<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کان کنی کے شعبے میں: ترکیہ پاکستان کے ساتھ باہمی مفادات پر مبنی شراکت داری کا خواہاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280046/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترکیہ نے پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں مزید قدم بڑھانے کا عندیہ دیا ہے اور اپنے توسیع پذیر سرمایہ کاری کے مفادات کے حصے کے طور پر طویل المدتی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داریوں کے قیام کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ترکی کے وزیر توانائی الپ ارسلان بائراک تار کی قیادت میں وفد نے منگل کو اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقات کی تاکہ  تیل و گیس اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران بائراک تار نے کہا کہ ترکی پاکستان کے ساتھ شراکت میں اضافی منصوبے تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، خاص طور پر تیل و گیس کی تلاش، توانائی کے بنیادی ڈھانچے، اور کان کنی کے شعبے میں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/0220413491ddee1.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/0220413491ddee1.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے بیان کے مطابق ان کے بقول کہ 5 ارب ڈالر کے دو طرفہ تجارتی ہدف کے حصول کے لیے توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں مزید گہرے تعاون سے اہم کردار ادا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان معدنی سرمایہ کاری کانفرنس میں اپنی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے، ترک وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایونٹ پاکستان کی وسیع معدنی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسی لیے میں ایک ترک کان کنی کمپنی کے ساتھ آیا ہوں۔ یہ ترکی کے لیے کان کنی کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ قدم رکھنے کا سنگِ میل ہے اور ہم طویل المدتی، باہمی فائدہ مند شراکت داری قائم کرنے کے منتظر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک وفد کی قیادت الپ ارسلان بائراک تار نے کی اور اس میں نائب وزیر احمت بیراٹ، ایم ٹی آئی اے سی کے ڈائریکٹر جنرل، ٹی پی اے او کے ڈائریکٹر جنرل، اور دیگر سینئر اہلکار شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران ماری انرجیز، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ( او جی ڈی سی ایل ) اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل ) کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے اپنے جاری اور منصوبہ بند منصوبوں پر پریزنٹیشن دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تیل و گیس کی تلاش اور کان کنی کے شعبوں میں ترک شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے مواقع اجاگر کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او جی ڈی سی ایل کے ایم ڈی نے اپنی پریزنٹیشن میں کمپنی کے بنیادی کاروبار اور ریکو دیق پروجیکٹ میں اس کی تنوع کے بارے میں شرکاء کو بریف کیا۔ انہوں نے پاکستان کے پہلے شیل گیس پائلٹ پروجیکٹ اور ٹائٹ گیس کے شعبے میں جاری سرگرمیوں کے بارے میں بھی بتایا اور ترک فریق کو دعوت دی کہ وہ او جی ڈی سی ایل کے غیر روایتی ہائیڈروکاربن پروگرام میں مشترکہ منصوبہ دار اور ٹیکنالوجی پارٹنر کے طور پر شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ ماہ میں اسلام آباد میں ترک پیٹرولیم کا دفتر کھولا جائے گا، جہاں 10 ترک شہری مقامی عملے کے ساتھ کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے یہ بھی اتفاق کیا کہ وہ  تیل کی خریداری کے لیے مشترکہ تجارتی کمپنی کے قیام کے تصور کو دریافت کریں تاکہ اپنے متعلقہ توانائی کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا وزارتی وفد ترکی کا دورہ کرے گا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دن کے دوران، ترک وفد نے پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دو طرفہ تعلقات کے مثبت انداز پر اطمینان کا اظہار کیا اور ترکی کے ساتھ بالخصوص توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی، پیٹرولیم اور معدنی شعبوں میں پاکستان اور ترکی کے درمیان تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترک پیٹرولیم نے پاکستان میں ساحلی اور غیر ساحلی تیل و گیس کی تلاش میں شمولیت اختیار کی ہے، جو دو طرفہ توانائی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے ترک کمپنیوں کو پاکستان کے توانائی بازار میں سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو بڑھانے کی بھی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایم او کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کا ایک وزارتی وفد عنقریب ترکی کا دورہ کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان، خاص طور پر توانائی اور بجلی کے شعبے میں مزید تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/0220550781b71fe.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/0220550781b71fe.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ترک سرمایہ کاروں کی ڈسکوز کی نجکاری میں شرکت کا خواہاں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنے بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے تجربہ کار اور معتبر بین الاقوامی نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کی شرکت کا منتظر ہے۔ اس ضمن میں، ترکی کی کمپنیوں کی شمولیت، جن کا وسیع تجربہ ہے، انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے الپ ارسلان بائراک تار سے ملاقات کے دوران کہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/02211419301e29e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/02211419301e29e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ پاکستان عنقریب اپنے پہلے تین ڈسکوز کی نجکاری پیش کرے گا، اور سرمایہ کاروں کے لیے اظہار دلچسپی (ای او آئی) جاری کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نے ترک تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا، خاص طور پر پاکستان کے بجلی کے شعبے کے اداروں کے انسانی وسائل کی تربیت میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے اپنے ترک ہم منصب کو پاکستان کے بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاور ڈویژن ملک کے لیے ایک انٹیگریٹڈ انرجی پلان پر کام کر رہا ہے اور اس کی تیاری میں ترکی کی معاونت درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترک وزیر الپ ارسلان بائراک تار نے کہا: “ترک سرمایہ کار پاکستان میں بجلی کے شعبے کی نجکاری کے عمل کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں اور امید ظاہر کی کہ ترک سرمایہ کار اس میں مناسب شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز حکومت نے پاکستان منرلز ڈیولپمنٹ کارپوریشن ( پی ایم ڈی سی) کو فعال نجکاری پروگرام میں شامل کیا، بعد ازاں نجکاری کمیشن بورڈ نے ریاستی ملکیت والے اداروں (ایس او ایز) کے جائزے کے دوران اس کی شمولیت کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایم ڈی سی ان تین ایس او ایز میں شامل ہے جنہیں نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ دیگر دو میں سیندک میٹلز لمیٹڈ (ایس ایم ایل ) اور نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ ( این آئی سی ایل ) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اپنے معدنی وسائل اور کان کنی کے شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کی کوششوں کو وسعت دی ہے، حالیہ مذاکرات امریکہ، فرانس، جرمنی، اور ترکی کے ساتھ ہوئے، تاکہ ٹیکنالوجی، مہارت اور طویل المدتی شراکت داری کے ذریعے اپنے وسائل کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال ستمبر میں پاکستان اور امریکہ نے اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون مضبوط کرنے کے لیے 500 ملین ڈالر کا مفاہمت نامہ ( ایم او یو ) دستخط کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان گہری اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کی جانب ایک قدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر میں پاکستان نے اپنا پہلا بیچ نایاب زمینی عناصر اور اہم معدنیات امریکہ میں یو ایس اسٹرٹیجک میٹلز ( یو ایس ایس ایم) کو فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ترکیہ نے پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں مزید قدم بڑھانے کا عندیہ دیا ہے اور اپنے توسیع پذیر سرمایہ کاری کے مفادات کے حصے کے طور پر طویل المدتی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داریوں کے قیام کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔</strong></p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ترکی کے وزیر توانائی الپ ارسلان بائراک تار کی قیادت میں وفد نے منگل کو اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقات کی تاکہ  تیل و گیس اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران بائراک تار نے کہا کہ ترکی پاکستان کے ساتھ شراکت میں اضافی منصوبے تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، خاص طور پر تیل و گیس کی تلاش، توانائی کے بنیادی ڈھانچے، اور کان کنی کے شعبے میں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/0220413491ddee1.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/0220413491ddee1.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>وزارت کے بیان کے مطابق ان کے بقول کہ 5 ارب ڈالر کے دو طرفہ تجارتی ہدف کے حصول کے لیے توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں مزید گہرے تعاون سے اہم کردار ادا ہوگا۔</p>
<p>پاکستان معدنی سرمایہ کاری کانفرنس میں اپنی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے، ترک وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایونٹ پاکستان کی وسیع معدنی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسی لیے میں ایک ترک کان کنی کمپنی کے ساتھ آیا ہوں۔ یہ ترکی کے لیے کان کنی کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ قدم رکھنے کا سنگِ میل ہے اور ہم طویل المدتی، باہمی فائدہ مند شراکت داری قائم کرنے کے منتظر ہیں۔</p>
<p>ترک وفد کی قیادت الپ ارسلان بائراک تار نے کی اور اس میں نائب وزیر احمت بیراٹ، ایم ٹی آئی اے سی کے ڈائریکٹر جنرل، ٹی پی اے او کے ڈائریکٹر جنرل، اور دیگر سینئر اہلکار شامل تھے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران ماری انرجیز، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ( او جی ڈی سی ایل ) اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل ) کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے اپنے جاری اور منصوبہ بند منصوبوں پر پریزنٹیشن دی۔</p>
<p>انہوں نے تیل و گیس کی تلاش اور کان کنی کے شعبوں میں ترک شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے مواقع اجاگر کیے۔</p>
<p>او جی ڈی سی ایل کے ایم ڈی نے اپنی پریزنٹیشن میں کمپنی کے بنیادی کاروبار اور ریکو دیق پروجیکٹ میں اس کی تنوع کے بارے میں شرکاء کو بریف کیا۔ انہوں نے پاکستان کے پہلے شیل گیس پائلٹ پروجیکٹ اور ٹائٹ گیس کے شعبے میں جاری سرگرمیوں کے بارے میں بھی بتایا اور ترک فریق کو دعوت دی کہ وہ او جی ڈی سی ایل کے غیر روایتی ہائیڈروکاربن پروگرام میں مشترکہ منصوبہ دار اور ٹیکنالوجی پارٹنر کے طور پر شامل ہوں۔</p>
<p>یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ ماہ میں اسلام آباد میں ترک پیٹرولیم کا دفتر کھولا جائے گا، جہاں 10 ترک شہری مقامی عملے کے ساتھ کام کریں گے۔</p>
<p>دونوں فریقین نے یہ بھی اتفاق کیا کہ وہ  تیل کی خریداری کے لیے مشترکہ تجارتی کمپنی کے قیام کے تصور کو دریافت کریں تاکہ اپنے متعلقہ توانائی کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔</p>
<p><strong>پاکستان کا وزارتی وفد ترکی کا دورہ کرے گا</strong></p>
<p>دن کے دوران، ترک وفد نے پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔</p>
<p>وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دو طرفہ تعلقات کے مثبت انداز پر اطمینان کا اظہار کیا اور ترکی کے ساتھ بالخصوص توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی، پیٹرولیم اور معدنی شعبوں میں پاکستان اور ترکی کے درمیان تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترک پیٹرولیم نے پاکستان میں ساحلی اور غیر ساحلی تیل و گیس کی تلاش میں شمولیت اختیار کی ہے، جو دو طرفہ توانائی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے ترک کمپنیوں کو پاکستان کے توانائی بازار میں سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو بڑھانے کی بھی دعوت دی۔</p>
<p>پی ایم او کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کا ایک وزارتی وفد عنقریب ترکی کا دورہ کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان، خاص طور پر توانائی اور بجلی کے شعبے میں مزید تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/0220550781b71fe.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/0220550781b71fe.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p><strong>پاکستان ترک سرمایہ کاروں کی ڈسکوز کی نجکاری میں شرکت کا خواہاں</strong></p>
<p>پاکستان اپنے بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے تجربہ کار اور معتبر بین الاقوامی نجی شعبے کے سرمایہ کاروں کی شرکت کا منتظر ہے۔ اس ضمن میں، ترکی کی کمپنیوں کی شمولیت، جن کا وسیع تجربہ ہے، انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p>یہ بات وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے الپ ارسلان بائراک تار سے ملاقات کے دوران کہی۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/02211419301e29e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/02211419301e29e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ پاکستان عنقریب اپنے پہلے تین ڈسکوز کی نجکاری پیش کرے گا، اور سرمایہ کاروں کے لیے اظہار دلچسپی (ای او آئی) جاری کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>وزیر نے ترک تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا، خاص طور پر پاکستان کے بجلی کے شعبے کے اداروں کے انسانی وسائل کی تربیت میں۔</p>
<p>اویس لغاری نے اپنے ترک ہم منصب کو پاکستان کے بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاور ڈویژن ملک کے لیے ایک انٹیگریٹڈ انرجی پلان پر کام کر رہا ہے اور اس کی تیاری میں ترکی کی معاونت درکار ہے۔</p>
<p>ترک وزیر الپ ارسلان بائراک تار نے کہا: “ترک سرمایہ کار پاکستان میں بجلی کے شعبے کی نجکاری کے عمل کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں اور امید ظاہر کی کہ ترک سرمایہ کار اس میں مناسب شرکت کریں گے۔</p>
<p>پیر کے روز حکومت نے پاکستان منرلز ڈیولپمنٹ کارپوریشن ( پی ایم ڈی سی) کو فعال نجکاری پروگرام میں شامل کیا، بعد ازاں نجکاری کمیشن بورڈ نے ریاستی ملکیت والے اداروں (ایس او ایز) کے جائزے کے دوران اس کی شمولیت کی منظوری دی۔</p>
<p>پی ایم ڈی سی ان تین ایس او ایز میں شامل ہے جنہیں نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ دیگر دو میں سیندک میٹلز لمیٹڈ (ایس ایم ایل ) اور نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ ( این آئی سی ایل ) شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان نے اپنے معدنی وسائل اور کان کنی کے شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کی کوششوں کو وسعت دی ہے، حالیہ مذاکرات امریکہ، فرانس، جرمنی، اور ترکی کے ساتھ ہوئے، تاکہ ٹیکنالوجی، مہارت اور طویل المدتی شراکت داری کے ذریعے اپنے وسائل کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔</p>
<p>رواں سال ستمبر میں پاکستان اور امریکہ نے اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون مضبوط کرنے کے لیے 500 ملین ڈالر کا مفاہمت نامہ ( ایم او یو ) دستخط کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان گہری اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کی جانب ایک قدم ہے۔</p>
<p>اکتوبر میں پاکستان نے اپنا پہلا بیچ نایاب زمینی عناصر اور اہم معدنیات امریکہ میں یو ایس اسٹرٹیجک میٹلز ( یو ایس ایس ایم) کو فراہم کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280046</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 22:51:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/02220724c6e42b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/02220724c6e42b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
