<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس نے تقریباً 1,500 پوائنٹس گنوادیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280059/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان غالب رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے تقریباً 1,500 پوائنٹس گنوا دیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 166,115.17 پوائنٹس تک گرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,496.93 پوائنٹس یا 0.89 فیصد کی کمی سے 166,145.34 پوائنٹس بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی بعد از مارکیٹ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر ان اسٹاکس نے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس سے تقریباً 858 پوائنٹس کم کردیے۔ مارکیٹ کا رجحان دباؤ کا شکار رہا، جبکہ متعدد بڑے اسٹاکس ایف ایف سی، ایم ای بی ایل، یو بی ایل، حبکو اور اینگرو  انڈیکس میں نمایاں منفی کردار ادا کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری شعبے سے متعلق، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نےکے الیکٹرک کو ہدایت کی ہے کہ وہ مالی سال 2024 اور 2025 کے زیر التواء سالانہ فنانشل اسٹیٹمنت جمع کروائے اور 31 مارچ 2026 تک سالانہ عمومی اجلاس منعقد کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو پی ایس ایکس میں مجموعی طور پر منفی رجحان دیکھا گیا، جہاں بڑے انڈیکس، شعبہ جاتی بینچ مارکس اور فیوچرز کنٹریکٹس مسلسل منافع کے حصول (پرافٹ ٹیکنگ) کے باعث دباؤ میں رہے۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 419.92 پوائنٹس کی کمی سے 167,642.28 پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مارکیٹس میں بدھ کو ایشیائی حصص قدرے مستحکم دکھائی دیے، جس میں وال اسٹریٹ کی رات گئے ہونے والی ریکوری نے مدد فراہم کی، کیونکہ عالمی بانڈ مارکیٹس اور کرپٹو کرنسیز میں آنے والی مختصر فروخت (سیل آف) کی شدت کم ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بِٹ کوائن نے دوبارہ 90 ہزار ڈالر کی سطح حاصل کرلی جبکہ نسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچر 0.1 فیصد بڑھ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک (جاپان کے علاوہ) کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.8 فیصد بڑھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز عالمی مارکیٹوں میں وہ ہلچل کم ہوگئی جو ہفتے کے آغاز میں جاپان میں ممکنہ شرح سود اضافے کی توقعات کے باعث پیدا ہوئی تھی۔ ان خدشات نے عالمی بانڈز میں بھاری فروخت کو جنم دیا تھا، جس کے نتیجے میں کرپٹوکرنسیز میں گراوٹ مزید بڑھ گئی اور اسٹاک مارکیٹس رسکی اثاثوں سے انخلاء کے دباؤ کا شکار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران بڑے معاشی محرکات کی عدم موجودگی میں توجہ دوبارہ متوقع فیڈرل ریزرو کی آئندہ ہفتے ممکنہ شرح میں کمی کی طرف منتقل ہو گئی، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری پیدا کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی طور پر دسمبر اسٹاک مارکیٹس کے لیے ایک مثبت مہینہ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے فیڈ کی مزید نرم (dovish) پالیسی کی توقعات کو بھی قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے، خاص طور پر اس خیال کے ساتھ کہ وائٹ ہاؤس کے معاشی مشیر کیون ہیسٹ   جنہیں ممکنہ طور پر جیروم پاول کی جگہ نیا چیئر سمجھا جا رہا ہے اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد سود کی شرحوں میں مزید کمی کی حمایت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے نے بدھ کو  امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.46 پر بند ہوئی، جو کہ ایک پیسے کی بہتری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک مارکیٹ میں آل شیئر انڈیکس کا کاروباری حجم 775.54 ملین سے کم ہو کر 593.08 ملین رہ گیا، تاہم ٹریڈ کی مالیت بڑھ کر 44.42 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سیشن کے 37.49 ارب روپے سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کال ٹیلی کام 78.64 ملین شیئرز کی لین دین کے ساتھ حجم میں سرِفہرست رہا، اس کے بعد حب پاور کمپنی کے 46.64 ملین اور ٹی آر جی پاک لمیٹڈ کے 33.19 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو مجموعی طور پر 473 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 136 کے نرخ بڑھے، 291 میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 46 کے نرخ بغیر تبدیلی کے بند ہوئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/031744575fe2074.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/031744575fe2074.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان غالب رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے تقریباً 1,500 پوائنٹس گنوا دیے۔</strong></p>
<p>ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 166,115.17 پوائنٹس تک گرگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,496.93 پوائنٹس یا 0.89 فیصد کی کمی سے 166,145.34 پوائنٹس بند ہوا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی بعد از مارکیٹ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر ان اسٹاکس نے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس سے تقریباً 858 پوائنٹس کم کردیے۔ مارکیٹ کا رجحان دباؤ کا شکار رہا، جبکہ متعدد بڑے اسٹاکس ایف ایف سی، ایم ای بی ایل، یو بی ایل، حبکو اور اینگرو  انڈیکس میں نمایاں منفی کردار ادا کرتے رہے۔</p>
<p>کاروباری شعبے سے متعلق، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نےکے الیکٹرک کو ہدایت کی ہے کہ وہ مالی سال 2024 اور 2025 کے زیر التواء سالانہ فنانشل اسٹیٹمنت جمع کروائے اور 31 مارچ 2026 تک سالانہ عمومی اجلاس منعقد کرے۔</p>
<p>منگل کو پی ایس ایکس میں مجموعی طور پر منفی رجحان دیکھا گیا، جہاں بڑے انڈیکس، شعبہ جاتی بینچ مارکس اور فیوچرز کنٹریکٹس مسلسل منافع کے حصول (پرافٹ ٹیکنگ) کے باعث دباؤ میں رہے۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 419.92 پوائنٹس کی کمی سے 167,642.28 پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی مارکیٹس میں بدھ کو ایشیائی حصص قدرے مستحکم دکھائی دیے، جس میں وال اسٹریٹ کی رات گئے ہونے والی ریکوری نے مدد فراہم کی، کیونکہ عالمی بانڈ مارکیٹس اور کرپٹو کرنسیز میں آنے والی مختصر فروخت (سیل آف) کی شدت کم ہوگئی تھی۔</p>
<p>بِٹ کوائن نے دوبارہ 90 ہزار ڈالر کی سطح حاصل کرلی جبکہ نسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچر 0.1 فیصد بڑھ گئے۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک (جاپان کے علاوہ) کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.8 فیصد بڑھا۔</p>
<p>بدھ کے روز عالمی مارکیٹوں میں وہ ہلچل کم ہوگئی جو ہفتے کے آغاز میں جاپان میں ممکنہ شرح سود اضافے کی توقعات کے باعث پیدا ہوئی تھی۔ ان خدشات نے عالمی بانڈز میں بھاری فروخت کو جنم دیا تھا، جس کے نتیجے میں کرپٹوکرنسیز میں گراوٹ مزید بڑھ گئی اور اسٹاک مارکیٹس رسکی اثاثوں سے انخلاء کے دباؤ کا شکار رہیں۔</p>
<p>اس دوران بڑے معاشی محرکات کی عدم موجودگی میں توجہ دوبارہ متوقع فیڈرل ریزرو کی آئندہ ہفتے ممکنہ شرح میں کمی کی طرف منتقل ہو گئی، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری پیدا کی ہے۔</p>
<p>تاریخی طور پر دسمبر اسٹاک مارکیٹس کے لیے ایک مثبت مہینہ رہا ہے۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے فیڈ کی مزید نرم (dovish) پالیسی کی توقعات کو بھی قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے، خاص طور پر اس خیال کے ساتھ کہ وائٹ ہاؤس کے معاشی مشیر کیون ہیسٹ   جنہیں ممکنہ طور پر جیروم پاول کی جگہ نیا چیئر سمجھا جا رہا ہے اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد سود کی شرحوں میں مزید کمی کی حمایت کریں گے۔</p>
<p>دوسری جانب انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے نے بدھ کو  امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 280.46 پر بند ہوئی، جو کہ ایک پیسے کی بہتری ہے۔</p>
<p>اسٹاک مارکیٹ میں آل شیئر انڈیکس کا کاروباری حجم 775.54 ملین سے کم ہو کر 593.08 ملین رہ گیا، تاہم ٹریڈ کی مالیت بڑھ کر 44.42 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سیشن کے 37.49 ارب روپے سے زیادہ ہے۔</p>
<p>ورلڈ کال ٹیلی کام 78.64 ملین شیئرز کی لین دین کے ساتھ حجم میں سرِفہرست رہا، اس کے بعد حب پاور کمپنی کے 46.64 ملین اور ٹی آر جی پاک لمیٹڈ کے 33.19 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے۔</p>
<p>بدھ کو مجموعی طور پر 473 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 136 کے نرخ بڑھے، 291 میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 46 کے نرخ بغیر تبدیلی کے بند ہوئے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/031744575fe2074.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/031744575fe2074.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280059</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 18:31:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/0310541670d3283.webp" type="image/webp" medium="image" height="651" width="1156">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/0310541670d3283.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
