<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر مملکت نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280142/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر آصف علی زرداری نے جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کی سمری کی منظوری دے دی جس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز ( سی ڈی ایف ) کے طور پر پانچ سالہ مدت کے لیے تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ بات صدارتی بیان میں کہی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاصم منیر اب بیک وقت سی او اے ایس اور سی ڈی ایف کے عہدے سنبھالیں گے اور انہیں یہ کردار حکومت کے نئے قائم کردہ ڈھانچے کے تحت دیا گیا ہے جس کا مقصد مسلح افواج کے درمیان مشترکہ عملی تعاون کو بڑھانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف علی زرداری نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابّر سدھو کی خدمات میں دو سالہ توسیع کی بھی منظوری دی، جو ان کی موجودہ مدت 19 مارچ 2026 کو مکمل ہونے کے بعد مؤثر ہوگی۔ سدھو 2021 سے چیف آف ایئر اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف زرداری نے دونوں کمانڈرز کو ان کی متعلقہ مدت خدمات کے دوران نیک خواہشات کا بھی پیغام دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شام کے ابتدائی حصے میں وزیراعظم شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری کو ایک سمری بھیجی، جس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ملک کے چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر تعینات کرنے کی تجویز دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق شہباز شریف نے فیلڈ مارشل منیر کو بیک وقت سی او اے ایس اور سی ڈی ایف کے عہدے سنبھالنے کی سمری کی منظوری دی اور اسے صدارتی دفتر کو بھیج دیا۔  پی ایم او کے مطابق اس دوہری تقرری کی مدت پانچ سال ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز ( سی ڈی ایف ) کی تقرری کے نوٹیفکیشن کا اجرا ”مقررہ وقت پر“ کیا جائے گا اور عوام سے غیر ضروری قیاس آرائی سے گریز کرنے کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک روز بعد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت جلد نوٹیفکیشن جاری کرے گی، اور بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر پہلے ہی اس عہدے کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے تاخیر کی جزوی وجہ وزیراعظم کے سفر کے شیڈول کو قرار دیا اور زور دیا کہ دفاعی وزارت کو ایسے تقرریوں میں پی ایم او  کے ساتھ قریبی ہم آہنگی رکھنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری نے اعلیٰ دفاعی ڈھانچے کی تبدیلی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کی، لیکن عملی تاخیر کی وجہ سے منصوبہ سازوں کی توقع کے مطابق یہ منتقلی مکمل طور پر ہموار نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بھی ایک اہم تقرری باقی ہے، جو کہ نئے قائم کیے گئے نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ ( این ایس سی ) کے کمانڈر کی ہے، ایک چار اسٹار پوسٹ جو پہلے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین کے زیرِ نگرانی نیوکلیئر امور کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ حکام توقع کرتے ہیں کہ  این ایس سی کمانڈر کی تعیناتی صرف سی ڈی ایف نوٹیفکیشن کے مکمل عملدرآمد کے بعد ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترمیم شدہ آرٹیکل 243 کے تحت این ایس سی کمانڈر کی تقرری وزیراعظم کی سفارش پر  سی او اے ایس کی تجویز کے مطابق کی جائے گی، جو اب بیک وقت سی ڈی ایف کے عہدے پر بھی فائز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں بھی ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ اسے نئے ڈھانچے کے مطابق ڈھالا جا سکے، خاص طور پر اس بات کے حوالے سے کہ نئے عہدے ایئر فورس اور نیوی کی قیادت کے حوالے سے کس طرح مرتب ہوں گے، اور یہ کہ کیا سروس چیفس اپنی نمائندگی برقرار رکھیں گے جب ان کے کمانڈز ایک متحدہ این ایس سی کے تحت ضم ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر آصف علی زرداری نے جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کی سمری کی منظوری دے دی جس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز ( سی ڈی ایف ) کے طور پر پانچ سالہ مدت کے لیے تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ بات صدارتی بیان میں کہی گئی ہے۔</strong></p>
<p>عاصم منیر اب بیک وقت سی او اے ایس اور سی ڈی ایف کے عہدے سنبھالیں گے اور انہیں یہ کردار حکومت کے نئے قائم کردہ ڈھانچے کے تحت دیا گیا ہے جس کا مقصد مسلح افواج کے درمیان مشترکہ عملی تعاون کو بڑھانا ہے۔</p>
<p>صدر آصف علی زرداری نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابّر سدھو کی خدمات میں دو سالہ توسیع کی بھی منظوری دی، جو ان کی موجودہ مدت 19 مارچ 2026 کو مکمل ہونے کے بعد مؤثر ہوگی۔ سدھو 2021 سے چیف آف ایئر اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p>صدر آصف زرداری نے دونوں کمانڈرز کو ان کی متعلقہ مدت خدمات کے دوران نیک خواہشات کا بھی پیغام دیا۔</p>
<p>شام کے ابتدائی حصے میں وزیراعظم شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری کو ایک سمری بھیجی، جس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ملک کے چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر تعینات کرنے کی تجویز دی گئی۔</p>
<p>وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق شہباز شریف نے فیلڈ مارشل منیر کو بیک وقت سی او اے ایس اور سی ڈی ایف کے عہدے سنبھالنے کی سمری کی منظوری دی اور اسے صدارتی دفتر کو بھیج دیا۔  پی ایم او کے مطابق اس دوہری تقرری کی مدت پانچ سال ہوگی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز ( سی ڈی ایف ) کی تقرری کے نوٹیفکیشن کا اجرا ”مقررہ وقت پر“ کیا جائے گا اور عوام سے غیر ضروری قیاس آرائی سے گریز کرنے کی اپیل کی۔</p>
<p>ایک روز بعد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت جلد نوٹیفکیشن جاری کرے گی، اور بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر پہلے ہی اس عہدے کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے تاخیر کی جزوی وجہ وزیراعظم کے سفر کے شیڈول کو قرار دیا اور زور دیا کہ دفاعی وزارت کو ایسے تقرریوں میں پی ایم او  کے ساتھ قریبی ہم آہنگی رکھنی چاہیے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری نے اعلیٰ دفاعی ڈھانچے کی تبدیلی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کی، لیکن عملی تاخیر کی وجہ سے منصوبہ سازوں کی توقع کے مطابق یہ منتقلی مکمل طور پر ہموار نہیں ہو سکی۔</p>
<p>اب بھی ایک اہم تقرری باقی ہے، جو کہ نئے قائم کیے گئے نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ ( این ایس سی ) کے کمانڈر کی ہے، ایک چار اسٹار پوسٹ جو پہلے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین کے زیرِ نگرانی نیوکلیئر امور کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ حکام توقع کرتے ہیں کہ  این ایس سی کمانڈر کی تعیناتی صرف سی ڈی ایف نوٹیفکیشن کے مکمل عملدرآمد کے بعد ہوگی۔</p>
<p>ترمیم شدہ آرٹیکل 243 کے تحت این ایس سی کمانڈر کی تقرری وزیراعظم کی سفارش پر  سی او اے ایس کی تجویز کے مطابق کی جائے گی، جو اب بیک وقت سی ڈی ایف کے عہدے پر بھی فائز ہیں۔</p>
<p>نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں بھی ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ اسے نئے ڈھانچے کے مطابق ڈھالا جا سکے، خاص طور پر اس بات کے حوالے سے کہ نئے عہدے ایئر فورس اور نیوی کی قیادت کے حوالے سے کس طرح مرتب ہوں گے، اور یہ کہ کیا سروس چیفس اپنی نمائندگی برقرار رکھیں گے جب ان کے کمانڈز ایک متحدہ این ایس سی کے تحت ضم ہو جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280142</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 23:13:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/042313505035376.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/042313505035376.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
