<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:17:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:17:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرین کے روس کی تیل تنصیبات پر حملے، خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280102/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یوکرین کی جانب سے بدھ کو  روس کی تیل  تنصیبات پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے ممکنہ سپلائی کی کمی کے خدشات پیدا ہوئے، جبکہ امن مذاکرات میں رکاوٹ کے باعث توقعات محدود رہیں کہ روسی تیل دوبارہ عالمی منڈیوں میں واپس آئے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ کی قیمت 24 سینٹ یا 0.38 فیصد بڑھ کر 62.91 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 29 سینٹ یا 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 59.24 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین نے روس کے مرکزی ٹیمبوو علاقے میں دروزھبا آئل پائپ لائن پر حملہ کیا، جو روسی تیل کو ہنگری اور سلوواکیہ بھیجتی ہے۔ یہ پانچواں حملہ تھا۔ تاہم پائپ لائن کے آپریٹر اور ہنگری کی تیل و گیس کمپنی نے بعد ازاں کہا کہ سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنسلٹنسی کیپلر کی تحقیق کے مطابق، یوکرین کا ڈرون پروگرام اب زیادہ منظم اور مستقل نوعیت اختیار کر گیا ہے، جس کا مقصد ریفائنریز کو نشانہ بنا کر اہم اثاثوں کو مستحکم ہونے سے روکنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستمبر تا نومبر روسی ریفائننگ کی گنجائش تقریباً پانچ ملین بیرل یومیہ پر آ گئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 335,000 بیرل یومیہ کم ہے، اور خاص طور پر پٹرول کی پیداوار متاثر ہوئی جبکہ ڈیزل کی پیداوار بھی کمزور رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امن منصوبے پر پیش رفت کے رک جانے کے تاثر نے بھی قیمتوں کو سہارا دیا، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے کریملن سے امن مذاکرات کے بعد کسی خاص پیش رفت کے بغیر واپس آئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اب صورتحال غیر واضح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینڈانا ہاری، جو تیل کی مارکیٹ کی تجزیہ فراہم کرنے والی کمپنی وانڈا انسائٹس کی بانی ہیں، کے مطابق تیل کی قیمتیں محدود رینج میں رہ سکتی ہیں جب تک یوکرین کے امن مذاکرات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل جنگ کے خاتمے کی توقعات نے قیمتوں پر دباؤ ڈالا تھا، کیونکہ تاجروں نے سوچا تھا کہ معاہدے کے تحت روس پر پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں اور روسی تیل عالمی مارکیٹ میں واپس آ سکتا ہے۔ فِچ ریٹنگز نے بھی 2025 تا 2027 کے لیے تیل کی قیمت کے تخمینے کم کر دیے تاکہ سپلائی میں اضافے اور طلب سے زیادہ پیداوار کو مدنظر رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یوکرین کی جانب سے بدھ کو  روس کی تیل  تنصیبات پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے ممکنہ سپلائی کی کمی کے خدشات پیدا ہوئے، جبکہ امن مذاکرات میں رکاوٹ کے باعث توقعات محدود رہیں کہ روسی تیل دوبارہ عالمی منڈیوں میں واپس آئے گا۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ کی قیمت 24 سینٹ یا 0.38 فیصد بڑھ کر 62.91 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 29 سینٹ یا 0.49 فیصد اضافے کے ساتھ 59.24 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔</p>
<p>یوکرین نے روس کے مرکزی ٹیمبوو علاقے میں دروزھبا آئل پائپ لائن پر حملہ کیا، جو روسی تیل کو ہنگری اور سلوواکیہ بھیجتی ہے۔ یہ پانچواں حملہ تھا۔ تاہم پائپ لائن کے آپریٹر اور ہنگری کی تیل و گیس کمپنی نے بعد ازاں کہا کہ سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے۔</p>
<p>کنسلٹنسی کیپلر کی تحقیق کے مطابق، یوکرین کا ڈرون پروگرام اب زیادہ منظم اور مستقل نوعیت اختیار کر گیا ہے، جس کا مقصد ریفائنریز کو نشانہ بنا کر اہم اثاثوں کو مستحکم ہونے سے روکنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستمبر تا نومبر روسی ریفائننگ کی گنجائش تقریباً پانچ ملین بیرل یومیہ پر آ گئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 335,000 بیرل یومیہ کم ہے، اور خاص طور پر پٹرول کی پیداوار متاثر ہوئی جبکہ ڈیزل کی پیداوار بھی کمزور رہی۔</p>
<p>امن منصوبے پر پیش رفت کے رک جانے کے تاثر نے بھی قیمتوں کو سہارا دیا، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے کریملن سے امن مذاکرات کے بعد کسی خاص پیش رفت کے بغیر واپس آئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اب صورتحال غیر واضح ہے۔</p>
<p>وینڈانا ہاری، جو تیل کی مارکیٹ کی تجزیہ فراہم کرنے والی کمپنی وانڈا انسائٹس کی بانی ہیں، کے مطابق تیل کی قیمتیں محدود رینج میں رہ سکتی ہیں جب تک یوکرین کے امن مذاکرات جاری ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل جنگ کے خاتمے کی توقعات نے قیمتوں پر دباؤ ڈالا تھا، کیونکہ تاجروں نے سوچا تھا کہ معاہدے کے تحت روس پر پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں اور روسی تیل عالمی مارکیٹ میں واپس آ سکتا ہے۔ فِچ ریٹنگز نے بھی 2025 تا 2027 کے لیے تیل کی قیمت کے تخمینے کم کر دیے تاکہ سپلائی میں اضافے اور طلب سے زیادہ پیداوار کو مدنظر رکھا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280102</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 10:49:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/041035495738aa2.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/041035495738aa2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
