<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کنزیومر انفلیشن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280083/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) نے نومبر کیلئے تخمینی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) جاری کردیا جو سالانہ اکتوبر کے 6.2 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 6.1 فیصد پر آگیا ہے۔ اکتوبر میں 6.2 فیصد تک ہونے والے اس اضافے کی وجہ جون 2025 کے سیلاب کو قرار دیا گیا حالانکہ پی بی ایس کے مطابق جون میں سی پی آئی کا تخمینہ 3.2 فیصد، جولائی میں 4.1 فیصد اور اگست میں 3 فیصد لگایا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر تک  سی پی آئی بڑھ کر 5.6 فیصد ہو گئی تھی، ایک ایسا ٹائم لائن جو ممکنہ طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے ڈیٹا کے ذرائع میں موجود اہم خامیوں کو دور کرنے کے لیے دی جانے والی تکنیکی معاونت کے ساتھ موافق تھا جو کہ مجموعی قومی پیداوار  کے تقریباً ایک تہائی حصے کا حساب کرتے ہیں اور جس میں “ایک نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس کی تشکیل بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی جانب سے اکتوبر 2024 میں 7 ارب ڈالرز کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کی منظوری کے بعد پاکستان سے متعلق تمام دستاویزات اور پریس ریلیز میں زور دیا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مناسب حد تک سخت اور ڈیٹا پر مبنی مانیٹری پالیسی نافذ کرنی چاہیے تاکہ افراطِ زر کو مرکزی بینک کے ہدف 5 سے 7 فیصد کے دائرے میں برقرار رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ڈسکاؤنٹ ریٹ جون 2025 سے 11 فیصد پر برقرار ہے، جو جولائی تا نومبر 2025 کے اوسط 5.01 فیصد سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ عام طور پر یہ روایت رہی ہے کہ ریٹ کو سی پی آئی کے 2 سے 3 فیصد کے درمیان اتار چڑھاؤ کی اجازت دی جاتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اسٹیٹ بینک ڈسکاؤنٹ ریٹ طے کرنے کے لیے سی پی آئی کو معیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جیسا کہ 2019 کے آئی ایم ایف پروگرام کے دوران پالیسی فیصلہ کیا گیا تھا اور اس وقت کے گورنر باقر کی منظوری سے نافذ ہوا تھا، جو اس سے قبل آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ ریپریزنٹیٹو مصر کے طور پر تعینات تھے؛ یا بینک کور انفلیشن (غیر خوراک اور غیر توانائی) کو معیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، کیونکہ 2019 سے قبل کے سالوں میں یہ ترجیحی اشاریہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 میں ویٹڈ ٹرمڈ مین رورل کور انفلیشن سال بہ سال بنیاد پر 6.4 فیصد بڑھ گئی، جو اکتوبر 2025 میں 6.8 فیصد اور نومبر 2024 میں 7.5 فیصد تھی۔ اگر کور انفلیشن ڈسکاؤنٹ ریٹ کا بنیادی تعین کرنے والا عنصر ہوتی تو مانیٹری پالیسی کمیٹی 27 اکتوبر 2025 کو اپنے آخری اجلاس میں ریٹ کو 50 سے 100 بیسس پوائنٹس تک کم کر سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مشترکہ طور پر ”پاکستان میں سیلاب کے واقعات کا ایک جامع مطالعہ 1950-2025“ کے عنوان سے ایک رپورٹ تصنیف کی اور درج ذیل اقدامات تجویز کیے:(i) موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانا، ایسی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جو سیلاب کا مقابلہ کر سکے اور ابتدائی وارننگ سسٹم کے ذریعے آگاہی فراہم کرے۔(ii) شہری سیلاب کا حل پائیدار انفراسٹرکچر اور اسمارٹ پلاننگ کے ذریعے، خاص طور پر کراچی، لاہور اور راولپنڈی جیسے شہروں میں۔(iii) ڈرینیج انفرااسٹرکچر کی جدید کاری۔(iv) انڈس بیسن میں مؤثر سیلاب مینجمنٹ کے لیے سرحد پار پانی کے تعاون کو بڑھانا۔تاہم، ان چاروں سفارشات پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا اور بھارت کے ساتھ تعلقات بھی تعطل کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی  جس کی صدارت گورنر اسٹیٹ بینک کر رہے ہیں، یہ واضح کرے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلی کے فیصلے کا تعین سی پی آءٰ کے ذریعے ہوتا ہے یا کور انفلیشن کے ذریعے، یا یہ فیصلہ اس مدت کے دوران فنڈ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جب تک ملک فنڈ پروگرام پر ہے (جو قرض کی منظوری اکتوبر 2024 کے بعد انتیس ماہ تک جاری رہے گا)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) نے نومبر کیلئے تخمینی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) جاری کردیا جو سالانہ اکتوبر کے 6.2 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 6.1 فیصد پر آگیا ہے۔ اکتوبر میں 6.2 فیصد تک ہونے والے اس اضافے کی وجہ جون 2025 کے سیلاب کو قرار دیا گیا حالانکہ پی بی ایس کے مطابق جون میں سی پی آئی کا تخمینہ 3.2 فیصد، جولائی میں 4.1 فیصد اور اگست میں 3 فیصد لگایا گیا تھا۔</strong></p>
<p>ستمبر تک  سی پی آئی بڑھ کر 5.6 فیصد ہو گئی تھی، ایک ایسا ٹائم لائن جو ممکنہ طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے ڈیٹا کے ذرائع میں موجود اہم خامیوں کو دور کرنے کے لیے دی جانے والی تکنیکی معاونت کے ساتھ موافق تھا جو کہ مجموعی قومی پیداوار  کے تقریباً ایک تہائی حصے کا حساب کرتے ہیں اور جس میں “ایک نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس کی تشکیل بھی شامل ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی جانب سے اکتوبر 2024 میں 7 ارب ڈالرز کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کی منظوری کے بعد پاکستان سے متعلق تمام دستاویزات اور پریس ریلیز میں زور دیا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مناسب حد تک سخت اور ڈیٹا پر مبنی مانیٹری پالیسی نافذ کرنی چاہیے تاکہ افراطِ زر کو مرکزی بینک کے ہدف 5 سے 7 فیصد کے دائرے میں برقرار رکھا جا سکے۔</p>
<p>تاہم ڈسکاؤنٹ ریٹ جون 2025 سے 11 فیصد پر برقرار ہے، جو جولائی تا نومبر 2025 کے اوسط 5.01 فیصد سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ عام طور پر یہ روایت رہی ہے کہ ریٹ کو سی پی آئی کے 2 سے 3 فیصد کے درمیان اتار چڑھاؤ کی اجازت دی جاتی تھی۔</p>
<p>تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اسٹیٹ بینک ڈسکاؤنٹ ریٹ طے کرنے کے لیے سی پی آئی کو معیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جیسا کہ 2019 کے آئی ایم ایف پروگرام کے دوران پالیسی فیصلہ کیا گیا تھا اور اس وقت کے گورنر باقر کی منظوری سے نافذ ہوا تھا، جو اس سے قبل آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ ریپریزنٹیٹو مصر کے طور پر تعینات تھے؛ یا بینک کور انفلیشن (غیر خوراک اور غیر توانائی) کو معیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، کیونکہ 2019 سے قبل کے سالوں میں یہ ترجیحی اشاریہ تھا۔</p>
<p>نومبر 2025 میں ویٹڈ ٹرمڈ مین رورل کور انفلیشن سال بہ سال بنیاد پر 6.4 فیصد بڑھ گئی، جو اکتوبر 2025 میں 6.8 فیصد اور نومبر 2024 میں 7.5 فیصد تھی۔ اگر کور انفلیشن ڈسکاؤنٹ ریٹ کا بنیادی تعین کرنے والا عنصر ہوتی تو مانیٹری پالیسی کمیٹی 27 اکتوبر 2025 کو اپنے آخری اجلاس میں ریٹ کو 50 سے 100 بیسس پوائنٹس تک کم کر سکتی تھی۔</p>
<p>نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مشترکہ طور پر ”پاکستان میں سیلاب کے واقعات کا ایک جامع مطالعہ 1950-2025“ کے عنوان سے ایک رپورٹ تصنیف کی اور درج ذیل اقدامات تجویز کیے:(i) موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانا، ایسی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جو سیلاب کا مقابلہ کر سکے اور ابتدائی وارننگ سسٹم کے ذریعے آگاہی فراہم کرے۔(ii) شہری سیلاب کا حل پائیدار انفراسٹرکچر اور اسمارٹ پلاننگ کے ذریعے، خاص طور پر کراچی، لاہور اور راولپنڈی جیسے شہروں میں۔(iii) ڈرینیج انفرااسٹرکچر کی جدید کاری۔(iv) انڈس بیسن میں مؤثر سیلاب مینجمنٹ کے لیے سرحد پار پانی کے تعاون کو بڑھانا۔تاہم، ان چاروں سفارشات پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا اور بھارت کے ساتھ تعلقات بھی تعطل کا شکار ہیں۔</p>
<p>آخر میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی  جس کی صدارت گورنر اسٹیٹ بینک کر رہے ہیں، یہ واضح کرے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلی کے فیصلے کا تعین سی پی آءٰ کے ذریعے ہوتا ہے یا کور انفلیشن کے ذریعے، یا یہ فیصلہ اس مدت کے دوران فنڈ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جب تک ملک فنڈ پروگرام پر ہے (جو قرض کی منظوری اکتوبر 2024 کے بعد انتیس ماہ تک جاری رہے گا)۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280083</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 14:36:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/03141840582e02e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/03141840582e02e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
