کے ساتھ پاکستان کے بڑے تجارتی بینکوں کے صدور اور ایگزیکٹوز اور بائنانس کی سینئر قیادت، بشمول عالمی سی ای او رچرڈ ٹینگ، اس مباحثے میں شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا ہے کہ ”اس اجلاس میں پاکستان کے لیے محفوظ، منظم اور جدت پر مبنی ڈیجیٹل اثاثہ ایکو سسٹم کے قیام کے آئندہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا، خاص طور پر آن- اور آف ریمپ انفرااسٹرکچر کے ذمہ دارانہ نفاذ، بہتر تعمیل کے معیار، مارکیٹ کی شفافیت میں اضافہ، اور منظم مالیاتی اداروں کے مضبوط انضمام پر زور دیا گیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران سینیٹر محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کا استعمال ایک ”ناقابلِ واپسی عالمی رجحان“ کی عکاسی کرتا ہے اور شہریوں کے تحت موجود ورچوئل اثاثوں کو رسمی نگرانی کے ڈھانچوں میں لانے کے معاشی مواقع کو اجاگر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کے مطابق ”ایسی شمولیت مالیاتی شفافیت کو مضبوط کرے گی، کریڈٹ ویلیو کی تشخیص میں مدد دے گی، اور قومی اثاثہ جات کی رپورٹنگ کو بہتر بنائے گی، بغیر اس کے کہ ڈیجیٹل اثاثوں کو قانونی کرنسی کا درجہ دیا جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کے لیے منظم لائسنسنگ کے نظام کی ترقی کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ شفافیت کو بہتر بنایا جا سکے، عالمی اے ایم ایل/ سی ایف ٹی معیارات پر پورا اتر سکیں، ادارہ جاتی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے، اور پاکستانی صارفین کو غیر منظم آف شور پلیٹ فارمز کے خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، گزشتہ ہفتے معلوم ہوا کہ بلال بن ثاقب نے وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق بلال بن ثاقب ، جو 26 مئی 2025 کو وزیرِ مملکت مقرر ہوئے تھے، چند ماہ کے عرصے کے بعد عہدے سے دستبردار ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری عہدہ چھوڑنےکے باوجود، اطلاعات کے مطابق بلال بن ثاقب پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی ( پی وی اے آر اے ) کے چیئرمین کے طور پر خدمات جاری رکھیں گے، جو ملک کے ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کی نگرانی کے لیے خودمختار ادارہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی حکومت نے ہفتہ کے روز بائنانس کے وفد کے ساتھ ملاقات میں ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن کے لیے مضبوط عزم کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>بائنانس کی سینئر قیادت، بشمول عالمی سی ای او رچرڈ ٹینگ، اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے ہیں۔</p>
<p>ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف ( سی او اے ایس) اور چیف آف ڈیفنس فورسز ( سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک ہوئے۔</p>
<p>وزیر اعظم کے دفتر  سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی ( پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب بھی اس ملاقات میں شریک ہوئے اور اپنی تنظیم کے بارے میں بریفنگ دی ۔</p>
<p>یہ پیش رفت فنانس ڈویژن میں ایک اعلیٰ سطح کے اس مشاورتی اجلاس کے انعقاد کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے، جس کی مشترکہ صدارت وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور پی وی اے آر اے کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کی، اور پاکستان کے نیشنل ڈیجیٹل اثاثہ فریم ورک پر کام کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی تھی۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی) کے ساتھ پاکستان کے بڑے تجارتی بینکوں کے صدور اور ایگزیکٹوز اور بائنانس کی سینئر قیادت، بشمول عالمی سی ای او رچرڈ ٹینگ، اس مباحثے میں شریک ہوئے۔</p>
<p>فنانس ڈویژن نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا ہے کہ ”اس اجلاس میں پاکستان کے لیے محفوظ، منظم اور جدت پر مبنی ڈیجیٹل اثاثہ ایکو سسٹم کے قیام کے آئندہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا، خاص طور پر آن- اور آف ریمپ انفرااسٹرکچر کے ذمہ دارانہ نفاذ، بہتر تعمیل کے معیار، مارکیٹ کی شفافیت میں اضافہ، اور منظم مالیاتی اداروں کے مضبوط انضمام پر زور دیا گیا ہے۔“</p>
<p>ملاقات کے دوران سینیٹر محمد اورنگزیب نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کا استعمال ایک ”ناقابلِ واپسی عالمی رجحان“ کی عکاسی کرتا ہے اور شہریوں کے تحت موجود ورچوئل اثاثوں کو رسمی نگرانی کے ڈھانچوں میں لانے کے معاشی مواقع کو اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p>فنانس ڈویژن کے مطابق ”ایسی شمولیت مالیاتی شفافیت کو مضبوط کرے گی، کریڈٹ ویلیو کی تشخیص میں مدد دے گی، اور قومی اثاثہ جات کی رپورٹنگ کو بہتر بنائے گی، بغیر اس کے کہ ڈیجیٹل اثاثوں کو قانونی کرنسی کا درجہ دیا جائے۔“</p>
<p>اجلاس میں ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کے لیے منظم لائسنسنگ کے نظام کی ترقی کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ شفافیت کو بہتر بنایا جا سکے، عالمی اے ایم ایل/ سی ایف ٹی معیارات پر پورا اتر سکیں، ادارہ جاتی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے، اور پاکستانی صارفین کو غیر منظم آف شور پلیٹ فارمز کے خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
<p>تاہم، گزشتہ ہفتے معلوم ہوا کہ بلال بن ثاقب نے وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق بلال بن ثاقب ، جو 26 مئی 2025 کو وزیرِ مملکت مقرر ہوئے تھے، چند ماہ کے عرصے کے بعد عہدے سے دستبردار ہو گئے ہیں۔</p>
<p>سرکاری عہدہ چھوڑنےکے باوجود، اطلاعات کے مطابق بلال بن ثاقب پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی ( پی وی اے آر اے ) کے چیئرمین کے طور پر خدمات جاری رکھیں گے، جو ملک کے ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کی نگرانی کے لیے خودمختار ادارہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280195</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Dec 2025 21:25:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/06210906a6c704a.webp" type="image/webp" medium="image" height="693" width="1040">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/06210906a6c704a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
