<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کم عمر صارفین پر سوشل میڈیا پابندی کی پیروی کرے گی، آسٹریلیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280127/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا کے انٹرنیٹ ریگولیٹر نے کہا ہے کہ کم عمر نوجوانوں پر سوشل میڈیا پابندی ’پہلا ڈومینو‘ ثابت ہوگی، جس کے بعد دنیا بھر میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ میٹا کی ملکیت والے انسٹاگرام، فیس بک اور تھریڈز نے حکومت کی مقررہ آخری تاریخ سے ایک ہفتہ قبل ہی ہزاروں اکاؤنٹس بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سیفٹی کمشنر جولی انمین گرانٹ نے سڈنی ڈائیلاگ سائبر سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں انہیں 16 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس بلاک کرنے کے سخت اقدام پر تحفظات تھے، مگر مرحلہ وار ریگولیشن غیر مؤثر ثابت ہونے کے بعد اب وہ اس پابندی کی مکمل حامی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں تبدیلی ناگزیر ہے۔ ہماری ذاتی معلومات ان کمپنیوں کا ایندھن ہیں، اور ان پلیٹ فارمز پر ایسے طاقتور، نقصان دہ اور دھوکہ دہی پر مبنی ڈیزائن فیچرز موجود ہیں جو بڑوں کے لیے بھی چیلنج ہیں، تو پھر بچے کس طرح مقابلہ کریں گے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر کی حکومتیں آسٹریلوی قانون پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جو 10 دسمبر سے نافذ ہو رہا ہے۔ انمین گرانٹ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں اس قانون کی مزاحمت کرتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً ایک سال کی مزاحمت کے بعد میٹا، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور یوٹیوب نے اعلان کیا ہے کہ وہ پابندی کی مکمل پیروی کریں گے۔ ای سیفٹی کے مطابق آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر 96 فیصد نوجوان یعنی دس لاکھ سے زائد بچے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کے نفاذ سے پہلے ہی میٹا نے جمعرات کو کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس غیر فعال کرنا شروع کر دیے۔ دیگر پلیٹ فارمز نے بھی کم عمر صارفین کو تصاویر اور ڈیٹا محفوظ کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، ساتھ ہی انہیں اکاؤنٹ حذف کرنے یا 16 سال کی عمر تک منجمد رکھنے کا انتخاب دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڈنی کی رہائشی جینیفر جینیسن نے اس اقدام کو والدین کے لیے راحت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بچوں پر دباؤ کم ہوگا اور وہ اسکول کے بعد آرام سے گھر والوں کے ساتھ وقت گزار سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انمین گرانٹ نے کہا کہ بڑی ٹیک کمپنیاں اس پابندی کے خلاف لابنگ کرتے ہوئے معاملہ امریکی حکومت تک لے گئیں، جس نے انہیں ہاؤس جوڈیشری کمیٹی میں اظہارِ خیال کے لیے مدعو کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خود بھی غیرملکی دائرہ اختیار کے استعمال کا مظہر ہے، اگرچہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ امریکی کانگریس میں پیش ہوں گی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا کے انٹرنیٹ ریگولیٹر نے کہا ہے کہ کم عمر نوجوانوں پر سوشل میڈیا پابندی ’پہلا ڈومینو‘ ثابت ہوگی، جس کے بعد دنیا بھر میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ میٹا کی ملکیت والے انسٹاگرام، فیس بک اور تھریڈز نے حکومت کی مقررہ آخری تاریخ سے ایک ہفتہ قبل ہی ہزاروں اکاؤنٹس بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔</strong></p>
<p>ای سیفٹی کمشنر جولی انمین گرانٹ نے سڈنی ڈائیلاگ سائبر سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں انہیں 16 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس بلاک کرنے کے سخت اقدام پر تحفظات تھے، مگر مرحلہ وار ریگولیشن غیر مؤثر ثابت ہونے کے بعد اب وہ اس پابندی کی مکمل حامی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں تبدیلی ناگزیر ہے۔ ہماری ذاتی معلومات ان کمپنیوں کا ایندھن ہیں، اور ان پلیٹ فارمز پر ایسے طاقتور، نقصان دہ اور دھوکہ دہی پر مبنی ڈیزائن فیچرز موجود ہیں جو بڑوں کے لیے بھی چیلنج ہیں، تو پھر بچے کس طرح مقابلہ کریں گے؟‘</p>
<p>دنیا بھر کی حکومتیں آسٹریلوی قانون پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جو 10 دسمبر سے نافذ ہو رہا ہے۔ انمین گرانٹ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں اس قانون کی مزاحمت کرتی رہیں۔</p>
<p>تقریباً ایک سال کی مزاحمت کے بعد میٹا، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور یوٹیوب نے اعلان کیا ہے کہ وہ پابندی کی مکمل پیروی کریں گے۔ ای سیفٹی کے مطابق آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر 96 فیصد نوجوان یعنی دس لاکھ سے زائد بچے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>قانون کے نفاذ سے پہلے ہی میٹا نے جمعرات کو کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس غیر فعال کرنا شروع کر دیے۔ دیگر پلیٹ فارمز نے بھی کم عمر صارفین کو تصاویر اور ڈیٹا محفوظ کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، ساتھ ہی انہیں اکاؤنٹ حذف کرنے یا 16 سال کی عمر تک منجمد رکھنے کا انتخاب دیا ہے۔</p>
<p>سڈنی کی رہائشی جینیفر جینیسن نے اس اقدام کو والدین کے لیے راحت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بچوں پر دباؤ کم ہوگا اور وہ اسکول کے بعد آرام سے گھر والوں کے ساتھ وقت گزار سکیں گے۔</p>
<p>انمین گرانٹ نے کہا کہ بڑی ٹیک کمپنیاں اس پابندی کے خلاف لابنگ کرتے ہوئے معاملہ امریکی حکومت تک لے گئیں، جس نے انہیں ہاؤس جوڈیشری کمیٹی میں اظہارِ خیال کے لیے مدعو کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خود بھی غیرملکی دائرہ اختیار کے استعمال کا مظہر ہے، اگرچہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ امریکی کانگریس میں پیش ہوں گی یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280127</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 14:19:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/041418036b1b579.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/041418036b1b579.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
