<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کمزور طلب اور یوکرین امن مذاکرات، خام تیل کی قیمتوں میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280052/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز مسلسل دوسرے دن کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار روس یوکرین جنگ سے متعلق امن مذاکرات کے نتائج کے منتظر ہیں، جو ممکنہ طور پر رسد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب بڑھتی ہوئی عالمی سپلائی اور امریکی ذخائر میں اضافے نے اضافی رسد کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچر 13 سینٹ یا 0.21 فیصد کمی کے ساتھ 62.32 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 12 سینٹ یا 0.20 فیصد کمی کے بعد 58.52 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ اس سے قبل دونوں میں بالترتیب 1.1 اور 1.2 فیصد کی کمی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس نے بدھ کو بتایا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ سفارتکاروں کے درمیان پانچ گھنٹے طویل ملاقات کے باوجود یوکرین کے امن معاہدے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ تیل کی منڈیوں کی نظر ان مذاکرات پر ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا کسی معاہدے کی صورت میں روسی کمپنیوں، خصوصاً روزنیفٹ اور لوکوئل، پر عائد پابندیوں میں نرمی ممکن ہے، جس سے رکی ہوئی سپلائی دوبارہ عالمی منڈی میں آسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو صدر پیوٹن کی یہ شکایت کہ یورپی طاقتیں ایسے تجاویز دے رہی ہیں جو ماسکو کے لیے بالکل ناقابل قبول ہیں، اس خدشے کو بڑھا رہی ہیں کہ روسی تیل کی سپلائی بدستور چین اور بھارت جیسے محدود خریداروں تک ہی رہے گی، کیونکہ مذاکرات کے مثبت نتیجے کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔ آئی جی کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائی کا مور نے کہا کہ مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باوجود اضافی رسد اور کمزور طلب کی تشویش خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق قیمتوں کو بڑے نقصان سے بچنے کے لیے 55 ڈالر کی حد سے اوپر رہنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کے خلاف یوکرین کی طرف سے ڈرون حملوں میں شدت بھی جغرافیائی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔ حالیہ حملوں میں روس کے بلیک سی کوسٹ پر تیل برآمد کرنے والے مقامات نشانہ بنے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم بلیک سی میں اپنے تیسرے سنگل پوائنٹ مورنگ کی مرمت مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ڈرون حملے کے بعد کم ہونے والی برآمدی صلاحیت بحال کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکا میں بڑھتے ہوئے ذخائر نے بھی سپلائی میں اضافے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ امریکن پٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں 2.48 ملین بیرل، پیٹرول کے ذخائر میں 3.14 ملین بیرل اور ڈیزل کے ذخائر میں 2.88 ملین بیرل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار بدھ کے روز امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن جاری کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز مسلسل دوسرے دن کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار روس یوکرین جنگ سے متعلق امن مذاکرات کے نتائج کے منتظر ہیں، جو ممکنہ طور پر رسد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب بڑھتی ہوئی عالمی سپلائی اور امریکی ذخائر میں اضافے نے اضافی رسد کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچر 13 سینٹ یا 0.21 فیصد کمی کے ساتھ 62.32 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 12 سینٹ یا 0.20 فیصد کمی کے بعد 58.52 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ اس سے قبل دونوں میں بالترتیب 1.1 اور 1.2 فیصد کی کمی ہوئی تھی۔</p>
<p>روس نے بدھ کو بتایا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ سفارتکاروں کے درمیان پانچ گھنٹے طویل ملاقات کے باوجود یوکرین کے امن معاہدے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ تیل کی منڈیوں کی نظر ان مذاکرات پر ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا کسی معاہدے کی صورت میں روسی کمپنیوں، خصوصاً روزنیفٹ اور لوکوئل، پر عائد پابندیوں میں نرمی ممکن ہے، جس سے رکی ہوئی سپلائی دوبارہ عالمی منڈی میں آسکے۔</p>
<p>منگل کو صدر پیوٹن کی یہ شکایت کہ یورپی طاقتیں ایسے تجاویز دے رہی ہیں جو ماسکو کے لیے بالکل ناقابل قبول ہیں، اس خدشے کو بڑھا رہی ہیں کہ روسی تیل کی سپلائی بدستور چین اور بھارت جیسے محدود خریداروں تک ہی رہے گی، کیونکہ مذاکرات کے مثبت نتیجے کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔ آئی جی کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائی کا مور نے کہا کہ مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باوجود اضافی رسد اور کمزور طلب کی تشویش خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ ان کے مطابق قیمتوں کو بڑے نقصان سے بچنے کے لیے 55 ڈالر کی حد سے اوپر رہنا ضروری ہے۔</p>
<p>روس کے خلاف یوکرین کی طرف سے ڈرون حملوں میں شدت بھی جغرافیائی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے۔ حالیہ حملوں میں روس کے بلیک سی کوسٹ پر تیل برآمد کرنے والے مقامات نشانہ بنے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم بلیک سی میں اپنے تیسرے سنگل پوائنٹ مورنگ کی مرمت مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ڈرون حملے کے بعد کم ہونے والی برآمدی صلاحیت بحال کی جا سکے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکا میں بڑھتے ہوئے ذخائر نے بھی سپلائی میں اضافے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ امریکن پٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کے ذخائر میں 2.48 ملین بیرل، پیٹرول کے ذخائر میں 3.14 ملین بیرل اور ڈیزل کے ذخائر میں 2.88 ملین بیرل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار بدھ کے روز امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن جاری کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280052</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 09:35:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/0309334768f2e50.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/0309334768f2e50.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
