<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:09:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:09:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقامی آٹو صنعت کا تحفظ، حکومت کا استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کے قواعد سخت کرنے کا عندیہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280136/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے جمعرات کو استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کے حوالے سے سخت پالیسی کی طرف پیش رفت کا عندیہ دیا، وزیر اعظم شہباز شریف نے حفاظتی معیار کو یقینی بنانے اور مقامی پیداوار کی حمایت کے لیے نئے فریم ورک کے نفاذ کی ہدایت کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی صدارت میں اجلاس ہوا، جس میں آٹو سیکٹر کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے گئے۔ سیکریٹری انڈسٹریز سیف انجم اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے سی ای او حماد منصور بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی نمائندوں نے حکومت کو سیکٹر کے سامنے موجود چیلنجز سے آگاہ کیا اور خبردار کیا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کے غیر منظم آمد و رفت سے مقامی پیداوار کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن ( پی اے ایم اے) نے زور دیا کہ ٹیکس اصلاحات اور استعمال شدہ کاروں کی درآمدات پر سخت کنٹرول پیداوار کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان نے ان خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ آٹو سیکٹر اب بھی بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے ایک اہم ستون ہے اور اسے ایک پیش گوئی کے قابل اور مسابقتی ماحول کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق نئے قانون سازی اور ضوابط کی تیاری کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ صرف وہ استعمال شدہ گاڑیاں پاکستان میں داخل ہوں گی جو مقررہ حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات پر پورا اتریں، اور اس بات پر زور دیا کہ بڑھتی ہوئی مقابلہ بازی مقامی پیداوار کو نقصان پہنچائے نہیں بلکہ اس کی تکمیل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری انڈسٹریز سیف انجم کے مطابق، تجارتی درآمدات کے موجودہ شرائط، جن میں درآمد کنندہ کے نام پر تین سال کی بیرون ملک رہائش اور ایک سال کی رجسٹریشن شامل ہے، برقرار رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تمام درآمد شدہ گاڑیوں کی پری شپمنٹ انسپیکشن کی جائے گی تاکہ حفاظتی اور معیار کے معیارات کی تصدیق ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر خان نے کہا کہ آنے والا فریم ورک شفافیت کو یقینی بنائے گا، میرٹ پر مبنی مقابلہ کو فروغ دے گا، اور استعمال شدہ گاڑیوں کے لیے ایک زیادہ منظم درآمدی نظام تشکیل دے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے جمعرات کو استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کے حوالے سے سخت پالیسی کی طرف پیش رفت کا عندیہ دیا، وزیر اعظم شہباز شریف نے حفاظتی معیار کو یقینی بنانے اور مقامی پیداوار کی حمایت کے لیے نئے فریم ورک کے نفاذ کی ہدایت کی ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی صدارت میں اجلاس ہوا، جس میں آٹو سیکٹر کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے گئے۔ سیکریٹری انڈسٹریز سیف انجم اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے سی ای او حماد منصور بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔</p>
<p>صنعتی نمائندوں نے حکومت کو سیکٹر کے سامنے موجود چیلنجز سے آگاہ کیا اور خبردار کیا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کے غیر منظم آمد و رفت سے مقامی پیداوار کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن ( پی اے ایم اے) نے زور دیا کہ ٹیکس اصلاحات اور استعمال شدہ کاروں کی درآمدات پر سخت کنٹرول پیداوار کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔</p>
<p>ہارون اختر خان نے ان خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ آٹو سیکٹر اب بھی بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے ایک اہم ستون ہے اور اسے ایک پیش گوئی کے قابل اور مسابقتی ماحول کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق نئے قانون سازی اور ضوابط کی تیاری کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ صرف وہ استعمال شدہ گاڑیاں پاکستان میں داخل ہوں گی جو مقررہ حفاظتی اور ماحولیاتی معیارات پر پورا اتریں، اور اس بات پر زور دیا کہ بڑھتی ہوئی مقابلہ بازی مقامی پیداوار کو نقصان پہنچائے نہیں بلکہ اس کی تکمیل کرے۔</p>
<p>سیکریٹری انڈسٹریز سیف انجم کے مطابق، تجارتی درآمدات کے موجودہ شرائط، جن میں درآمد کنندہ کے نام پر تین سال کی بیرون ملک رہائش اور ایک سال کی رجسٹریشن شامل ہے، برقرار رہیں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تمام درآمد شدہ گاڑیوں کی پری شپمنٹ انسپیکشن کی جائے گی تاکہ حفاظتی اور معیار کے معیارات کی تصدیق ہو سکے۔</p>
<p>ہارون اختر خان نے کہا کہ آنے والا فریم ورک شفافیت کو یقینی بنائے گا، میرٹ پر مبنی مقابلہ کو فروغ دے گا، اور استعمال شدہ گاڑیوں کے لیے ایک زیادہ منظم درآمدی نظام تشکیل دے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280136</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 09:34:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/041826519c5141f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/041826519c5141f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
