<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کی انسداد بدعنوانی سفارشات، عملدرآمد کا پلان 31 دسمبر تک تیار ہوگا، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280096/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو کہا کہ وفاقی حکومت مختلف محکموں میں بدعنوانی کے خاتمے اور گورننس میں بہتری کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے پیش کی گئی 15 ترجیحی سفارشات پر عملدرآمد کا ایکشن پلان 31 دسمبر تک حتمی شکل دے دے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ سرکاری محکموں میں بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی سفارشات پر دو سے تین سال کے دوران عملدرآمد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی رپورٹ کو حکومت اور پارلیمان دونوں کے لیے ایک تنقیدی دستاویز قرار دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے رپورٹ میں شامل 15 بڑی سفارشات پڑھی، اور کہا کہ ان میں سے بیشتر پر عمل ہو چکا ہے یا یہ عمل جاری ہے۔ یہ سفارشات گورننس، ٹیکسیشن، بدعنوانی، ریگولیشن اور قانون کی حکمرانی سمیت مختلف شعبوں سے متعلق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سات اہم شعبے ہیں جن پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اضافی گرانٹس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور اب صرف تکنیکی گرانٹس (رقوم کی ازسرِنو تقسیم) بجٹ ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے بتایا کہ سول سروسز بل بھی پیش کر دیا گیا ہے اور اگلے سال سے سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشوارے سرکاری ویب سائٹ پر پبلک کر دیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا ارادہ رپورٹ میں تاخیر کرنے کا ہوتا تو ہم اس کی مالی معاونت کیوں کرتے؟ طریقۂ کار یہ ہے کہ رپورٹ کا مسودہ 30 سرکاری محکموں کے ساتھ ان کی آرا کے لیے شیئر کیا گیا، اور ان محکموں کی تجاویز کے بعد حتمی رپورٹ تیار کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کے مطابق حکومت دسمبر کے آخر تک آئی ایم ایف کی ٹیکنیکل اسسٹنس رپورٹ (گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ 2025) میں دی گئی اصلاحات اور اقدامات پر عملدرآمد کے لیے ایکشن پلان بنا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی تکنیکی معاونت پر مبنی رپورٹ تیار کرنا حکومت کی درخواست تھی، اور دنیا کے تقریباً 20 ممالک اس طرح کے جائزوں سے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ، امریکہ اور دیگر او ای سی ڈی ممالک نے بھی رضاکارانہ طور پر ایسی رپورٹس تیار کروائی ہیں۔ آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ پاکستان میں جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا حصہ ہے اور آئی ایم ایف نے مختلف شعبوں میں پاکستان کی پیش رفت کا اعتراف کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کی کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر کے اس سوال پر کہ جی سی ڈی رپورٹ چند ماہ تاخیر کا شکار کیوں ہوئی، وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ رپورٹ کے مختلف پہلوؤں پر 30 محکموں کی رائے لینا ضروری تھا، جس کے باعث کچھ وقت لگا۔ تاہم آخرکار حکومت نے رپورٹ کی اشاعت کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ نے کمیٹی کو اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ رپورٹ وزیر اعظم کی منظوری کے بعد وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر شائع کر دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں 423 پیراگراف اور 92 سفارشات شامل ہیں (15 ترجیحی اور 77 رہنمائی کی سطح کی)۔ رپورٹ میں سات شعبوں پر فوکس کیا گیا ہے، جن میں بدعنوانی کی نوعیت و شدت، مالیاتی گورننس (محصولات کا حصول، ٹیکس انتظامیہ، سرکاری مالیات کے نظم و نسق)، مارکیٹ ریگولیشن، مالی شعبے کی نگرانی، منی لانڈرنگ کی روک تھام، دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات، قانون کی حکمرانی اور انسداد بدعنوانی کی پالیسیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پندرہ بڑی سفارشات میں سرکاری اداروں کی ترجیحات کا تعین، 12 ماہ کے اندر ای گورنمنٹ پروکیورمنٹ سسٹم کا لازمی نفاذ، ایس آئی ایف سی کے ذریعے کی جانے والی سرمایہ کاری کی سالانہ رپورٹس کی اشاعت، ایس ای سی پی کے تحت وفاقی کاروباری ضابطوں کا ڈیٹا بیس قائم کرنا، غیر ضروری قوانین کا خاتمہ، نئے قواعد کے لیے جائزہ نظام، اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں کے گوشوارے شائع کرنا اور رسک بیسڈ ویریفکیشن کا نظام متعارف کرانا شامل ہیں۔ سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشوارے اگلے سال اپ لوڈ کر دیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ یہ رپورٹ ہم نے خود تیار کروائی اور ہم نے ہی اس عمل کو آگے بڑھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ تقریباً 100 اجلاس منعقد ہوئے جن میں 30 سے زیادہ اداروں نے شرکت کی۔ رپورٹ سات موضوعات پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تکنیکی رپورٹ ہے، جس کا مقصد ادارہ جاتی اصلاحات کی طرف پیش قدمی ہے—جیسے ہم اس وقت ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل کر رہے ہیں۔ رپورٹ ان خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے جو دہائیوں سے نظام میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف رپورٹ میں گزشتہ 18 ماہ کی تمام پیش رفت درج ہے اور آئی ایم ایف نے مختلف شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈھانچہ جاتی کمزوریوں پر مبنی ایکشن پلان سب کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قائمہ کمیٹی نے سیکشن 134 اے میں متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر سی) کے کیسز اور اس کے چیئرمین و اراکین کی تقرری سے متعلق ترامیم پر بھی غور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو کہا کہ وفاقی حکومت مختلف محکموں میں بدعنوانی کے خاتمے اور گورننس میں بہتری کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے پیش کی گئی 15 ترجیحی سفارشات پر عملدرآمد کا ایکشن پلان 31 دسمبر تک حتمی شکل دے دے گی۔</strong></p>
<p>وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ سرکاری محکموں میں بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی سفارشات پر دو سے تین سال کے دوران عملدرآمد کیا جائے گا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی رپورٹ کو حکومت اور پارلیمان دونوں کے لیے ایک تنقیدی دستاویز قرار دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے رپورٹ میں شامل 15 بڑی سفارشات پڑھی، اور کہا کہ ان میں سے بیشتر پر عمل ہو چکا ہے یا یہ عمل جاری ہے۔ یہ سفارشات گورننس، ٹیکسیشن، بدعنوانی، ریگولیشن اور قانون کی حکمرانی سمیت مختلف شعبوں سے متعلق ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سات اہم شعبے ہیں جن پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اضافی گرانٹس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور اب صرف تکنیکی گرانٹس (رقوم کی ازسرِنو تقسیم) بجٹ ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ دی جاتی ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے بتایا کہ سول سروسز بل بھی پیش کر دیا گیا ہے اور اگلے سال سے سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشوارے سرکاری ویب سائٹ پر پبلک کر دیے جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا ارادہ رپورٹ میں تاخیر کرنے کا ہوتا تو ہم اس کی مالی معاونت کیوں کرتے؟ طریقۂ کار یہ ہے کہ رپورٹ کا مسودہ 30 سرکاری محکموں کے ساتھ ان کی آرا کے لیے شیئر کیا گیا، اور ان محکموں کی تجاویز کے بعد حتمی رپورٹ تیار کی گئی۔</p>
<p>وزیر خزانہ کے مطابق حکومت دسمبر کے آخر تک آئی ایم ایف کی ٹیکنیکل اسسٹنس رپورٹ (گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ 2025) میں دی گئی اصلاحات اور اقدامات پر عملدرآمد کے لیے ایکشن پلان بنا رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی تکنیکی معاونت پر مبنی رپورٹ تیار کرنا حکومت کی درخواست تھی، اور دنیا کے تقریباً 20 ممالک اس طرح کے جائزوں سے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ، امریکہ اور دیگر او ای سی ڈی ممالک نے بھی رضاکارانہ طور پر ایسی رپورٹس تیار کروائی ہیں۔ آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ پاکستان میں جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا حصہ ہے اور آئی ایم ایف نے مختلف شعبوں میں پاکستان کی پیش رفت کا اعتراف کیا ہے۔</p>
<p>قومی اسمبلی کی کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر کے اس سوال پر کہ جی سی ڈی رپورٹ چند ماہ تاخیر کا شکار کیوں ہوئی، وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ رپورٹ کے مختلف پہلوؤں پر 30 محکموں کی رائے لینا ضروری تھا، جس کے باعث کچھ وقت لگا۔ تاہم آخرکار حکومت نے رپورٹ کی اشاعت کی منظوری دے دی۔</p>
<p>وزارت خزانہ نے کمیٹی کو اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ رپورٹ وزیر اعظم کی منظوری کے بعد وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر شائع کر دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں 423 پیراگراف اور 92 سفارشات شامل ہیں (15 ترجیحی اور 77 رہنمائی کی سطح کی)۔ رپورٹ میں سات شعبوں پر فوکس کیا گیا ہے، جن میں بدعنوانی کی نوعیت و شدت، مالیاتی گورننس (محصولات کا حصول، ٹیکس انتظامیہ، سرکاری مالیات کے نظم و نسق)، مارکیٹ ریگولیشن، مالی شعبے کی نگرانی، منی لانڈرنگ کی روک تھام، دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات، قانون کی حکمرانی اور انسداد بدعنوانی کی پالیسیاں شامل ہیں۔</p>
<p>پندرہ بڑی سفارشات میں سرکاری اداروں کی ترجیحات کا تعین، 12 ماہ کے اندر ای گورنمنٹ پروکیورمنٹ سسٹم کا لازمی نفاذ، ایس آئی ایف سی کے ذریعے کی جانے والی سرمایہ کاری کی سالانہ رپورٹس کی اشاعت، ایس ای سی پی کے تحت وفاقی کاروباری ضابطوں کا ڈیٹا بیس قائم کرنا، غیر ضروری قوانین کا خاتمہ، نئے قواعد کے لیے جائزہ نظام، اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں کے گوشوارے شائع کرنا اور رسک بیسڈ ویریفکیشن کا نظام متعارف کرانا شامل ہیں۔ سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشوارے اگلے سال اپ لوڈ کر دیے جائیں گے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ یہ رپورٹ ہم نے خود تیار کروائی اور ہم نے ہی اس عمل کو آگے بڑھایا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ تقریباً 100 اجلاس منعقد ہوئے جن میں 30 سے زیادہ اداروں نے شرکت کی۔ رپورٹ سات موضوعات پر محیط ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تکنیکی رپورٹ ہے، جس کا مقصد ادارہ جاتی اصلاحات کی طرف پیش قدمی ہے—جیسے ہم اس وقت ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل کر رہے ہیں۔ رپورٹ ان خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے جو دہائیوں سے نظام میں موجود ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف رپورٹ میں گزشتہ 18 ماہ کی تمام پیش رفت درج ہے اور آئی ایم ایف نے مختلف شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈھانچہ جاتی کمزوریوں پر مبنی ایکشن پلان سب کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔</p>
<p>قائمہ کمیٹی نے سیکشن 134 اے میں متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر سی) کے کیسز اور اس کے چیئرمین و اراکین کی تقرری سے متعلق ترامیم پر بھی غور کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280096</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Dec 2025 09:08:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/040905230d217e0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/040905230d217e0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
