<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سچائی کی فیصلہ کن گھڑی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280192/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کی سخت گیر گورننس رپورٹ کو تسلیم کرنا حقیقی اصلاحات کے لیے ایک نایاب موقع فراہم کرتا ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار اب مکمل طور پر سیاسی عزم، عمل درآمد اور شفافیت پر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا یہ صاف گو اعتراف کہ آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ “حکومت اور پارلیمنٹ دونوں پر ایک فردِ جرم” ہے، ایک ایسے نظام میں غیرمعمولی سچائی ہے جو برسوں سے انکار کی عادت میں مبتلا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے بے نقاب کی گئی گورننس کی خامیوں کا کھل کر سامنا کرنا یقیناً درست سمت میں ایک قابلِ تحسین قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی 15 ترجیحی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے 31 دسمبر تک ایک ایکشن پلان حتمی شکل دینے کا ان کا وعدہ کاغذی طور پر خوش آئند اور کسی نئی اصلاحی یقین دہانی جیسا ضرور لگتا ہے، مگر رسمی بیانات کے پیچھے ایک بڑی کہانی پوشیدہ ہے، پاکستان کی دائمی حکمرانی کی ناکامی کی، اور اس کی کہ ملک بار بار ایک بحران سے نکل کر دوسرے بحران میں کیوں پھنس جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کا تجزیہ کوئی معمولی بیرونی دباؤ نہیں، یہ وہ آئینہ ہے جس میں پاکستان نے دہائیوں تک جھانکنے سے گریز کیا ہے۔ یہ حقیقت کہ حکومت نے خود اس ڈائیگناسٹک کی فنڈنگ کی اور اس جانچ پڑتال کی دعوت دی، دو باتوں کی نشاندہی کرتی ہے: اول، اسلام آباد مستقبل کے قرضوں کے انتظامات سے قبل آئی ایم ایف کے ساتھ ساکھ چاہتا ہے؛ دوم، پاکستان اب بالآخر یہ تسلیم کرنے لگا ہے کہ اس کا معاشی بحران دراصل گورننس کا بحران ہے۔ مگر یہ خود احتسابی ساختی تبدیلی میں بدلتی ہے یا نہیں، یہ الگ سوال ہے، اور ماضی اس حوالے سے ہمارے حق میں نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی رپورٹ کسی رعایت سے کام نہیں لیتی۔ اس کی 15 بڑی سفارشات گورننس، ٹیکسیشن، ریگولیٹری نگرانی، سرکاری مالیاتی نظم و نسق اور قانون کی حکمرانی جیسے شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہ محض سطحی تجاویز نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی معیشت میں جڑی بدعنوانی کے بنیادی ڈھانچے کو چیلنج کرتی ہیں، غیر شفاف سرکاری خریداری، صوابدیدی اختیارات، کمزور احتسابی ادارے، غیر شفاف ٹیکس چھوٹ، بااثر طبقات کی ریاستی گرفت اور کارکردگی سے بے نیاز سول سروس ڈھانچہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ کا دعویٰ ہے کہ کئی سفارشات پر کام پہلے ہی “جاری ہے”۔ امید یہی ہے کہ یہ عمل ماضی کی طرح آئی ایم ایف کی اگلی قسط تک محدود نہ رہ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے سول سروسز بل اور سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشوارے اگلے سال سے عوام  کے سامنے لانے کے عزم کا حوالہ دیا۔ بظاہر یہ ایک انقلابی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ اگر اثاثوں کی شفافیت سچائی اور سختی کے ساتھ نافذ ہو، تو اسے ایک بڑی تبدیلی تصور کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن شکوک رکھنے والے یاد دلائیں گے کہ پارلیمنٹیرینز اور ججز کے اثاثہ جات کے گوشوارے پہلے ہی موجود ہیں، اور انہوں نے کوئی خاص فرق نہیں ڈالا۔ مسئلہ ڈیٹا کی عدم موجودگی نہیں، نتائج کی عدم موجودگی ہے۔ جب تک حکومت ایسا نظام نہیں بناتی جو ان گوشواروں کا آڈٹ کرے اور تصدیق کرے، یہ اصلاح اپنی افادیت نہیں دکھا سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر  خزانہ نے کہا کہ “اس سال کوئی ضمنی گرانٹس نہیں دی گئیں”، جو یقیناً درست سمت میں قدم ہے۔ لیکن حکومت اب بھی “ٹیکنیکل گرانٹس” جاری کرتی ہے، جو وزارتوں کو پارلیمانی نگرانی کے بغیر اندرونی طور پر فنڈز ادھر اُدھر کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ آئی ایم ایف شاید اسے قبول نہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی طور پر، پاکستان کا بجٹ کلچر تین ستونوں پر کھڑا رہا ہے: آمدنی کا ضرورت سے زیادہ تخمینہ، اخراجات کا کم تخمینہ، اور سال کے وسط میں ضمنی گرانٹس۔ اس دائرے کو توڑنے اور اسے حقیقی اعداد و شمار سے بدلنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی جانب سے شناخت کیے گئے گورننس کے سات شعبے، سرکاری خریداری، عوامی مالیاتی نظم ( پی ایف ایم )، ٹیکسیشن، سرکاری ادارے ( ایس او ایز)، سول سروس، انسدادِ بدعنوانی ادارے اور عدالتی شعبہ، وہی ہیں جن کی نشاندہی 1990 کی دہائی سے ہر اصلاحی ایجنڈے میں ہوتی آئی ہے۔ عدم تعمیل کی ذمہ داری اصولِ احتساب کے تحت قرض دینے والے اور قرض لینے والے، دونوں پر یکساں عائد ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی رپورٹ کا سخت ترین خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ نظامی نوعیت کا ہے: کرپشن کوئی حادثاتی معاملہ نہیں، بلکہ ادارہ جاتی ڈھانچے میں گندھی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر اصلاح، ٹیکس اصلاحات، سول سروس اصلاحات، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو، کسی نہ کسی کے مفاد پر ضرب لگاتی ہے۔ یہی بچاؤ کی سیاسی معیشت اصلاحات کو کمزور، موخر یا خاموشی سے دفن کر دیتی ہے۔ محمد اورنگزیب کا یہ کہنا کہ رپورٹ کو حتمی شکل دینے سے پہلے 30 محکموں نے اس کا جائزہ لیا، اسی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور ہم ایک بار پھر وہیں کھڑے ہیں۔ کیوں؟ جواب یہ ہے کہ پاکستان میں اصلاحات بااثر طبقات کے مفادات کو چیلنج کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف سفارشات دے سکتا ہے؛ عمل پاکستان نے کرنا ہے۔ اور عمل ہمیشہ سے ہی گمشدہ کڑی رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرق اس بار یہ ہے کہ پاکستان مجبوری کی پوزیشن سے مذاکرات کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف اب صرف مالیاتی نظم و ضبط پر اکتفا نہیں کر رہا۔ اب وہ ساختی شفافیت، احتساب، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کا تقاضا کر رہا ہے۔ اس پر عمل درآمد کے لیے آئی ایم ایف کس حد تک پرعزم رہتا ہے، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورننس ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ ممکنہ طور پر آئی ایم ایف کے اگلے پروگرام کی بنیاد بنے گا۔ بظاہر ڈونر ممالک بھی اس نظام سے تھک چکے ہیں جہاں لیکج کارکردگی سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی ساکھ اُس وقت تک بحال نہیں ہو سکتی جب تک گورننس میں قابلِ پیمائش بہتری سامنے نہ آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے 31 دسمبر کا ایکشن پلان محض ایک سرکاری مشق نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں قابلِ پیمائش ٹائم لائنز، ذمہ دار وزارتیں، سہ ماہی اہداف اور نفاذ کے مضبوط طریقہ کار واضح ہونے چاہئیں۔ ان کے بغیر یہ بھی اصلاحاتی دستاویزات کی بڑھتی ہوئی فہرست میں ایک اور اضافہ بن کر رہ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امکان بھی موجود ہے اور خطرہ بھی۔ اگر سنجیدگی سے نافذ کیا جائے تو آئی ایم ایف کی سفارشات پاکستان کو پہلی بار حقیقی گورننس اصلاحات کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ لیکن اگر انہیں کمزور کیا گیا یا نظرانداز کیا گیا تو پاکستان ایک ایسے نئے معاشی عدم استحکام میں داخل ہو سکتا ہے جہاں بیرونی قرض دہندگان زیادہ سخت شرائط عائد کریں گے اور ملکی ادارے مکمل طور پر عوامی اعتماد کھو بیٹھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کی کھلے دل سے گفتگو حوصلہ افزا ہے۔ لیکن آئی ایم ایف نیت نہیں، کارکردگی سے فیصلے کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں چند نکات جو واضح طور پر نمایاں ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل دشمن اندر ہی ہے: پاکستان کے معاشی بحران کے پسِ پشت گورننس کا بحران کارفرما ہے؛&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;اصلاحات دوراہے پر کھڑی ہیں: عمل درآمد یا ایک اور کھویا ہوا موقع؛&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشخیص سے عمل تک: کیا پاکستان آئی ایم ایف کے گورننس ایجنڈے پر مقررہ مدت میں پورا اتر سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف اپنا موقف دے چکا، اب عمل پاکستان نے کرنا ہے۔ آئی ایم ایف پاکستان کو اس کی گورننس کی حقیقت کا سامنا کروا رہا ہے۔ البتہ یہ کہ وہ اس مقصد پر کتنی دیر تک قائم رہتا ہے، کھلا سوال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر،2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کی سخت گیر گورننس رپورٹ کو تسلیم کرنا حقیقی اصلاحات کے لیے ایک نایاب موقع فراہم کرتا ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار اب مکمل طور پر سیاسی عزم، عمل درآمد اور شفافیت پر ہے۔</strong></p>
<p>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا یہ صاف گو اعتراف کہ آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ “حکومت اور پارلیمنٹ دونوں پر ایک فردِ جرم” ہے، ایک ایسے نظام میں غیرمعمولی سچائی ہے جو برسوں سے انکار کی عادت میں مبتلا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے بے نقاب کی گئی گورننس کی خامیوں کا کھل کر سامنا کرنا یقیناً درست سمت میں ایک قابلِ تحسین قدم ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی 15 ترجیحی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے 31 دسمبر تک ایک ایکشن پلان حتمی شکل دینے کا ان کا وعدہ کاغذی طور پر خوش آئند اور کسی نئی اصلاحی یقین دہانی جیسا ضرور لگتا ہے، مگر رسمی بیانات کے پیچھے ایک بڑی کہانی پوشیدہ ہے، پاکستان کی دائمی حکمرانی کی ناکامی کی، اور اس کی کہ ملک بار بار ایک بحران سے نکل کر دوسرے بحران میں کیوں پھنس جاتا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کا تجزیہ کوئی معمولی بیرونی دباؤ نہیں، یہ وہ آئینہ ہے جس میں پاکستان نے دہائیوں تک جھانکنے سے گریز کیا ہے۔ یہ حقیقت کہ حکومت نے خود اس ڈائیگناسٹک کی فنڈنگ کی اور اس جانچ پڑتال کی دعوت دی، دو باتوں کی نشاندہی کرتی ہے: اول، اسلام آباد مستقبل کے قرضوں کے انتظامات سے قبل آئی ایم ایف کے ساتھ ساکھ چاہتا ہے؛ دوم، پاکستان اب بالآخر یہ تسلیم کرنے لگا ہے کہ اس کا معاشی بحران دراصل گورننس کا بحران ہے۔ مگر یہ خود احتسابی ساختی تبدیلی میں بدلتی ہے یا نہیں، یہ الگ سوال ہے، اور ماضی اس حوالے سے ہمارے حق میں نہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی رپورٹ کسی رعایت سے کام نہیں لیتی۔ اس کی 15 بڑی سفارشات گورننس، ٹیکسیشن، ریگولیٹری نگرانی، سرکاری مالیاتی نظم و نسق اور قانون کی حکمرانی جیسے شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہ محض سطحی تجاویز نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی معیشت میں جڑی بدعنوانی کے بنیادی ڈھانچے کو چیلنج کرتی ہیں، غیر شفاف سرکاری خریداری، صوابدیدی اختیارات، کمزور احتسابی ادارے، غیر شفاف ٹیکس چھوٹ، بااثر طبقات کی ریاستی گرفت اور کارکردگی سے بے نیاز سول سروس ڈھانچہ۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ کا دعویٰ ہے کہ کئی سفارشات پر کام پہلے ہی “جاری ہے”۔ امید یہی ہے کہ یہ عمل ماضی کی طرح آئی ایم ایف کی اگلی قسط تک محدود نہ رہ جائے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے سول سروسز بل اور سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشوارے اگلے سال سے عوام  کے سامنے لانے کے عزم کا حوالہ دیا۔ بظاہر یہ ایک انقلابی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ اگر اثاثوں کی شفافیت سچائی اور سختی کے ساتھ نافذ ہو، تو اسے ایک بڑی تبدیلی تصور کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>لیکن شکوک رکھنے والے یاد دلائیں گے کہ پارلیمنٹیرینز اور ججز کے اثاثہ جات کے گوشوارے پہلے ہی موجود ہیں، اور انہوں نے کوئی خاص فرق نہیں ڈالا۔ مسئلہ ڈیٹا کی عدم موجودگی نہیں، نتائج کی عدم موجودگی ہے۔ جب تک حکومت ایسا نظام نہیں بناتی جو ان گوشواروں کا آڈٹ کرے اور تصدیق کرے، یہ اصلاح اپنی افادیت نہیں دکھا سکے گی۔</p>
<p>وزیر  خزانہ نے کہا کہ “اس سال کوئی ضمنی گرانٹس نہیں دی گئیں”، جو یقیناً درست سمت میں قدم ہے۔ لیکن حکومت اب بھی “ٹیکنیکل گرانٹس” جاری کرتی ہے، جو وزارتوں کو پارلیمانی نگرانی کے بغیر اندرونی طور پر فنڈز ادھر اُدھر کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ آئی ایم ایف شاید اسے قبول نہ کرے۔</p>
<p>تاریخی طور پر، پاکستان کا بجٹ کلچر تین ستونوں پر کھڑا رہا ہے: آمدنی کا ضرورت سے زیادہ تخمینہ، اخراجات کا کم تخمینہ، اور سال کے وسط میں ضمنی گرانٹس۔ اس دائرے کو توڑنے اور اسے حقیقی اعداد و شمار سے بدلنے کی ضرورت ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>آئی ایم ایف کی جانب سے شناخت کیے گئے گورننس کے سات شعبے، سرکاری خریداری، عوامی مالیاتی نظم ( پی ایف ایم )، ٹیکسیشن، سرکاری ادارے ( ایس او ایز)، سول سروس، انسدادِ بدعنوانی ادارے اور عدالتی شعبہ، وہی ہیں جن کی نشاندہی 1990 کی دہائی سے ہر اصلاحی ایجنڈے میں ہوتی آئی ہے۔ عدم تعمیل کی ذمہ داری اصولِ احتساب کے تحت قرض دینے والے اور قرض لینے والے، دونوں پر یکساں عائد ہوتی ہے۔</p>
</blockquote>
<p>آئی ایم ایف کی رپورٹ کا سخت ترین خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ نظامی نوعیت کا ہے: کرپشن کوئی حادثاتی معاملہ نہیں، بلکہ ادارہ جاتی ڈھانچے میں گندھی ہوئی ہے۔</p>
<p>ہر اصلاح، ٹیکس اصلاحات، سول سروس اصلاحات، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو، کسی نہ کسی کے مفاد پر ضرب لگاتی ہے۔ یہی بچاؤ کی سیاسی معیشت اصلاحات کو کمزور، موخر یا خاموشی سے دفن کر دیتی ہے۔ محمد اورنگزیب کا یہ کہنا کہ رپورٹ کو حتمی شکل دینے سے پہلے 30 محکموں نے اس کا جائزہ لیا، اسی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>اور ہم ایک بار پھر وہیں کھڑے ہیں۔ کیوں؟ جواب یہ ہے کہ پاکستان میں اصلاحات بااثر طبقات کے مفادات کو چیلنج کرتی ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف سفارشات دے سکتا ہے؛ عمل پاکستان نے کرنا ہے۔ اور عمل ہمیشہ سے ہی گمشدہ کڑی رہا ہے۔</p>
<p>فرق اس بار یہ ہے کہ پاکستان مجبوری کی پوزیشن سے مذاکرات کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف اب صرف مالیاتی نظم و ضبط پر اکتفا نہیں کر رہا۔ اب وہ ساختی شفافیت، احتساب، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کا تقاضا کر رہا ہے۔ اس پر عمل درآمد کے لیے آئی ایم ایف کس حد تک پرعزم رہتا ہے، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔</p>
<p>گورننس ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ ممکنہ طور پر آئی ایم ایف کے اگلے پروگرام کی بنیاد بنے گا۔ بظاہر ڈونر ممالک بھی اس نظام سے تھک چکے ہیں جہاں لیکج کارکردگی سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی ساکھ اُس وقت تک بحال نہیں ہو سکتی جب تک گورننس میں قابلِ پیمائش بہتری سامنے نہ آئے۔</p>
<p>اسی لیے 31 دسمبر کا ایکشن پلان محض ایک سرکاری مشق نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں قابلِ پیمائش ٹائم لائنز، ذمہ دار وزارتیں، سہ ماہی اہداف اور نفاذ کے مضبوط طریقہ کار واضح ہونے چاہئیں۔ ان کے بغیر یہ بھی اصلاحاتی دستاویزات کی بڑھتی ہوئی فہرست میں ایک اور اضافہ بن کر رہ جائے گا۔</p>
<p>امکان بھی موجود ہے اور خطرہ بھی۔ اگر سنجیدگی سے نافذ کیا جائے تو آئی ایم ایف کی سفارشات پاکستان کو پہلی بار حقیقی گورننس اصلاحات کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ لیکن اگر انہیں کمزور کیا گیا یا نظرانداز کیا گیا تو پاکستان ایک ایسے نئے معاشی عدم استحکام میں داخل ہو سکتا ہے جہاں بیرونی قرض دہندگان زیادہ سخت شرائط عائد کریں گے اور ملکی ادارے مکمل طور پر عوامی اعتماد کھو بیٹھیں گے۔</p>
<p>وزیر خزانہ کی کھلے دل سے گفتگو حوصلہ افزا ہے۔ لیکن آئی ایم ایف نیت نہیں، کارکردگی سے فیصلے کرے گا۔</p>
<p>آخر میں چند نکات جو واضح طور پر نمایاں ہیں:</p>
<p>اصل دشمن اندر ہی ہے: پاکستان کے معاشی بحران کے پسِ پشت گورننس کا بحران کارفرما ہے؛</p>
<p><em>اصلاحات دوراہے پر کھڑی ہیں: عمل درآمد یا ایک اور کھویا ہوا موقع؛</em></p>
<p>تشخیص سے عمل تک: کیا پاکستان آئی ایم ایف کے گورننس ایجنڈے پر مقررہ مدت میں پورا اتر سکتا ہے؟</p>
<p>آئی ایم ایف اپنا موقف دے چکا، اب عمل پاکستان نے کرنا ہے۔ آئی ایم ایف پاکستان کو اس کی گورننس کی حقیقت کا سامنا کروا رہا ہے۔ البتہ یہ کہ وہ اس مقصد پر کتنی دیر تک قائم رہتا ہے، کھلا سوال ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر،2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280192</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Dec 2025 18:22:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/06164123cb03e21.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/06164123cb03e21.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
