<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محسن نقوی نے برطانیہ کو شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواستیں پیش کر دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280138/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے مرزا شہزاد اکبر اور عادل فاروق راجہ کی حوالگی کے کاغذات برطانوی حکومت کے حوالے کر دیے، جبکہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے لندن سے دونوں افراد کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا، جو ملک میں مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے یہ دستاویزات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کے ساتھ ملاقات کے دوران پیش کیں، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات، سکیورٹی تعاون اور برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کی واپسی کے امور پر بھی بات چیت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وزارت داخلہ کے سینئر حکام بشمول وفاقی سیکریٹری داخلہ محمد خرم آغا بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہزاد اکبر، جو سابق مشیرِ داخلہ و احتساب اور سابقہ حکومت کی ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ رہے کو اپنے عہدے کے دوران کی کارکردگی سے متعلق تحقیقات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عادل فاروق  راجہ جو سابق فوجی میجر تھے اور بعد میں یوٹیوبر بن گئے، 2023 میں فوجی عدالت نے انہیں پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے تحت سزائیں سنائیں، جن میں ابہام انگیزی اور حساس معلومات افشا کرنے کے الزامات شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عادل فاروق راجہ پہلے بھی برطانیہ میں ایک بڑے توہینِ آمیز مقدمے میں شکست کھا چکے ہیں، جہاں لندن کی عدالت نے ایک ریٹائرڈ انٹیلی جنس افسر کے خلاف ان کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے کہا کہ دونوں افراد پاکستان میں مطلوب ہیں اور انہیں بلا تاخیر حوالگی کے لیے بھیجا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت آزادی اظہار رائے کا احترام کرتی ہے، لیکن  جعلی خبریں اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے والی مہمات برداشت نہیں کی جائیں گی اور پاکستان بیرونِ ملک پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں ملوث افراد کے حوالے سے برطانوی تعاون کی قدر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حوالگی کا عمل پہلے ہی وزارتِ خارجہ کے ذریعے شروع کر دیا گیا ہے اور اسلام آباد توقع کرتا ہے کہ برطانوی حکام موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت اس معاملے میں پیش رفت کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے مرزا شہزاد اکبر اور عادل فاروق راجہ کی حوالگی کے کاغذات برطانوی حکومت کے حوالے کر دیے، جبکہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے لندن سے دونوں افراد کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا، جو ملک میں مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں۔</strong></p>
<p>محسن نقوی نے یہ دستاویزات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کے ساتھ ملاقات کے دوران پیش کیں، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات، سکیورٹی تعاون اور برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کی واپسی کے امور پر بھی بات چیت ہوئی۔</p>
<p>اس موقع پر وزارت داخلہ کے سینئر حکام بشمول وفاقی سیکریٹری داخلہ محمد خرم آغا بھی موجود تھے۔</p>
<p>شہزاد اکبر، جو سابق مشیرِ داخلہ و احتساب اور سابقہ حکومت کی ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ رہے کو اپنے عہدے کے دوران کی کارکردگی سے متعلق تحقیقات کا سامنا ہے۔</p>
<p>عادل فاروق  راجہ جو سابق فوجی میجر تھے اور بعد میں یوٹیوبر بن گئے، 2023 میں فوجی عدالت نے انہیں پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے تحت سزائیں سنائیں، جن میں ابہام انگیزی اور حساس معلومات افشا کرنے کے الزامات شامل تھے۔</p>
<p>عادل فاروق راجہ پہلے بھی برطانیہ میں ایک بڑے توہینِ آمیز مقدمے میں شکست کھا چکے ہیں، جہاں لندن کی عدالت نے ایک ریٹائرڈ انٹیلی جنس افسر کے خلاف ان کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا تھا۔</p>
<p>محسن نقوی نے کہا کہ دونوں افراد پاکستان میں مطلوب ہیں اور انہیں بلا تاخیر حوالگی کے لیے بھیجا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت آزادی اظہار رائے کا احترام کرتی ہے، لیکن  جعلی خبریں اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے والی مہمات برداشت نہیں کی جائیں گی اور پاکستان بیرونِ ملک پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں ملوث افراد کے حوالے سے برطانوی تعاون کی قدر کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حوالگی کا عمل پہلے ہی وزارتِ خارجہ کے ذریعے شروع کر دیا گیا ہے اور اسلام آباد توقع کرتا ہے کہ برطانوی حکام موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت اس معاملے میں پیش رفت کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280138</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 18:54:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/04184519a366d6d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/04184519a366d6d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
