<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈسکوز کی نجکاری، حکومت نے ترکیہ سے معاونت طلب کرلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280049/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے اپنی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے بولی کے عمل میں تجربہ کار اور معتبر بین الاقوامی نجی سرمایہ کاروں کی شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے، اور اس سلسلے میں ترکیہ کی شراکت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے کیونکہ اسے اس شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے منگل کے روز ترکیہ کے وزیر برائے توانائی و قدرتی وسائل، الپرسلان بیرکتار کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے پاکستانی پاور سیکٹر ماہرین کے لیے مطالعاتی مواقع فراہم کرنے پر ترک حکومت کا شکریہ ادا کیا، جس کے ذریعے وہ ترکیہ کے نجی شعبے کے زیر انتظام اور مؤثر پاور ماڈل کا جائزہ لے سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پاکستان جلد ہی اپنی پہلی تین ڈسکوز نجکاری کے لیے پیش کرے گا اور سرمایہ کاروں کے لیے درخواست برائے اظہار دلچسپی (ای او آئی) جاری کرنے کے لیے تیار ہے۔ ترک ماڈل کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے سردار اویس لغاری نے دونوں ممالک کے حکام اور متعلقہ اداروں کے درمیان نجکاری کے عمل کے دوران مزید قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خصوصاً اس کنسیشن ماڈل کا حوالہ دیا جسے ترکیہ نے کامیابی کے ساتھ نافذ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستانی پاور سیکٹر کے اداروں کے انسانی وسائل کی تربیت کے لیے ترک تعاون کی اہمیت بھی اجاگر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے اپنے ترک ہم منصب کو جاری اصلاحات اور پاکستان کے پاور سیکٹر کے اداروں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاور ڈویژن ملک کے لیے ایک مربوط انرجی پلان تیار کر رہا ہے اور اس ضمن میں ترکیہ کی معاونت چاہتا ہے، کیونکہ ترکیہ طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی میں نمایاں کارکردگی رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک وزیر توانائی نے گرمجوشی سے استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترک سرمایہ کار پاکستان میں پاور سیکٹر کی نجکاری کے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ترکیہ کی شمولیت نمایاں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ترکیہ میں روڈ شوز منعقد کرنے پر اتفاق کیا اور اس مقصد کے لیے ترک انویسٹمنٹ فورم استعمال کرنے کی پیشکش کی، ساتھ ہی مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پاور مارکیٹ بہت اہم ہے، اور یہ بھی یاد دلایا کہ ترکیہ پہلے ہی کان کنی سمیت ایسے شعبوں میں بڑا سرمایہ کار ہے جو پاور انڈسٹری سے قریبی طور پر منسلک ہیں۔ اس سے قبل دونوں ممالک نے ٹیڈاش کے تکنیکی معاونتی دورے کے انتظامات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا تھا تاکہ پاور ڈسٹری بیوشن، آپریشنز اور مرمت سے متعلق معاملات پر تعاون بڑھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے چھٹی جوائنٹ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) میٹنگ میں طے کردہ اہم موضوعات پر قائم ذیلی گروپس کی تشکیل بھی شیئر کی، جن میں شامل ہیں: ریگولیٹری تعاون، نیشنل الیکٹریسٹی پلان اور مربوط انرجی پلان کی تیاری، قابل تجدید توانائی (بشمول جیو تھرمل)، اور توانائی کے مؤثر استعمال و بچت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ جلد اپنے ذیلی گروپس کی تشکیل سے آگاہ کرے گا۔ دونوں جانب نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ذیلی گروپس کو فعال کر کے تکنیکی مذاکرات کا آغاز کیا جائے اور اپنی رپورٹ جوائنٹ ورکنگ گروپ کو پیش کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے اپنی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے بولی کے عمل میں تجربہ کار اور معتبر بین الاقوامی نجی سرمایہ کاروں کی شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے، اور اس سلسلے میں ترکیہ کی شراکت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے کیونکہ اسے اس شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے منگل کے روز ترکیہ کے وزیر برائے توانائی و قدرتی وسائل، الپرسلان بیرکتار کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے پاکستانی پاور سیکٹر ماہرین کے لیے مطالعاتی مواقع فراہم کرنے پر ترک حکومت کا شکریہ ادا کیا، جس کے ذریعے وہ ترکیہ کے نجی شعبے کے زیر انتظام اور مؤثر پاور ماڈل کا جائزہ لے سکے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پاکستان جلد ہی اپنی پہلی تین ڈسکوز نجکاری کے لیے پیش کرے گا اور سرمایہ کاروں کے لیے درخواست برائے اظہار دلچسپی (ای او آئی) جاری کرنے کے لیے تیار ہے۔ ترک ماڈل کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے سردار اویس لغاری نے دونوں ممالک کے حکام اور متعلقہ اداروں کے درمیان نجکاری کے عمل کے دوران مزید قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خصوصاً اس کنسیشن ماڈل کا حوالہ دیا جسے ترکیہ نے کامیابی کے ساتھ نافذ کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستانی پاور سیکٹر کے اداروں کے انسانی وسائل کی تربیت کے لیے ترک تعاون کی اہمیت بھی اجاگر کی۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے اپنے ترک ہم منصب کو جاری اصلاحات اور پاکستان کے پاور سیکٹر کے اداروں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاور ڈویژن ملک کے لیے ایک مربوط انرجی پلان تیار کر رہا ہے اور اس ضمن میں ترکیہ کی معاونت چاہتا ہے، کیونکہ ترکیہ طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی میں نمایاں کارکردگی رکھتا ہے۔</p>
<p>ترک وزیر توانائی نے گرمجوشی سے استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترک سرمایہ کار پاکستان میں پاور سیکٹر کی نجکاری کے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ترکیہ کی شمولیت نمایاں ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے ترکیہ میں روڈ شوز منعقد کرنے پر اتفاق کیا اور اس مقصد کے لیے ترک انویسٹمنٹ فورم استعمال کرنے کی پیشکش کی، ساتھ ہی مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پاور مارکیٹ بہت اہم ہے، اور یہ بھی یاد دلایا کہ ترکیہ پہلے ہی کان کنی سمیت ایسے شعبوں میں بڑا سرمایہ کار ہے جو پاور انڈسٹری سے قریبی طور پر منسلک ہیں۔ اس سے قبل دونوں ممالک نے ٹیڈاش کے تکنیکی معاونتی دورے کے انتظامات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا تھا تاکہ پاور ڈسٹری بیوشن، آپریشنز اور مرمت سے متعلق معاملات پر تعاون بڑھایا جا سکے۔</p>
<p>پاکستان نے چھٹی جوائنٹ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) میٹنگ میں طے کردہ اہم موضوعات پر قائم ذیلی گروپس کی تشکیل بھی شیئر کی، جن میں شامل ہیں: ریگولیٹری تعاون، نیشنل الیکٹریسٹی پلان اور مربوط انرجی پلان کی تیاری، قابل تجدید توانائی (بشمول جیو تھرمل)، اور توانائی کے مؤثر استعمال و بچت۔</p>
<p>ترکیہ جلد اپنے ذیلی گروپس کی تشکیل سے آگاہ کرے گا۔ دونوں جانب نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ذیلی گروپس کو فعال کر کے تکنیکی مذاکرات کا آغاز کیا جائے اور اپنی رپورٹ جوائنٹ ورکنگ گروپ کو پیش کی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280049</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 08:55:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/030852189556e96.webp" type="image/webp" medium="image" height="1131" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/030852189556e96.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
