<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روسی صدر پیوٹن آج نئی دہلی میں وزیراعظم مودی سےمذاکرات کریں گے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280146/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جمعہ کے روز نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اعلیٰ سطح مذاکرات کریں گے، جن کا مقصد تجارت کو فروغ دینا اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مغربی پابندیوں نے ماسکو اور نئی دہلی کے طویل عرصے سے قائم تعلقات پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیوٹن چار سال بعد پہلی بار بھارت پہنچے ہیں، جبکہ بھارت ایک جانب امریکہ کے ساتھ ایسے تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہا ہے جس کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر بھارت کی مصنوعات پر عائد ٹیرف کو کم کرانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہونے کے ساتھ ساتھ بھارت نے یوکرین پر روس کے حملے کے بعد یورپی ممالک کی روسی توانائی پر انحصار میں کمی کے نتیجے میں ماسکو سے سستے داموں خام تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ روس دہائیوں سے بھارت کا سب سے بڑا دفاعی سپلائر ہے اور اب وہ تجارتی حجم کو 2030 تک 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے بھارتی اشیاء کی برآمدات میں اضافہ چاہتا ہے، کیونکہ اب تک تجارتی توازن توانائی درآمدات کے باعث روس کے حق میں رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن کے اٹلانٹک کونسل سے وابستہ تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کے مطابق بھارت ایک پیچیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے: اگر وہ ماسکو سے تعلقات مضبوط کرتا ہے تو واشنگٹن ناراضی دکھا سکتا ہے، اور اگر امریکہ کی طرف جھکتا ہے تو روس کو ناراض کر سکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان لیبر اور سول نیوکلیئر توانائی سمیت کئی دیگر موضوعات پر بھی بات چیت متوقع ہے، جبکہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کی مضبوطی کا اظہار کرنے کے لیے نئے معاہدے بھی کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیوٹن کا  دورہ بھارت گرمجوشی سے بھرپور رہا۔ جمعرات کی شب نئی دہلی کے قریب ایئرپورٹ پر پہنچنے پر مودی نے انہیں گلے لگا کر خوش آمدید کہا اور بعد ازاں اپنے گھر پر ان کے اعزاز میں نجی عشائیہ دیا۔ روسی صدر کے ہمراہ وفد میں سرکاری اور کاروباری شخصیات شامل ہیں، جن میں روس کے وزیر دفاع آندرے بیلوسوف بھی شامل تھے۔ انہوں نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے ملاقات میں کہا کہ روسی دفاعی صنعت بھارت کو دفاعی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے لیے مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیوٹن اس سے قبل ٹرمپ کے خصوصی نمائندوں سے یوکرین جنگ کے حل کے لیے مذاکرات کر چکے ہیں، تاہم کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ بھارت نے اب تک روس کے خلاف جنگ پر کھل کر تنقید سے گریز کیا ہے اور ہمیشہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے، جبکہ اس کا مؤقف ہے کہ مغربی ممالک روس سے اپنے مفاد کی خاطر تجارت جاری رکھتے ہیں، مگر بھارت کے تعلقات پر اعتراض اٹھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جمعہ کے روز نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اعلیٰ سطح مذاکرات کریں گے، جن کا مقصد تجارت کو فروغ دینا اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مغربی پابندیوں نے ماسکو اور نئی دہلی کے طویل عرصے سے قائم تعلقات پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔</strong></p>
<p>پیوٹن چار سال بعد پہلی بار بھارت پہنچے ہیں، جبکہ بھارت ایک جانب امریکہ کے ساتھ ایسے تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہا ہے جس کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر بھارت کی مصنوعات پر عائد ٹیرف کو کم کرانا ہے۔</p>
<p>روسی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہونے کے ساتھ ساتھ بھارت نے یوکرین پر روس کے حملے کے بعد یورپی ممالک کی روسی توانائی پر انحصار میں کمی کے نتیجے میں ماسکو سے سستے داموں خام تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ روس دہائیوں سے بھارت کا سب سے بڑا دفاعی سپلائر ہے اور اب وہ تجارتی حجم کو 2030 تک 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے بھارتی اشیاء کی برآمدات میں اضافہ چاہتا ہے، کیونکہ اب تک تجارتی توازن توانائی درآمدات کے باعث روس کے حق میں رہا ہے۔</p>
<p>واشنگٹن کے اٹلانٹک کونسل سے وابستہ تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کے مطابق بھارت ایک پیچیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے: اگر وہ ماسکو سے تعلقات مضبوط کرتا ہے تو واشنگٹن ناراضی دکھا سکتا ہے، اور اگر امریکہ کی طرف جھکتا ہے تو روس کو ناراض کر سکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان لیبر اور سول نیوکلیئر توانائی سمیت کئی دیگر موضوعات پر بھی بات چیت متوقع ہے، جبکہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کی مضبوطی کا اظہار کرنے کے لیے نئے معاہدے بھی کریں گے۔</p>
<p>پیوٹن کا  دورہ بھارت گرمجوشی سے بھرپور رہا۔ جمعرات کی شب نئی دہلی کے قریب ایئرپورٹ پر پہنچنے پر مودی نے انہیں گلے لگا کر خوش آمدید کہا اور بعد ازاں اپنے گھر پر ان کے اعزاز میں نجی عشائیہ دیا۔ روسی صدر کے ہمراہ وفد میں سرکاری اور کاروباری شخصیات شامل ہیں، جن میں روس کے وزیر دفاع آندرے بیلوسوف بھی شامل تھے۔ انہوں نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے ملاقات میں کہا کہ روسی دفاعی صنعت بھارت کو دفاعی پیداوار میں خود کفیل بنانے کے لیے مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>پیوٹن اس سے قبل ٹرمپ کے خصوصی نمائندوں سے یوکرین جنگ کے حل کے لیے مذاکرات کر چکے ہیں، تاہم کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ بھارت نے اب تک روس کے خلاف جنگ پر کھل کر تنقید سے گریز کیا ہے اور ہمیشہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے، جبکہ اس کا مؤقف ہے کہ مغربی ممالک روس سے اپنے مفاد کی خاطر تجارت جاری رکھتے ہیں، مگر بھارت کے تعلقات پر اعتراض اٹھاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280146</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 09:19:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/05091727a78f66b.webp" type="image/webp" medium="image" height="631" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/05091727a78f66b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
