<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:32:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:32:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیٹ ہائیڈل منافع کی ادائیگی: واپڈا کی سی پی پی اے-جی سے ماہانہ 17 ارب روپے جاری کرنے کی درخواست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280180/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی  گارنٹیڈ (سی پی پی اے-جی) سے درخواست کی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کی ادائیگی کے لیے ماہانہ 17 ارب روپے جاری کرے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی پی پی اے-جی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے خط کے جواب میں واپڈا کے ممبرفنانس نے کہا کہ 31 اکتوبر 2025 تک واپڈا کے ہائیڈرو الیکٹرک واجبات 232.954 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ تفصیل درج ذیل ہے: (i) توانائی  واجبات 42.868 ارب روپے؛ (ii) صوبوں کو ادا کیے جانے والے نیٹ ہائیڈل منافع (این ایچ پی) 108.814 ارب روپے (خیبر پختونخوا: 64.550 ارب؛ پنجاب: 44.264 ارب)؛ (iii) ہائیڈرو الیکٹرک بقایاجات   81.272 ارب روپے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واپڈا کے مطابق غیر ادا شدہ بقایا جات کے ایجنگ تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سی پی پی اے-جی اس وقت صرف دسمبر 2024 کے واپڈا کے ہائیڈرو الیکٹرک انوائسز کے عوض ادائیگی کر رہا ہے، جس کی وجہ سے 10 ماہ کا واجب الادا بلنگ کا فرق باقی ہے۔ ہائیڈرو الیکٹرک بقایا جات کے سلسلے میں کوئی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واپڈا نے مزید کہا کہ مالی سال 2024-25 کے دوران، سی پی پی اے-جی کی طرف سے غیر مستقل فنڈز کے اجراء کے باوجود واپڈا نے حکومتِ خیبر پختونخوا کو 36 ارب روپے بطور این ایچ پی ادا کیے، فی الحال سی پی پی اے-جی سے ماہانہ رقوم کا اجراء واپڈا کے لیے نا کافی ہے کہ وہ ایک طرف خیبر پختونخوا اور پنجاب دونوں کو 3، 3 ارب روپے (کل 6 ارب روپے) فراہم کر سکے اور دوسری طرف آپریشنز اور دیکھ بھال (او اینڈ ایم)، ترقیاتی کاموں، اور قرض کی ادائیگی  سمیت اپنی ضروری ورکنگ کیپیٹل ضروریات کو پورا کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ممبر نے مزید کہا کہ مالی سال 2023-24 کے دوران سرکلر ڈیٹ کی کلیئرنس کے دوران   دیامر- بھاشا ڈیم سے متعلق واپڈا کی غیر بل شدہ سرکلر ڈیٹ  لائبلٹی (سی ڈی ایل) جو 35.442 ارب روپے تھی، توانائی واجبات سے ادا کی گئی نہ کہ نان توانائی کے واجبات سے، جس سے واپڈا کے کیش فلو پر شدید دباؤ پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے لیے این ایچ پی کے بڑھتے ہوئے حصے کے حوالے سے واپڈا نے سی پی پی اے-جی سے درخواست کی ہے کہ ماہانہ ریلیز کو 17 ارب روپے تک بڑھایا جائے تاکہ دونوں صوبوں کو ادائیگی کی جا سکے، اور ساتھ ہی بقایا ہائیڈرو الیکٹرک واجبات کو بھی جلد از جلد کلیئر کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خیبر پختونخوا کی حکومت نے وزیراعظم سے این ایچ پی کے مسئلے کے حل کے لیے ایک ’’غیر روایتی حل کی حمایت طلب کی ہے جو واپڈا اور صوبوں کے درمیان اب تک حل نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کو لکھے گئے خط میں خیبر پختونخوا  کی حکومت نے یاد دلایا کہ قاضی کمیٹی کا طریقہ کار جنوری 1991 میں سی سی آئی کے ذریعے منظور کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 1992 میں اس وقت کے صوبہ سرحد کو 6 ارب روپے کی پہلی ادائیگی کی گئی تھی، اس طریقہ کار کو بعد میں نیشنل فنانس کمیشن نے بھی توثیق کیا، 1997 میں سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا اور پھر 1991، 1993، 1997، 1998، 2016، 2018، 2019 اور 2022 میں ہونے والی سی سی آئی کی متعدد میٹنگز میں دوبارہ اس کی تصدیق کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے مالی چیلنجز کے حل کے لیے وفاقی حکومت نے 2016 میں سی سی آئی کی منظوری سے ایک عارضی انتظام‘ متعارف کرایا۔ اس کے تحت این ایچ پی کی ادائیگی فی یونٹ 1.10 روپے طے کی گئی جس میں ہر سال 5 فیصد اضافہ شامل تھا۔ یہ واپڈا کے ٹیرف میں شامل کیا گیا جس سے صارفین کے بل میں تقریباً 18 پیسے فی یونٹ کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں واپڈا نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو این ایچ پی کی ادائیگیاں شروع کیں تاہم خیبر پختونخوا کی حکومت کے مطابق یہ ادائیگیاں متفقہ طریقہ کار کے مطابق مستقل طور پر نہیں کی گئیں جس کے نتیجے میں صوبے پر 75 ارب روپے کا بقایا رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بنائی گئی آؤٹ آف دی باکس کمیٹی  نے اب تک پانچ اجلاس منعقد کیے، جن میں اسٹیک ہولڈرز سے اپنے تجاویز جمع کرانے کو کہا گیا۔ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اپنی تجویز پہلے ہی پلاننگ کمیشن کو جمع کرا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی  گارنٹیڈ (سی پی پی اے-جی) سے درخواست کی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) کی ادائیگی کے لیے ماہانہ 17 ارب روپے جاری کرے۔</strong></p>
<p>سی پی پی اے-جی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے خط کے جواب میں واپڈا کے ممبرفنانس نے کہا کہ 31 اکتوبر 2025 تک واپڈا کے ہائیڈرو الیکٹرک واجبات 232.954 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ تفصیل درج ذیل ہے: (i) توانائی  واجبات 42.868 ارب روپے؛ (ii) صوبوں کو ادا کیے جانے والے نیٹ ہائیڈل منافع (این ایچ پی) 108.814 ارب روپے (خیبر پختونخوا: 64.550 ارب؛ پنجاب: 44.264 ارب)؛ (iii) ہائیڈرو الیکٹرک بقایاجات   81.272 ارب روپے۔</p>
<p>واپڈا کے مطابق غیر ادا شدہ بقایا جات کے ایجنگ تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سی پی پی اے-جی اس وقت صرف دسمبر 2024 کے واپڈا کے ہائیڈرو الیکٹرک انوائسز کے عوض ادائیگی کر رہا ہے، جس کی وجہ سے 10 ماہ کا واجب الادا بلنگ کا فرق باقی ہے۔ ہائیڈرو الیکٹرک بقایا جات کے سلسلے میں کوئی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔</p>
<p>واپڈا نے مزید کہا کہ مالی سال 2024-25 کے دوران، سی پی پی اے-جی کی طرف سے غیر مستقل فنڈز کے اجراء کے باوجود واپڈا نے حکومتِ خیبر پختونخوا کو 36 ارب روپے بطور این ایچ پی ادا کیے، فی الحال سی پی پی اے-جی سے ماہانہ رقوم کا اجراء واپڈا کے لیے نا کافی ہے کہ وہ ایک طرف خیبر پختونخوا اور پنجاب دونوں کو 3، 3 ارب روپے (کل 6 ارب روپے) فراہم کر سکے اور دوسری طرف آپریشنز اور دیکھ بھال (او اینڈ ایم)، ترقیاتی کاموں، اور قرض کی ادائیگی  سمیت اپنی ضروری ورکنگ کیپیٹل ضروریات کو پورا کر سکے۔</p>
<p>فنانس ممبر نے مزید کہا کہ مالی سال 2023-24 کے دوران سرکلر ڈیٹ کی کلیئرنس کے دوران   دیامر- بھاشا ڈیم سے متعلق واپڈا کی غیر بل شدہ سرکلر ڈیٹ  لائبلٹی (سی ڈی ایل) جو 35.442 ارب روپے تھی، توانائی واجبات سے ادا کی گئی نہ کہ نان توانائی کے واجبات سے، جس سے واپڈا کے کیش فلو پر شدید دباؤ پڑا۔</p>
<p>خیبر پختونخوا کے لیے این ایچ پی کے بڑھتے ہوئے حصے کے حوالے سے واپڈا نے سی پی پی اے-جی سے درخواست کی ہے کہ ماہانہ ریلیز کو 17 ارب روپے تک بڑھایا جائے تاکہ دونوں صوبوں کو ادائیگی کی جا سکے، اور ساتھ ہی بقایا ہائیڈرو الیکٹرک واجبات کو بھی جلد از جلد کلیئر کیا جائے۔</p>
<p>دوسری جانب خیبر پختونخوا کی حکومت نے وزیراعظم سے این ایچ پی کے مسئلے کے حل کے لیے ایک ’’غیر روایتی حل کی حمایت طلب کی ہے جو واپڈا اور صوبوں کے درمیان اب تک حل نہیں ہوا۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کو لکھے گئے خط میں خیبر پختونخوا  کی حکومت نے یاد دلایا کہ قاضی کمیٹی کا طریقہ کار جنوری 1991 میں سی سی آئی کے ذریعے منظور کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 1992 میں اس وقت کے صوبہ سرحد کو 6 ارب روپے کی پہلی ادائیگی کی گئی تھی، اس طریقہ کار کو بعد میں نیشنل فنانس کمیشن نے بھی توثیق کیا، 1997 میں سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا اور پھر 1991، 1993، 1997، 1998، 2016، 2018، 2019 اور 2022 میں ہونے والی سی سی آئی کی متعدد میٹنگز میں دوبارہ اس کی تصدیق کی گئی۔</p>
<p>خیبر پختونخوا کے مالی چیلنجز کے حل کے لیے وفاقی حکومت نے 2016 میں سی سی آئی کی منظوری سے ایک عارضی انتظام‘ متعارف کرایا۔ اس کے تحت این ایچ پی کی ادائیگی فی یونٹ 1.10 روپے طے کی گئی جس میں ہر سال 5 فیصد اضافہ شامل تھا۔ یہ واپڈا کے ٹیرف میں شامل کیا گیا جس سے صارفین کے بل میں تقریباً 18 پیسے فی یونٹ کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>بعد ازاں واپڈا نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو این ایچ پی کی ادائیگیاں شروع کیں تاہم خیبر پختونخوا کی حکومت کے مطابق یہ ادائیگیاں متفقہ طریقہ کار کے مطابق مستقل طور پر نہیں کی گئیں جس کے نتیجے میں صوبے پر 75 ارب روپے کا بقایا رہ گیا ہے۔</p>
<p>اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بنائی گئی آؤٹ آف دی باکس کمیٹی  نے اب تک پانچ اجلاس منعقد کیے، جن میں اسٹیک ہولڈرز سے اپنے تجاویز جمع کرانے کو کہا گیا۔ خیبر پختونخوا کی حکومت نے اپنی تجویز پہلے ہی پلاننگ کمیشن کو جمع کرا دی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280180</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Dec 2025 12:26:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/06120625e0c3f0e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/06120625e0c3f0e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
