<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:42:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تجارتی خسارہ ایک بڑا چیلنج</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280118/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، جولائی تا نومبر 2024  منفی 11.277 بلین امریکی ڈالر سے بڑھ کر جولائی تا نومبر 2025 میں منفی 15.469 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا جو کہ حیران کن 37.127 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 میں برآمدات نومبر 2024 کے مقابلے میں 15.35 فیصد کم ہو گئیں جبکہ اسی مدت کے مقابلے میں درآمدات 5.42 فیصد بڑھ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی رضامندی کے ساتھ درآمدات پر انتظامی کنٹرول عائد کرنے کی پالیسی اپنا رکھی تھی، لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ جیسے ہی تجارتی توازن مثبت ہو گا وہ ان کنٹرولز کو ہٹا دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال کے اعدادوشمار انتہائی تشویشناک ہیں اور اس رجحان کے تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں جو کہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے آئی ایم ایف سے قرض لینے کے فیصلے کی وجہ بنا ہے، پاکستان فی الحال اپنے چوبیسویں پروگرام میں ہے، اس بات کو اس اخبار کے ساتھ ساتھ آزاد معیشت دانوں نے بھی بارہا اجاگر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی بنیادی وجہ یہ ہے: پاکستان کا برآمدی شعبہ خام مال اور نیم تیار شدہ مصنوعات کی درآمد پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور درآمدات کو انتظامی اقدامات کے ذریعے کم کرنے کی کوئی بھی کوشش (ایسی پالیسی جو وقتاً فوقتاً بار بار پیدا ہونے والے بیلنس آف پیمنٹس کے بحران سے نمٹنے کے لیے اختیار کی جاتی رہی ہے جس میں تجارتی خسارہ اور بیرونی قرضے نمایاں ہوتے ہیں) تجارتی توازن اور بیلنس آف پیمنٹس کو تو مضبوط کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ حکومت کو بھی اپنا قرضہ بڑھانے پر مجبور کردیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں  کے مطابق، تمام موجودہ اخراجات  کا تقریباً 55 فیصد مارک اپ ادائیگیوں کے لیے مختص کیا گیا تھا؛ تاہم، اس سال کے بجٹ میں مختص کی گئی رقم تقریباً 50 فیصد ہے، جو کہ موجودہ 11 فیصد ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کے مفروضوں پر مبنی ہے، لیکن اس کمی پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ اس بوم-بسْٹ سائیکل  کو آئی ایم ایف نے اپنی 10 اکتوبر 2024 کو اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی دستاویزات میں تسلیم کیا: “وقت کے ساتھ ساتھ اقتصادی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہےجس کا پاکستان کے بوم-بسْٹ معاشی نتائج اور اس کی میکرو اکنامک پالیسیوں کے درمیان گہرا تعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی سرگرمی کو مالی اور مانیٹری محرکات کے ذریعے بڑھانے کی بار بار کوششیں پائیدار ترقی میں تبدیل نہیں ہو سکیں، کیونکہ مقامی طلب پاکستان کی قابلِ برداشت صلاحیت سے بڑھ گئی جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ اور ذخائر کی کمی ہوئی جب کہ مستحکم زر مبادلہ نرخوں کے لیے مضبوط سیاسی ترجیح موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ کا جو نسخہ  فی الحال زیر عمل ہے، وہ مندرجہ ذیل تجزیے پر مبنی ہے: سبسیڈیز  کم لاگت کی فنانسنگ اور دیگر رعایتوں  کی شکل میں دی گئی ہیں جو اگرچہ مختلف صنعتوں میں مختلف تھیں لیکن انہوں نے خالص فنانسنگ اور ٹیکسوں کو ہم منصب معیشتوں  اور کم ترجیح والے شعبوں کے مقابلے میں زیادہ سازگار بنادیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس نظام کو بڑے پیمانے پر غیر شفاف معاونت فراہم کرنے کیلئے استعمال کیا گیا ہے جس میں رئیل اسٹیٹ، زراعت، صنعت اور توانائی جیسے مراعات یافتہ شعبوں کے لیے چھوٹ شامل ہے، نیز خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے ذریعے بھی مدد دی گئی ہے۔ حکومت کی قیمتیں مقرر کرنے میں مداخلت، جس میں زرعی اجناس، ایندھن کی مصنوعات، بجلی اور گیس (سال میں دو بار) شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ ہائی ٹیرف اور نان ٹیرف پروٹیکشن  اقدامات نے کھیل کے میدان کو منتخب گروپوں یا شعبوں کے حق میں جھکا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام حمایت کے باوجود کاروباری شعبہ ترقی کا انجن بننے میں ناکام رہا ہے، اور ان ترغیبات نے بالآخر مسابقت کو کمزور کر دیا اور وسائل کو دائمی طور پر غیر مؤثر  (بشمول ہمیشہ ابتدائی یا انفرنٹ رہنے والی) صنعتوں میں جکڑدیا۔ اس تجزیے میں کوئی خامی نہیں نکالی جا سکتی؛ تاہم آج کی صورتحال یہ ہے کہ عمومی طور پر پیداواری شعبوں اور بالخصوص برآمدی شعبوں کے اِن پُٹ اخراجات  علاقائی اوسط سے زیادہ ہیں (جیسے یوٹیلیٹی کی زیادہ قیمتیں اور قرض لینے کے زیادہ اخراجات)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ متفقہ سخت ابتدائی شرائط کو مرحلہ وار ختم کرے جو اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حکومت اپنی پوزیشن مضبوط نہ کرے اور کچھ اندرونی اصلاحات پر عملدرآمد شروع نہ کرے، خصوصاً موجودہ اخراجات میں کمی جس سے خود بخود بھاری ٹیکسز اور قرضوں پر انحصار کم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، جولائی تا نومبر 2024  منفی 11.277 بلین امریکی ڈالر سے بڑھ کر جولائی تا نومبر 2025 میں منفی 15.469 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا جو کہ حیران کن 37.127 فیصد اضافہ ہے۔</strong></p>
<p>نومبر 2025 میں برآمدات نومبر 2024 کے مقابلے میں 15.35 فیصد کم ہو گئیں جبکہ اسی مدت کے مقابلے میں درآمدات 5.42 فیصد بڑھ گئی ہیں۔</p>
<p>حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی رضامندی کے ساتھ درآمدات پر انتظامی کنٹرول عائد کرنے کی پالیسی اپنا رکھی تھی، لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ جیسے ہی تجارتی توازن مثبت ہو گا وہ ان کنٹرولز کو ہٹا دے گی۔</p>
<p>رواں سال کے اعدادوشمار انتہائی تشویشناک ہیں اور اس رجحان کے تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں جو کہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے آئی ایم ایف سے قرض لینے کے فیصلے کی وجہ بنا ہے، پاکستان فی الحال اپنے چوبیسویں پروگرام میں ہے، اس بات کو اس اخبار کے ساتھ ساتھ آزاد معیشت دانوں نے بھی بارہا اجاگر کیا ہے۔</p>
<p>اس کی بنیادی وجہ یہ ہے: پاکستان کا برآمدی شعبہ خام مال اور نیم تیار شدہ مصنوعات کی درآمد پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور درآمدات کو انتظامی اقدامات کے ذریعے کم کرنے کی کوئی بھی کوشش (ایسی پالیسی جو وقتاً فوقتاً بار بار پیدا ہونے والے بیلنس آف پیمنٹس کے بحران سے نمٹنے کے لیے اختیار کی جاتی رہی ہے جس میں تجارتی خسارہ اور بیرونی قرضے نمایاں ہوتے ہیں) تجارتی توازن اور بیلنس آف پیمنٹس کو تو مضبوط کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ حکومت کو بھی اپنا قرضہ بڑھانے پر مجبور کردیتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں  کے مطابق، تمام موجودہ اخراجات  کا تقریباً 55 فیصد مارک اپ ادائیگیوں کے لیے مختص کیا گیا تھا؛ تاہم، اس سال کے بجٹ میں مختص کی گئی رقم تقریباً 50 فیصد ہے، جو کہ موجودہ 11 فیصد ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کے مفروضوں پر مبنی ہے، لیکن اس کمی پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ اس بوم-بسْٹ سائیکل  کو آئی ایم ایف نے اپنی 10 اکتوبر 2024 کو اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی دستاویزات میں تسلیم کیا: “وقت کے ساتھ ساتھ اقتصادی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہےجس کا پاکستان کے بوم-بسْٹ معاشی نتائج اور اس کی میکرو اکنامک پالیسیوں کے درمیان گہرا تعلق ہے۔</p>
<p>معاشی سرگرمی کو مالی اور مانیٹری محرکات کے ذریعے بڑھانے کی بار بار کوششیں پائیدار ترقی میں تبدیل نہیں ہو سکیں، کیونکہ مقامی طلب پاکستان کی قابلِ برداشت صلاحیت سے بڑھ گئی جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ اور ذخائر کی کمی ہوئی جب کہ مستحکم زر مبادلہ نرخوں کے لیے مضبوط سیاسی ترجیح موجود تھی۔</p>
<p>فنڈ کا جو نسخہ  فی الحال زیر عمل ہے، وہ مندرجہ ذیل تجزیے پر مبنی ہے: سبسیڈیز  کم لاگت کی فنانسنگ اور دیگر رعایتوں  کی شکل میں دی گئی ہیں جو اگرچہ مختلف صنعتوں میں مختلف تھیں لیکن انہوں نے خالص فنانسنگ اور ٹیکسوں کو ہم منصب معیشتوں  اور کم ترجیح والے شعبوں کے مقابلے میں زیادہ سازگار بنادیا تھا۔</p>
<p>ٹیکس نظام کو بڑے پیمانے پر غیر شفاف معاونت فراہم کرنے کیلئے استعمال کیا گیا ہے جس میں رئیل اسٹیٹ، زراعت، صنعت اور توانائی جیسے مراعات یافتہ شعبوں کے لیے چھوٹ شامل ہے، نیز خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے ذریعے بھی مدد دی گئی ہے۔ حکومت کی قیمتیں مقرر کرنے میں مداخلت، جس میں زرعی اجناس، ایندھن کی مصنوعات، بجلی اور گیس (سال میں دو بار) شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ ہائی ٹیرف اور نان ٹیرف پروٹیکشن  اقدامات نے کھیل کے میدان کو منتخب گروپوں یا شعبوں کے حق میں جھکا دیا ہے۔</p>
<p>اس تمام حمایت کے باوجود کاروباری شعبہ ترقی کا انجن بننے میں ناکام رہا ہے، اور ان ترغیبات نے بالآخر مسابقت کو کمزور کر دیا اور وسائل کو دائمی طور پر غیر مؤثر  (بشمول ہمیشہ ابتدائی یا انفرنٹ رہنے والی) صنعتوں میں جکڑدیا۔ اس تجزیے میں کوئی خامی نہیں نکالی جا سکتی؛ تاہم آج کی صورتحال یہ ہے کہ عمومی طور پر پیداواری شعبوں اور بالخصوص برآمدی شعبوں کے اِن پُٹ اخراجات  علاقائی اوسط سے زیادہ ہیں (جیسے یوٹیلیٹی کی زیادہ قیمتیں اور قرض لینے کے زیادہ اخراجات)</p>
<p>لہٰذا حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ متفقہ سخت ابتدائی شرائط کو مرحلہ وار ختم کرے جو اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حکومت اپنی پوزیشن مضبوط نہ کرے اور کچھ اندرونی اصلاحات پر عملدرآمد شروع نہ کرے، خصوصاً موجودہ اخراجات میں کمی جس سے خود بخود بھاری ٹیکسز اور قرضوں پر انحصار کم ہو جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280118</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 13:09:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/04130527211affc.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/04130527211affc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
