<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی ہارڈ ویئر کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان کو مقامی پیداوار بڑھانا ہوگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280171/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی سطح پر ہارڈویئر کے پرزہ جات کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ، پرسنل کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، ٹیبلیٹس اور دیگر ڈیوائسز کی مجموعی قیمتیں مزید بڑھا دے گا۔ اس کا براہِ راست اثر پاکستان میں افراد اور کاروباری اداروں کی خریداری کی سکت پر پڑے گا اور ملک میں ڈیجیٹل اپنانے کی رفتار بھی سست پڑ سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں کمپیوٹرز اور متعلقہ آلات میں استعمال ہونے والے بڑے ہارڈویئر پرزہ جات، خصوصاً رینڈم ایکسس میموری (آر اے ایم ) اور سالڈ اسٹیٹ ڈرائیوز ( ایس ایس ڈیز)، کی طلب نمایاں طور پر بڑھ رہی ہے، جس کی بڑی وجہ ان کا اے آئی پر مبنی ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہے۔ تخمینوں کے مطابق 2025 میں  آر اے ایم  اور ایس ایس ڈیز کی قیمتوں میں بالترتیب 100 فیصد اور 500 فیصد اضافہ ہوا، اور 2026 میں بھی یہ اوپر کی سمت ہی رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم پرزہ جات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دنیا بھر میں پی سی، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ اور دیگر ڈیوائسز کی قیمتوں کو بھی اوپر لے جا رہی ہیں۔ اس صورتحال میں مقامی صنعت سے وابستہ افراد نے تشویش ظاہر کی ہے کہ کمپیوٹرز اور متعلقہ آلات کی مہنگائی سرکاری و نجی شعبوں کے اُن اداروں کے لیے مشکلات بڑھا دے گی جو بڑے پیمانے پر اپنے نظام کو ڈیجیٹل بنانا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائپر کمپیوٹر کے سی ای او خوشنود افتاب شیخ نے کہا کہ درآمدی ڈیوائسز کی بڑھتی ہوئی لاگت نہ صرف سرکاری اور نجی اداروں کے اخراجات میں اضافہ کرے گی بلکہ ہر سال ملک کے درآمدی بل پر بھی نمایاں بوجھ ڈالے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ملک میں کمپیوٹر سسٹمز اور ہارڈویئر پرزہ جات کی مقامی پیداوار تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی طور پر تیار کیے گئے کمپیوٹر موثر اور نسبتاً کم لاگت ہوتے ہیں۔ یہ قیمتی زرمبادلہ بچانے، ٹیکنالوجی کی مقامی سطح پر منتقلی اور انسانی وسائل کی تربیت میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ کمپیوٹر کی بلند قیمتیں سرکاری و نجی شعبے کی خریداری کی سکت کو متاثر کرسکتی ہیں، جبکہ تعلیم اور فری لانسنگ سے وابستہ افراد بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ملک ایک جامع ہارڈویئر پالیسی اور پاکستانی برانڈڈ کمپیوٹرز کی پیداوار کے لیے واضح روڈ میپ اپنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ 15 برسوں کے دوران پاکستان میں ایک درجن سے زیادہ پی سی اسمبلرز کام کرتے رہے، تاہم معاون پالیسی فریم ورک کی عدم موجودگی کے باعث وہ ایک کے بعد ایک بند ہوتے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی پالیسیوں کے تسلسل کے باعث حکومت ابھی بھی پی سی ڈیوائسز کی درآمد کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ اب تک صرف چند ہی مقامی ادارے پاکستانی برانڈڈ کمپیوٹر ڈیوائسز تیار کر رہے ہیں، حالانکہ انہیں سخت چیلنجز اور عالمی برانڈز کے ساتھ سخت مسابقت کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں پاکستان نے سرکاری و نجی اداروں کے اشتراک سے گوگل کروم بُک کی اسمبلنگ کی ایک سہولت قائم کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی طور پر ڈیوائسز تیار کرنا اور افرادی قوت کو تربیت فراہم کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں مقامی طلب پوری کرنے کے لیے پیداوار کو وسعت دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوشنود افتاب شیخ کی کمپنی، وائپر کمپیوٹر، نے بھی لاہور اور کراچی میں اپنی پیداواری سہولیات میں توسیع کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن (P@SHA) کے سینئر وائس چیئرمین محمد عمیر نظام نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، ٹیبلیٹس اور متعلقہ سسٹمز کی مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے ایک جامع ہارڈویئر ڈیولپمنٹ پالیسی مرتب کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پاکستان ایک بڑی اور غیر استعمال شدہ مارکیٹ ہے، جہاں نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف آبادی کی تعداد زیادہ ہے۔ حکومت کو نجی شعبے کے تعاون سے سستے ٹیکنالوجی آلات تک رسائی یقینی بنانی چاہیے، تاکہ تعلیم اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ طویل المدتی مقامی ہارڈویئر ڈیولپمنٹ پالیسی نہ صرف عوام کو مزید مناسب قیمتوں پر ڈیوائسز فراہم کرے گی بلکہ مقامی اور غیر ملکی برانڈز کی سرمایہ کاری بھی کھینچے گی—بالکل اسی طرح جیسے پاکستان کی موبائل فون اسمبلنگ انڈسٹری نے ابتدا سے ترقی کرتے ہوئے 90 فیصد سے زائد مقامی طلب پوری کرنے کے بعد اب مختلف ممالک کو میڈ اِن پاکستان موبائل فون برآمد کرنا شروع کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی سطح پر ہارڈویئر کے پرزہ جات کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ، پرسنل کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، ٹیبلیٹس اور دیگر ڈیوائسز کی مجموعی قیمتیں مزید بڑھا دے گا۔ اس کا براہِ راست اثر پاکستان میں افراد اور کاروباری اداروں کی خریداری کی سکت پر پڑے گا اور ملک میں ڈیجیٹل اپنانے کی رفتار بھی سست پڑ سکتی ہے۔</strong></p>
<p>دنیا بھر میں کمپیوٹرز اور متعلقہ آلات میں استعمال ہونے والے بڑے ہارڈویئر پرزہ جات، خصوصاً رینڈم ایکسس میموری (آر اے ایم ) اور سالڈ اسٹیٹ ڈرائیوز ( ایس ایس ڈیز)، کی طلب نمایاں طور پر بڑھ رہی ہے، جس کی بڑی وجہ ان کا اے آئی پر مبنی ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہے۔ تخمینوں کے مطابق 2025 میں  آر اے ایم  اور ایس ایس ڈیز کی قیمتوں میں بالترتیب 100 فیصد اور 500 فیصد اضافہ ہوا، اور 2026 میں بھی یہ اوپر کی سمت ہی رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>اہم پرزہ جات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دنیا بھر میں پی سی، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ اور دیگر ڈیوائسز کی قیمتوں کو بھی اوپر لے جا رہی ہیں۔ اس صورتحال میں مقامی صنعت سے وابستہ افراد نے تشویش ظاہر کی ہے کہ کمپیوٹرز اور متعلقہ آلات کی مہنگائی سرکاری و نجی شعبوں کے اُن اداروں کے لیے مشکلات بڑھا دے گی جو بڑے پیمانے پر اپنے نظام کو ڈیجیٹل بنانا چاہتے ہیں۔</p>
<p>وائپر کمپیوٹر کے سی ای او خوشنود افتاب شیخ نے کہا کہ درآمدی ڈیوائسز کی بڑھتی ہوئی لاگت نہ صرف سرکاری اور نجی اداروں کے اخراجات میں اضافہ کرے گی بلکہ ہر سال ملک کے درآمدی بل پر بھی نمایاں بوجھ ڈالے گی۔</p>
<p>ان کے مطابق ملک میں کمپیوٹر سسٹمز اور ہارڈویئر پرزہ جات کی مقامی پیداوار تیز رفتار ڈیجیٹلائزیشن کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>مقامی طور پر تیار کیے گئے کمپیوٹر موثر اور نسبتاً کم لاگت ہوتے ہیں۔ یہ قیمتی زرمبادلہ بچانے، ٹیکنالوجی کی مقامی سطح پر منتقلی اور انسانی وسائل کی تربیت میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ کمپیوٹر کی بلند قیمتیں سرکاری و نجی شعبے کی خریداری کی سکت کو متاثر کرسکتی ہیں، جبکہ تعلیم اور فری لانسنگ سے وابستہ افراد بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ملک ایک جامع ہارڈویئر پالیسی اور پاکستانی برانڈڈ کمپیوٹرز کی پیداوار کے لیے واضح روڈ میپ اپنائے۔</p>
<p>گزشتہ 15 برسوں کے دوران پاکستان میں ایک درجن سے زیادہ پی سی اسمبلرز کام کرتے رہے، تاہم معاون پالیسی فریم ورک کی عدم موجودگی کے باعث وہ ایک کے بعد ایک بند ہوتے گئے۔</p>
<p>درآمدی پالیسیوں کے تسلسل کے باعث حکومت ابھی بھی پی سی ڈیوائسز کی درآمد کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ اب تک صرف چند ہی مقامی ادارے پاکستانی برانڈڈ کمپیوٹر ڈیوائسز تیار کر رہے ہیں، حالانکہ انہیں سخت چیلنجز اور عالمی برانڈز کے ساتھ سخت مسابقت کا سامنا ہے۔</p>
<p>حال ہی میں پاکستان نے سرکاری و نجی اداروں کے اشتراک سے گوگل کروم بُک کی اسمبلنگ کی ایک سہولت قائم کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی طور پر ڈیوائسز تیار کرنا اور افرادی قوت کو تربیت فراہم کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں مقامی طلب پوری کرنے کے لیے پیداوار کو وسعت دی جا سکے۔</p>
<p>خوشنود افتاب شیخ کی کمپنی، وائپر کمپیوٹر، نے بھی لاہور اور کراچی میں اپنی پیداواری سہولیات میں توسیع کی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن (P@SHA) کے سینئر وائس چیئرمین محمد عمیر نظام نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، ٹیبلیٹس اور متعلقہ سسٹمز کی مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے ایک جامع ہارڈویئر ڈیولپمنٹ پالیسی مرتب کرے۔</p>
<p>ان کے مطابق پاکستان ایک بڑی اور غیر استعمال شدہ مارکیٹ ہے، جہاں نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف آبادی کی تعداد زیادہ ہے۔ حکومت کو نجی شعبے کے تعاون سے سستے ٹیکنالوجی آلات تک رسائی یقینی بنانی چاہیے، تاکہ تعلیم اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ طویل المدتی مقامی ہارڈویئر ڈیولپمنٹ پالیسی نہ صرف عوام کو مزید مناسب قیمتوں پر ڈیوائسز فراہم کرے گی بلکہ مقامی اور غیر ملکی برانڈز کی سرمایہ کاری بھی کھینچے گی—بالکل اسی طرح جیسے پاکستان کی موبائل فون اسمبلنگ انڈسٹری نے ابتدا سے ترقی کرتے ہوئے 90 فیصد سے زائد مقامی طلب پوری کرنے کے بعد اب مختلف ممالک کو میڈ اِن پاکستان موبائل فون برآمد کرنا شروع کر دیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280171</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 18:36:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/05182824926979e.webp" type="image/webp" medium="image" height="375" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/05182824926979e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
