<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی کی سخت نگرانی کی جائے، وزیر اعظم کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280098/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو پاکستان کے کسٹمز نظام میں بدعنوانی اور نااہلی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ سرحدی تجارت، دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ پر کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی کی سخت نگرانی یقینی بنائی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کسٹمز اور تجارتی شعبوں میں اصلاحات کے لیے قائم سرکاری سب ورکنگ گروپ کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ پاکستان کے کسٹمز فریم ورک میں برسوں سے موجود مسائل نے صنعتی ترقی کو متاثر کیا ہے اور عالمی منڈیوں میں ملکی مسابقت کو کمزور کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فرسودہ نظام ملک کو کمزور کر رہا ہے اور  نظام کے غیر موثر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جن کے باعث بدعنوانی پنپنے کا موقع ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جدیدیت اور سخت نفاذ نہ کیا گیا تو پاکستان سالانہ اربوں روپے کا نقصان اٹھاتا رہے گا، کیونکہ کسٹمز افسران پر اسمگلروں اور ٹیکس چوری میں ملوث عناصر سے گٹھ جوڑ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب تک مؤثر اصلاحات متعارف نہیں کرائی جاتیں، صنعتیں بھاری ٹیرف اور غیر متوقع سرکاری رکاوٹوں کا سامنا کرتی رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے زور دیا کہ اگر ہمیں صنعتی پیداوار کو بحال کرنا ہے اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے تو کسٹمز نظام میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔ ہم اس ناقص اور فرسودہ نظام کے باعث ہونے والے اربوں کے نقصان کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتے جو چند افراد کو فائدہ پہنچاتا ہے اور پوری معیشت کو نقصان دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف کے یہ ریمارکس سب ورکنگ گروپ کی مایوس کن رپورٹ کے بعد سامنے آئے، جس میں کسٹمز نظام کی ناکامیاں اجاگر کی گئی تھیں، جو ریاستی محصولات کو متاثر کر رہی ہیں اور مقامی کاروباروں پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر ہم صنعتی پیداوار بڑھانے اور عالمی منڈیوں میں مسابقت چاہتے ہیں تو ان ناکامیوں کو نظر انداز کرنا مزید ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے غیر مؤثر استعمال کی بھی نشاندہی کی اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تحقیق، تربیت اور استعداد کاری جیسے اہم شعبوں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق ان کمزوریوں کو دور کرنا پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈیٹا کی بنیاد پر اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسٹمز اور تجارت سے متعلق سفارشات مضبوط شواہد پر مبنی ہونی چاہییں، نہ کہ اندازوں یا پرانے طریقوں پر۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فیصلہ کن اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور مقامی صنعتوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پیش کی گئی سب ورکنگ گروپ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پائیدار معاشی ترقی خصوصاً برآمدات پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے  نہ صرف کسٹمز اور ٹیکسیشن اصلاحات کی متقاضی ہے بلکہ بنیادی ڈھانچے کی جامع بہتری اور سرکاری سرمایہ کاری میں اضافے کی بھی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے نئی منظور شدہ قومی ٹیرف پالیسی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا، جو ملکی صنعتی پیداوار میں اضافے اور عالمی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ سمیت کاروباری و صنعتی شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو پاکستان کے کسٹمز نظام میں بدعنوانی اور نااہلی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ سرحدی تجارت، دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ پر کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی کی سخت نگرانی یقینی بنائی جائے۔</strong></p>
<p>وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کسٹمز اور تجارتی شعبوں میں اصلاحات کے لیے قائم سرکاری سب ورکنگ گروپ کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ پاکستان کے کسٹمز فریم ورک میں برسوں سے موجود مسائل نے صنعتی ترقی کو متاثر کیا ہے اور عالمی منڈیوں میں ملکی مسابقت کو کمزور کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فرسودہ نظام ملک کو کمزور کر رہا ہے اور  نظام کے غیر موثر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جن کے باعث بدعنوانی پنپنے کا موقع ملا ہے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جدیدیت اور سخت نفاذ نہ کیا گیا تو پاکستان سالانہ اربوں روپے کا نقصان اٹھاتا رہے گا، کیونکہ کسٹمز افسران پر اسمگلروں اور ٹیکس چوری میں ملوث عناصر سے گٹھ جوڑ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب تک مؤثر اصلاحات متعارف نہیں کرائی جاتیں، صنعتیں بھاری ٹیرف اور غیر متوقع سرکاری رکاوٹوں کا سامنا کرتی رہیں گی۔</p>
<p>وزیر اعظم نے زور دیا کہ اگر ہمیں صنعتی پیداوار کو بحال کرنا ہے اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے تو کسٹمز نظام میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔ ہم اس ناقص اور فرسودہ نظام کے باعث ہونے والے اربوں کے نقصان کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتے جو چند افراد کو فائدہ پہنچاتا ہے اور پوری معیشت کو نقصان دیتا ہے۔</p>
<p>شہباز شریف کے یہ ریمارکس سب ورکنگ گروپ کی مایوس کن رپورٹ کے بعد سامنے آئے، جس میں کسٹمز نظام کی ناکامیاں اجاگر کی گئی تھیں، جو ریاستی محصولات کو متاثر کر رہی ہیں اور مقامی کاروباروں پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر ہم صنعتی پیداوار بڑھانے اور عالمی منڈیوں میں مسابقت چاہتے ہیں تو ان ناکامیوں کو نظر انداز کرنا مزید ممکن نہیں۔</p>
<p>وزیر اعظم نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے غیر مؤثر استعمال کی بھی نشاندہی کی اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تحقیق، تربیت اور استعداد کاری جیسے اہم شعبوں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق ان کمزوریوں کو دور کرنا پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے ڈیٹا کی بنیاد پر اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسٹمز اور تجارت سے متعلق سفارشات مضبوط شواہد پر مبنی ہونی چاہییں، نہ کہ اندازوں یا پرانے طریقوں پر۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فیصلہ کن اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور مقامی صنعتوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔</p>
<p>اجلاس میں پیش کی گئی سب ورکنگ گروپ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پائیدار معاشی ترقی خصوصاً برآمدات پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے  نہ صرف کسٹمز اور ٹیکسیشن اصلاحات کی متقاضی ہے بلکہ بنیادی ڈھانچے کی جامع بہتری اور سرکاری سرمایہ کاری میں اضافے کی بھی ضرورت ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم نے نئی منظور شدہ قومی ٹیرف پالیسی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا، جو ملکی صنعتی پیداوار میں اضافے اور عالمی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔</p>
<p>اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ سمیت کاروباری و صنعتی شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280098</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 09:31:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/0409284192ed9b6.webp" type="image/webp" medium="image" height="550" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/0409284192ed9b6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
