<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:39:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:39:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی اے نے ٹیلی نار کے حصول پر سخت شرائط عائد کردیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280131/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پی ٹی سی ایل کی جانب سے ٹیلی نار پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ اور اورین ٹاورز پرائیویٹ لمیٹڈ کے مجوزہ حصول کو متعدد سخت شرائط کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے کے حکم نامے کی نقل بزنس ریکارڈر نے حاصل کی ہے جس کے مطابق پی ٹی اے نے مجوزہ ٹرانزیکشن کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اسے ملکی قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک سے مطابقت رکھنے والا قرار دیا ہے، تاہم اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی بڑی انڈسٹریل تبدیلی کے تناظر میں صارفین، دیگر لائسنس ہولڈرز اور مجموعی طور پر ٹیلی کام مارکیٹ کے مفادات کے تحفظ کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے اپنے حکم میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ پی ٹی سی ایل کی جانب سے ٹیلی نار پاکستان کے حصول کے بعد، پاکستان موبائل کمیونیکیشن لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل، یو فون) اور ٹیلی نار پاکستان (ٹی پی) کا انضمام مستقبل میں شروع کیا جائے گا۔ ان دونوں کمپنیوں کو مجموعی طور پر “مرج کو (MergeCo)” کہا جائے گا جو اس ٹرانزیکشن کے بعد ایک متحدہ اکائی کے طور پر سامنے آئے گی۔ اتھارٹی کے مطابق امکان ہے کہ انضمام کے بعد پی ٹی ایم ایل ہی باقی رہنے والی کمپنی ہو گی۔ پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اس کے حکم نامے میں درج شرائط پی ٹی ایم ایل اور مرج کو پر بھی لاگو ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکم نامے کے مطابق پی ٹی ایم ایل اور ٹیلی نار پاکستان انضمام کے فیصلے تک اپنی علیحدہ قانونی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں اپنی خدمات اسی طرح فراہم کریں گے جیسے وہ اپنے موجودہ لائسنس کے تحت کرنے کے پابند ہیں۔ اس عرصے میں دونوں کمپنیوں پر اپنے اپنے لائسنس کی تمام شرائط اور قواعد کی پابندی لازم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی سی ایل کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ٹیلی نار پاکستان، ٹیلی نار لانگ ڈسٹنس اینڈ انٹرنیشنل (ٹی ایل ڈی آئی) اور اورین ٹاورز کے تمام لائسنسز سے متعلق مالی، قانونی، ریگولیٹری اور آپریشنل ذمہ داریوں کو مکمل طور پر قبول کرے گا۔ اسی طرح تینوں کمپنیوں کو ریاستی اداروں (ایس ای سی پی، رجسٹرار آزاد کشمیر، گلگت بلتستان) کے جاری کردہ فارم-9، فارم-7 اور فارم-A کی تازہ کاپیاں 30 روز کے اندر جمع کرانا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ ان کمپنیوں کی برانڈنگ، برانڈ ناموں میں تبدیلی یا نئی سروس کے نام متعارف کرنے کے لیے کم از کم 30 دن پہلے اتھارٹی سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ اس کے علاوہ اتھارٹی کی جانب سے جاری این او سی تمام بقایا ریگولیٹری واجبات کی ادائیگی سے مشروط ہوگی، سوائے ان معاملات کے جن پر عدالت نے حکم امتناع جاری کر رکھا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے غیر امتیازی ، شفاف اور مسابقتی ماحول برقرار رکھنے کے لیے واضح شرائط رکھی ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی سی ایل، ٹیلی نار پاکستان، ٹی ایل ڈی آئی اور مرج کو کسی بھی ٹیلی کام کمپنی کے ساتھ انفرااسٹرکچر، بینڈوڈتھ، فریکوئنسی یا دیگر نیٹ ورک عناصر کی فراہمی میں امتیاز نہیں برتیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی سی ایل پر خصوصی طور پر پابندی لگائی گئی ہے کہ وہ کوئی ایسا معاہدہ نہیں کرے گا جو دیگر لائسنس ہولڈرز کو اس کی بینڈوڈتھ خریدنے اور اپنی خدمات فراہم کرنے سے روکے یا ان کے بنیادی حقوق پر منفی اثر ڈالے۔ اسی طرح تمام کمپنیوں کو آرمز لینتھ بنیاد پر معاہدے کرنا ہوں گے تاکہ غیر ضروری سبسڈی یا مارکیٹ کو مسخ کرنے والی کسی سرگرمی کو روکا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اکاؤنٹنگ-سیپریشن" href="#اکاؤنٹنگ-سیپریشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اکاؤنٹنگ سیپریشن&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے کمپنیوں کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنی ہر کاروباری یونٹ کے الگ الگ اکاؤنٹس مرتب کریں اور سالانہ بنیادوں پر مفصل مالی گوشوارے جمع کروائیں۔ اس اقدام کا مقصد ریونیو اور اخراجات میں شفافیت پیدا کرنا ہے تاکہ کراس سبسڈی یا غیر منصفانہ قیمتوں کا تعین نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="انٹرکنکشن-کے-قواعد" href="#انٹرکنکشن-کے-قواعد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;انٹرکنکشن کے قواعد&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی سی ایل، ٹی ٹی آئی، ٹی ایل ڈی آئی اور پی ٹی ایم ایل/مرج کو پر انٹرکنیکشن گائیڈ لائنز 2004 کے تحت سخت شرائط عائد کی گئی ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین ماہ کے اندر ریفرنس انٹرکنیکشن آفرز (آر آئی اوز) پی ٹی اے میں جمع کرانا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ انٹرکنکشن معاہدوں میں کوئی تبدیلی پیشگی منظوری کے بغیر نہیں کی جا سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرکنکشن کی گنجائش کو کم کرنے یا اس کی قیمت کو تبدیل کرنے کے لیے اتھارٹی کی اجازت لازمی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرکنکشن سہولت تک رسائی میں کسی بھی لائسنس ہولڈر کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹیرف-کراس-سبسڈی-اور-قیمتوں-کا-تعین" href="#ٹیرف-کراس-سبسڈی-اور-قیمتوں-کا-تعین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ٹیرف، کراس سبسڈی اور قیمتوں کا تعین&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے قیمتوں کے حوالے سے بھی سخت شرائط عائد کی ہیں۔ تمام لائسنس ہولڈرز پی ٹی سی ایل، ٹی پی، ٹی ایل ڈی آئی اور مرج کو کسی بھی قیمت میں تبدیلی، نئی ٹیرف اسکیم کی پیشکش یا فیس کے نفاذ سے پہلے اتھارٹی کی منظوری کے پابند ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ کسی بھی قسم کی کراس سبسڈی، یعنی ایک سروس کی آمدنی سے دوسری سروس کو غیر ضروری سہارا دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کنزیومر-پروٹیکشن" href="#کنزیومر-پروٹیکشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;کنزیومر پروٹیکشن&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے کمپنیوں کو تاکید کی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، معیاری خدمات اور صارفین کے تمام بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے کمپنیوں کو 90 روز کے اندر نئے کوڈ آف کمرشل پریکٹس (سی سی پی) اور اسٹینڈرڈ کانٹریکٹ آف سروس (ایس سی او ایس) جمع کروانا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے حکم دیا ہے کہ کسی بھی سائٹ، اسپیکٹرم یا نیٹ ورک کو انضمام سے پہلے یا بعد میں بغیر اجازت ضم یا ڈی کمیشن نہیں کیا جاسکے گا۔ تمام بی ٹی ایس سائٹس کم از کم چار ماہ تک فعال رہیں گی۔ غیر ضروری قرار پانے والی سائٹس پہلے دیگر آپریٹرز کو خریداری کی پیشکش کے بعد ہی منتقل کی جاسکیں گی۔ اسپیکٹرم کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا اور غیر استعمال شدہ مائیکروویو اسپیکٹرم واپس کیا جائے گا۔ مرج کو کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ صارفین کو کم از کم وہی معیار فراہم کرے جو انضمام سے قبل دستیاب تھا، بلکہ اس میں بہتری لانا اس کی ذمہ داری ہوگی۔ پی ٹی اے کو رئیل ٹائم میں نیٹ ورک کی نگرانی کی سہولت دینے کے لیے او ایس ایس کے پی آئیز کی آن لائن رسائی بھی فراہم کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="لائسنس-کی-تجدید-نمبرنگ-اور-نیشنل-ڈیسٹی-نیشن-کوڈ" href="#لائسنس-کی-تجدید-نمبرنگ-اور-نیشنل-ڈیسٹی-نیشن-کوڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;لائسنس کی تجدید، نمبرنگ اور نیشنل ڈیسٹی نیشن کوڈ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اگر مرج کو کسی لائسنس کی تجدید نہ کرانے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے پاکستان میں 5 ملین ڈالر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 0.5 ملین ڈالر نیشنل ڈیسٹی نیشن کوڈ کے حصول کے لیے ادا کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرج کو دیگر موبائل آپریٹرز کو نیشنل رومنگ کی سہولت باہمی معاہدے کے تحت فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر سہ ماہی میں کمپلائنس رپورٹ جمع کرانا ضروری ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ ٹی پی اور پی ٹی ایم ایل کے انضمام کے وقت مزید شرائط بھی عائد کی جا سکتی ہیں، لہٰذا موجودہ شرائط کو حتمی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پی ٹی سی ایل کی جانب سے ٹیلی نار پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ اور اورین ٹاورز پرائیویٹ لمیٹڈ کے مجوزہ حصول کو متعدد سخت شرائط کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>پی ٹی اے کے حکم نامے کی نقل بزنس ریکارڈر نے حاصل کی ہے جس کے مطابق پی ٹی اے نے مجوزہ ٹرانزیکشن کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اسے ملکی قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک سے مطابقت رکھنے والا قرار دیا ہے، تاہم اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی بڑی انڈسٹریل تبدیلی کے تناظر میں صارفین، دیگر لائسنس ہولڈرز اور مجموعی طور پر ٹیلی کام مارکیٹ کے مفادات کے تحفظ کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔</p>
<p>پی ٹی اے نے اپنے حکم میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ پی ٹی سی ایل کی جانب سے ٹیلی نار پاکستان کے حصول کے بعد، پاکستان موبائل کمیونیکیشن لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل، یو فون) اور ٹیلی نار پاکستان (ٹی پی) کا انضمام مستقبل میں شروع کیا جائے گا۔ ان دونوں کمپنیوں کو مجموعی طور پر “مرج کو (MergeCo)” کہا جائے گا جو اس ٹرانزیکشن کے بعد ایک متحدہ اکائی کے طور پر سامنے آئے گی۔ اتھارٹی کے مطابق امکان ہے کہ انضمام کے بعد پی ٹی ایم ایل ہی باقی رہنے والی کمپنی ہو گی۔ پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اس کے حکم نامے میں درج شرائط پی ٹی ایم ایل اور مرج کو پر بھی لاگو ہوں گی۔</p>
<p>حکم نامے کے مطابق پی ٹی ایم ایل اور ٹیلی نار پاکستان انضمام کے فیصلے تک اپنی علیحدہ قانونی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں اپنی خدمات اسی طرح فراہم کریں گے جیسے وہ اپنے موجودہ لائسنس کے تحت کرنے کے پابند ہیں۔ اس عرصے میں دونوں کمپنیوں پر اپنے اپنے لائسنس کی تمام شرائط اور قواعد کی پابندی لازم ہوگی۔</p>
<p>پی ٹی سی ایل کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ٹیلی نار پاکستان، ٹیلی نار لانگ ڈسٹنس اینڈ انٹرنیشنل (ٹی ایل ڈی آئی) اور اورین ٹاورز کے تمام لائسنسز سے متعلق مالی، قانونی، ریگولیٹری اور آپریشنل ذمہ داریوں کو مکمل طور پر قبول کرے گا۔ اسی طرح تینوں کمپنیوں کو ریاستی اداروں (ایس ای سی پی، رجسٹرار آزاد کشمیر، گلگت بلتستان) کے جاری کردہ فارم-9، فارم-7 اور فارم-A کی تازہ کاپیاں 30 روز کے اندر جمع کرانا ہوں گی۔</p>
<p>پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ ان کمپنیوں کی برانڈنگ، برانڈ ناموں میں تبدیلی یا نئی سروس کے نام متعارف کرنے کے لیے کم از کم 30 دن پہلے اتھارٹی سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ اس کے علاوہ اتھارٹی کی جانب سے جاری این او سی تمام بقایا ریگولیٹری واجبات کی ادائیگی سے مشروط ہوگی، سوائے ان معاملات کے جن پر عدالت نے حکم امتناع جاری کر رکھا ہو۔</p>
<p>پی ٹی اے نے غیر امتیازی ، شفاف اور مسابقتی ماحول برقرار رکھنے کے لیے واضح شرائط رکھی ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی سی ایل، ٹیلی نار پاکستان، ٹی ایل ڈی آئی اور مرج کو کسی بھی ٹیلی کام کمپنی کے ساتھ انفرااسٹرکچر، بینڈوڈتھ، فریکوئنسی یا دیگر نیٹ ورک عناصر کی فراہمی میں امتیاز نہیں برتیں گے۔</p>
<p>پی ٹی سی ایل پر خصوصی طور پر پابندی لگائی گئی ہے کہ وہ کوئی ایسا معاہدہ نہیں کرے گا جو دیگر لائسنس ہولڈرز کو اس کی بینڈوڈتھ خریدنے اور اپنی خدمات فراہم کرنے سے روکے یا ان کے بنیادی حقوق پر منفی اثر ڈالے۔ اسی طرح تمام کمپنیوں کو آرمز لینتھ بنیاد پر معاہدے کرنا ہوں گے تاکہ غیر ضروری سبسڈی یا مارکیٹ کو مسخ کرنے والی کسی سرگرمی کو روکا جاسکے۔</p>
<h3><a id="اکاؤنٹنگ-سیپریشن" href="#اکاؤنٹنگ-سیپریشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اکاؤنٹنگ سیپریشن</strong></h3>
<p>پی ٹی اے نے کمپنیوں کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنی ہر کاروباری یونٹ کے الگ الگ اکاؤنٹس مرتب کریں اور سالانہ بنیادوں پر مفصل مالی گوشوارے جمع کروائیں۔ اس اقدام کا مقصد ریونیو اور اخراجات میں شفافیت پیدا کرنا ہے تاکہ کراس سبسڈی یا غیر منصفانہ قیمتوں کا تعین نہ ہو۔</p>
<h3><a id="انٹرکنکشن-کے-قواعد" href="#انٹرکنکشن-کے-قواعد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>انٹرکنکشن کے قواعد</strong></h3>
<p>پی ٹی سی ایل، ٹی ٹی آئی، ٹی ایل ڈی آئی اور پی ٹی ایم ایل/مرج کو پر انٹرکنیکشن گائیڈ لائنز 2004 کے تحت سخت شرائط عائد کی گئی ہیں:</p>
<p>تین ماہ کے اندر ریفرنس انٹرکنیکشن آفرز (آر آئی اوز) پی ٹی اے میں جمع کرانا ہوں گی۔</p>
<p>موجودہ انٹرکنکشن معاہدوں میں کوئی تبدیلی پیشگی منظوری کے بغیر نہیں کی جا سکے گی۔</p>
<p>انٹرکنکشن کی گنجائش کو کم کرنے یا اس کی قیمت کو تبدیل کرنے کے لیے اتھارٹی کی اجازت لازمی ہوگی۔</p>
<p>انٹرکنکشن سہولت تک رسائی میں کسی بھی لائسنس ہولڈر کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جا سکے گا۔</p>
<h3><a id="ٹیرف-کراس-سبسڈی-اور-قیمتوں-کا-تعین" href="#ٹیرف-کراس-سبسڈی-اور-قیمتوں-کا-تعین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ٹیرف، کراس سبسڈی اور قیمتوں کا تعین</strong></h3>
<p>پی ٹی اے نے قیمتوں کے حوالے سے بھی سخت شرائط عائد کی ہیں۔ تمام لائسنس ہولڈرز پی ٹی سی ایل، ٹی پی، ٹی ایل ڈی آئی اور مرج کو کسی بھی قیمت میں تبدیلی، نئی ٹیرف اسکیم کی پیشکش یا فیس کے نفاذ سے پہلے اتھارٹی کی منظوری کے پابند ہوں گے۔</p>
<p>مزید یہ کہ کسی بھی قسم کی کراس سبسڈی، یعنی ایک سروس کی آمدنی سے دوسری سروس کو غیر ضروری سہارا دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔</p>
<h3><a id="کنزیومر-پروٹیکشن" href="#کنزیومر-پروٹیکشن" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>کنزیومر پروٹیکشن</strong></h3>
<p>اتھارٹی نے کمپنیوں کو تاکید کی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، معیاری خدمات اور صارفین کے تمام بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے کمپنیوں کو 90 روز کے اندر نئے کوڈ آف کمرشل پریکٹس (سی سی پی) اور اسٹینڈرڈ کانٹریکٹ آف سروس (ایس سی او ایس) جمع کروانا ہوں گے۔</p>
<p>پی ٹی اے نے حکم دیا ہے کہ کسی بھی سائٹ، اسپیکٹرم یا نیٹ ورک کو انضمام سے پہلے یا بعد میں بغیر اجازت ضم یا ڈی کمیشن نہیں کیا جاسکے گا۔ تمام بی ٹی ایس سائٹس کم از کم چار ماہ تک فعال رہیں گی۔ غیر ضروری قرار پانے والی سائٹس پہلے دیگر آپریٹرز کو خریداری کی پیشکش کے بعد ہی منتقل کی جاسکیں گی۔ اسپیکٹرم کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا اور غیر استعمال شدہ مائیکروویو اسپیکٹرم واپس کیا جائے گا۔ مرج کو کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ صارفین کو کم از کم وہی معیار فراہم کرے جو انضمام سے قبل دستیاب تھا، بلکہ اس میں بہتری لانا اس کی ذمہ داری ہوگی۔ پی ٹی اے کو رئیل ٹائم میں نیٹ ورک کی نگرانی کی سہولت دینے کے لیے او ایس ایس کے پی آئیز کی آن لائن رسائی بھی فراہم کرنا ہوگی۔</p>
<h3><a id="لائسنس-کی-تجدید-نمبرنگ-اور-نیشنل-ڈیسٹی-نیشن-کوڈ" href="#لائسنس-کی-تجدید-نمبرنگ-اور-نیشنل-ڈیسٹی-نیشن-کوڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>لائسنس کی تجدید، نمبرنگ اور نیشنل ڈیسٹی نیشن کوڈ</strong></h3>
<p>اگر مرج کو کسی لائسنس کی تجدید نہ کرانے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے پاکستان میں 5 ملین ڈالر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 0.5 ملین ڈالر نیشنل ڈیسٹی نیشن کوڈ کے حصول کے لیے ادا کرنا ہوں گے۔</p>
<p>مرج کو دیگر موبائل آپریٹرز کو نیشنل رومنگ کی سہولت باہمی معاہدے کے تحت فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر سہ ماہی میں کمپلائنس رپورٹ جمع کرانا ضروری ہوگا۔</p>
<p>پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ ٹی پی اور پی ٹی ایم ایل کے انضمام کے وقت مزید شرائط بھی عائد کی جا سکتی ہیں، لہٰذا موجودہ شرائط کو حتمی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔</p>
<hr />
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280131</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 16:38:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/04163608145d47d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/04163608145d47d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
