<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ نے 19 غیر یورپی ممالک کے تارکین وطن کی امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280075/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے منگل کو اعلان کیا کہ 19 غیر یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی جانب سے دائر کی گئی تمام امیگریشن درخواستوں، بشمول گرین کارڈ اور امریکی شہریت کے تقاضوں، کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے خدشات بتائے گئے ہیں۔ یہ پابندی ان ممالک کے شہریوں پر بھی لاگو ہوتی ہے جو جون میں جزوی سفری پابندی کی فہرست میں شامل تھے، جس سے امیگریشن کے حوالے سے پہلے سے موجود سختیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ ان ممالک میں افغانستان اور صومالیہ بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی پالیسی سے متعلق سرکاری میمورنڈم میں گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی نیشنل گارڈ کے ارکان پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں ایک افغان باشندے کو مشتبہ ملزم کے طور پر گرفتار کیا گیا۔ حملے میں ایک گارڈ ہلاک ہوا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں صومالیوں کے خلاف بھی سخت بیان بازی کی ہے، انہیں کچرا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم انہیں اپنے ملک میں نہیں چاہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ نے امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے بڑے امریکی شہروں میں وفاقی ایجنٹ بھیجے اور امریکہ۔میکسیکو سرحد پر پناہ کے متلاشی افراد کو واپس کیا۔ انتظامیہ کی توجہ اب قانونی امیگریشن پر بھی بڑھتی دکھائی دیتی ہے، خاص طور پر نیشنل گارڈ حملے کے بعد سکیورٹی کے نام پر سخت اقدامات کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے، جس کے ذریعے سابق صدر جو بائیڈن کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میمورنڈم کے مطابق ان 19 ممالک میں افغانستان، برما، چاڈ، جمہوریہ کانگو، ایکویٹوریل گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں، جن پر جون میں سخت ترین پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ جبکہ برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیئرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا پر جزوی پابندیاں تھیں۔ نئی پالیسی کے تحت ان ممالک سے آنے والے تمام زیر التوا کیسز روک دیے گئے ہیں اور ہدایت کی گئی ہے کہ ان درخواستوں کی دوبارہ جامع جانچ کی جائے، جس میں انٹرویو یا دوبارہ انٹرویو بھی شامل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکن امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن کے مطابق ان پابندیوں کے بعد شہریت کے حلف برداری پروگرام، نیچرلائزیشن انٹرویوز اور دیگر امیگریشن ملاقاتوں کی منسوخی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے منگل کو اعلان کیا کہ 19 غیر یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی جانب سے دائر کی گئی تمام امیگریشن درخواستوں، بشمول گرین کارڈ اور امریکی شہریت کے تقاضوں، کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے خدشات بتائے گئے ہیں۔ یہ پابندی ان ممالک کے شہریوں پر بھی لاگو ہوتی ہے جو جون میں جزوی سفری پابندی کی فہرست میں شامل تھے، جس سے امیگریشن کے حوالے سے پہلے سے موجود سختیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ ان ممالک میں افغانستان اور صومالیہ بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>نئی پالیسی سے متعلق سرکاری میمورنڈم میں گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی نیشنل گارڈ کے ارکان پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں ایک افغان باشندے کو مشتبہ ملزم کے طور پر گرفتار کیا گیا۔ حملے میں ایک گارڈ ہلاک ہوا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں صومالیوں کے خلاف بھی سخت بیان بازی کی ہے، انہیں کچرا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم انہیں اپنے ملک میں نہیں چاہتے۔</p>
<p>جنوری میں دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ نے امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے بڑے امریکی شہروں میں وفاقی ایجنٹ بھیجے اور امریکہ۔میکسیکو سرحد پر پناہ کے متلاشی افراد کو واپس کیا۔ انتظامیہ کی توجہ اب قانونی امیگریشن پر بھی بڑھتی دکھائی دیتی ہے، خاص طور پر نیشنل گارڈ حملے کے بعد سکیورٹی کے نام پر سخت اقدامات کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے، جس کے ذریعے سابق صدر جو بائیڈن کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔</p>
<p>میمورنڈم کے مطابق ان 19 ممالک میں افغانستان، برما، چاڈ، جمہوریہ کانگو، ایکویٹوریل گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں، جن پر جون میں سخت ترین پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ جبکہ برونڈی، کیوبا، لاؤس، سیئرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا پر جزوی پابندیاں تھیں۔ نئی پالیسی کے تحت ان ممالک سے آنے والے تمام زیر التوا کیسز روک دیے گئے ہیں اور ہدایت کی گئی ہے کہ ان درخواستوں کی دوبارہ جامع جانچ کی جائے، جس میں انٹرویو یا دوبارہ انٹرویو بھی شامل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>امریکن امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن کے مطابق ان پابندیوں کے بعد شہریت کے حلف برداری پروگرام، نیچرلائزیشن انٹرویوز اور دیگر امیگریشن ملاقاتوں کی منسوخی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280075</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 13:58:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/031355347218484.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/031355347218484.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
