<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محفوظ اور کم لاگت ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ماحولیاتی نظام کی تعمیر ’اولین ترجیح‘ ہے، گورنر اسٹیٹ بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280045/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے منگل کے روز موثر اور جامع ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ماحولیاتی نظام کی ترقی کے حوالے سے مرکزی بینک کے عزم کا اعادہ کیا اور ایسے ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا ہے جو جدت، مسابقت اور صارف کے تحفظ کو فروغ دے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے جاری ایک بیان کے مطابق گورنر جمیل احمد نے یہ  بات فیصل بینک لمیٹڈ کے نئے کو بیجڈ ( مشترکہ برانڈنگ) کارڈ کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، یہ  کارڈ ماسٹر کارڈ اور پاکستان کی قومی پیمنٹ اسکیم پے پاک کے اشتراک سے متعارف کرایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;کو بیجنگ سے مراد ایک ہی ادائیگی کارڈ (ڈیبٹ، کریڈٹ یا پری پیڈ) پر ایک سے زیادہ پیمنٹ برانڈز یا ’’بیجز‘‘ کی موجودگی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس رجحان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال، قبولیت اور ادائیگی کے طریقوں میں لچک کو بڑھایا جا سکے۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ایک مضبوط اور جامع نظام کی تشکیل کے لیے اسٹیٹ بینک کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے، گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا ضابطہ جاتی فریم ورک ضروری ہے جو جدت، مسابقت اور صارف کے تحفظ کو فروغ دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے یہ بات  زور دے کر دہرائی کہ اسٹیٹ بینک تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول بین الاقوامی پیمنٹ اسکیمز کے لیے ایک مساوی مواقع کا ماحول یقینی بنانے کے عزم پر قائم ہے، کیونکہ پاکستان محفوظ، باہم مربوط اور خود کفیل ادائیگی کے انفرااسٹرکچر کی طرف بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد کا کہنا تھا کہ کو بیجنگ کا اقدام پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صارفین اب بین الاقوامی اور ای‑کامرس ادائیگیاں بلا رکاوٹ کر سکیں گے، جبکہ ملکی لین دین پاکستان کے اندر نمٹایا جائے گا، جس سے کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور بیرونی نیٹ ورکس پر انحصار کم ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کو بیجنگ پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ آج کا لانچ گزشتہ ماہ متعارف ہونے والے پے پاک ،یونین پے کو بیجڈ کارڈ کے بعد آیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کی مقامی پیمنٹ اسکیم عالمی ادائیگی کے اداروں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکتیں قائم کر رہی ہے۔ مجھے اعتماد ہے کہ مزید بینک اسی طرح کے ماڈلز اپنائیں گے کیونکہ یہ تعاون صارفین کے لیے مضبوط فوائد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کے مطابق فی الحال پے پاک کے پاس گردش میں موجود 53 ملین ڈیبٹ کارڈز میں سے 25 فیصد سے زائد حصص ہے، تاہم اس کا استعمال صرف 6 فیصد تک محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمیل احمد نے اس خلا کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ  ای کامرس اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر محدود قبولیت، معمولی مارکیٹنگ کے اقدامات، اور پے پاک کو کم قدر والے کارڈ کے طور پر دیکھا جانا، جیسی مشکلات کی وجہ سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے تاکہ  پے پاک  کو ایک پائیدار اور مسابقتی اسکیم کے طور پر قائم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے منگل کے روز موثر اور جامع ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ماحولیاتی نظام کی ترقی کے حوالے سے مرکزی بینک کے عزم کا اعادہ کیا اور ایسے ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا ہے جو جدت، مسابقت اور صارف کے تحفظ کو فروغ دے۔</strong></p>
<p>مرکزی بینک کے جاری ایک بیان کے مطابق گورنر جمیل احمد نے یہ  بات فیصل بینک لمیٹڈ کے نئے کو بیجڈ ( مشترکہ برانڈنگ) کارڈ کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، یہ  کارڈ ماسٹر کارڈ اور پاکستان کی قومی پیمنٹ اسکیم پے پاک کے اشتراک سے متعارف کرایا گیا ہے۔</p>
<ul>
<li>کو بیجنگ سے مراد ایک ہی ادائیگی کارڈ (ڈیبٹ، کریڈٹ یا پری پیڈ) پر ایک سے زیادہ پیمنٹ برانڈز یا ’’بیجز‘‘ کی موجودگی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس رجحان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال، قبولیت اور ادائیگی کے طریقوں میں لچک کو بڑھایا جا سکے۔</li>
</ul>
<p>ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ایک مضبوط اور جامع نظام کی تشکیل کے لیے اسٹیٹ بینک کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے، گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا ضابطہ جاتی فریم ورک ضروری ہے جو جدت، مسابقت اور صارف کے تحفظ کو فروغ دے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے یہ بات  زور دے کر دہرائی کہ اسٹیٹ بینک تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول بین الاقوامی پیمنٹ اسکیمز کے لیے ایک مساوی مواقع کا ماحول یقینی بنانے کے عزم پر قائم ہے، کیونکہ پاکستان محفوظ، باہم مربوط اور خود کفیل ادائیگی کے انفرااسٹرکچر کی طرف بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>احمد کا کہنا تھا کہ کو بیجنگ کا اقدام پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صارفین اب بین الاقوامی اور ای‑کامرس ادائیگیاں بلا رکاوٹ کر سکیں گے، جبکہ ملکی لین دین پاکستان کے اندر نمٹایا جائے گا، جس سے کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور بیرونی نیٹ ورکس پر انحصار کم ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کو بیجنگ پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے شعبے میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ آج کا لانچ گزشتہ ماہ متعارف ہونے والے پے پاک ،یونین پے کو بیجڈ کارڈ کے بعد آیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کی مقامی پیمنٹ اسکیم عالمی ادائیگی کے اداروں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکتیں قائم کر رہی ہے۔ مجھے اعتماد ہے کہ مزید بینک اسی طرح کے ماڈلز اپنائیں گے کیونکہ یہ تعاون صارفین کے لیے مضبوط فوائد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک کے مطابق فی الحال پے پاک کے پاس گردش میں موجود 53 ملین ڈیبٹ کارڈز میں سے 25 فیصد سے زائد حصص ہے، تاہم اس کا استعمال صرف 6 فیصد تک محدود ہے۔</p>
<p>جمیل احمد نے اس خلا کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ  ای کامرس اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر محدود قبولیت، معمولی مارکیٹنگ کے اقدامات، اور پے پاک کو کم قدر والے کارڈ کے طور پر دیکھا جانا، جیسی مشکلات کی وجہ سے ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے تاکہ  پے پاک  کو ایک پائیدار اور مسابقتی اسکیم کے طور پر قائم کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280045</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 21:53:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/022111317fd4c95.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/022111317fd4c95.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
