<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:04:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:04:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسمارٹ سرمایہ آہستہ آہستہ نکل رہا ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280038/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اس بات کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ بڑی عالمی کمپنیوں کا مسلسل انخلا  پاکستان کے سرمایہ کاری کے ماحول کی حالت کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ جب ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے آگے کام کرنے والی کمپنیاں اپنے آپریشنز کم کرنا یا مکمل طور پر باہر نکلنا شروع کر دیتی ہیں، تو یہ معمول کی کارپوریٹ تنظیم نو  سے کہیں زیادہ پریشان کن چیز کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ماحول اس قدر غیر یقینی ہو چکا ہے اور لاگت کا ڈھانچہ اس قدر بگڑ چکا ہے، کہ اچھی مالی وسائل والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھی یہاں کوئی قابل عمل مستقبل نظر نہیں آتا۔ صنعتی ماہرین، سرکاری عہدیداروں اور خود کمپنیوں کی طرف سے آنے والی وارننگز ایک ہی نتیجے کی طرف اشارہ کرتی ہیں: پاکستان سنجیدہ سرمایہ کاروں کے سرمائے کے لیے تیزی سے ایک کم کشش کی جگہ بنتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حد سے زیادہ ٹیکسیشن، کم ہوتے منافع ، ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال اور بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات نے ملٹی نیشنلز کے لیے آپریشنز کو برقرار رکھنا مشکل اور بعض صورتوں میں ناممکن بنادیا ہے۔ صرف ٹیلی کام سروسز کو ہی 34.5 فیصد کے مجموعی ٹیکس بوجھ کا سامنا ہے، جس میں 19.5 فیصد جی ایس ٹی اور 15 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس شامل ہے۔ مقامی اسمارٹ فونز، آپٹک فائبر اور درآمد شدہ آلات پر بھی ڈیوٹیاں لاگو ہوتی ہیں۔ ایک ایسی صنعت کے لیے جہاں منافع کا انحصار اسکیل اور دوبارہ سرمایہ کاری پر ہوتا ہے، اس طرح کے اخراجات محض ایک تکلیف نہیں ہیں؛ وہ کاروبار کی بنیادی عملداری کو ختم کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سیکٹر کے اندر سے دی جانے والی وارننگز واضح اور دو ٹوک ہیں۔ پریس میں جن حکام کا حوالہ دیا گیا ہے انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ ناکافی اسپیکٹرم، غیر متوقع پالیسی اور ٹیلی کام آپریشنز پر کمرشل بجلی کی شرحیں لاگو کرنے کے امتزاج نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں سرمایہ کاری کرنا تقریباً غیر معقول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر  آئی ٹی نے  بھی اسی طرح خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں فائیو جی کی طویل تاخیر سے شروع ہونے والی سروس اب خطرے میں ہے، دلچسپی کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کہ آپریٹرز نقصانات میں چل رہے ہیں اور ان کے پاس دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے کوئی منافع نہیں ہے۔ دستیاب اسپیکٹرم صرف 274 میگا ہرٹز ہے، جو علاقائی ہم منصبوں سے کہیں کم ہے جبکہ صنعت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ جدید ہو جائے لیکن اس کے لیے درکار آلات مہیا نہیں کیے جا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوئی الگ تھلگ رجحان نہیں ہے۔ ٹیلی نار نے 18 سال بعد زیادہ اخراجات اور کم منافع کی وجہ سے اپنا کاروبار فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ مائیکروسافٹ اپنے دفتر کی بندش اور مقامی چھانٹیوں کے اعلان کے بعد، اب پارٹنر  لیڈ ماڈل کی طرف منتقل ہوتے ہوئے تنظیم نو کر رہا ہے۔ حکومت اصرار کرتی ہے کہ یہ مکمل انخلا نہیں ہے لیکن تجزیہ کاروں نے نوٹ کیا ہے کہ یہ فیصلہ پھر بھی بگڑتے ہوئے کاروباری اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوبر نے پچھلے سال اپنی ایپ سروسز بند کر دی تھیں اور کریم  جو افراط زر، گرتی ہوئی مانگ اور وینچر کیپیٹل کے غائب ہونے کا سامنا کر رہی تھی نے اپنی خدمات کو مکمل طور پر معطل کر دیا۔ سابق ایگزیکٹوز نے منظوریوں میں رکاوٹیں، اوبر کے حصول کے بعد سست فیصلہ سازی، اور یانگو  اور ان ڈرائیو سے بڑھتے ہوئے مقابلے کو بیان کیا ہے۔ یہ شعبے سے متعلق تفصیلات ہیں لیکن یہ ایک وسیع رجحان کی عکاسی کرتی ہیں جس میں غیر ملکی کمپنیاں یہ نتیجہ اخذ کر رہی ہیں کہ یہاں رہنے کے لیے درکار کوششیں ممکنہ فوائد سے زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام فیصلوں میں جو عمومی عنصر نظر آتا ہے، اسے پہچاننا بالکل مشکل نہیں ہے۔ ٹیکس کا بوجھ بھاری ہے، ضوابط غیر یقینی ہیں، کرنسی کی غیر مستحکم صورتحال منافع کو گھٹا رہی ہے، پالیسی کے اشارے غیر مستقل ہیں اور آپریٹنگ اخراجات آمدنی سے تیز رفتار ی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک خاص مقامی پر سمجھدار سرمایہ کہیں اور منتقل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی یہ ہے کہ یہ سب کچھ نیا نہیں ہے۔ پالیسی ساز برسوں سے جانتے ہیں کہ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ، ضابطہ کاری کا ماحول اور انتظامی عمل سرمایہ کاری کو بڑھاوا دینے کے بجائے اسے روک رہے ہیں۔ پھر بھی جب عالمی کمپنیاں ملک سے نکل رہی ہیں یا اپنے آپریشنز کم کر رہی ہیں، تو ردعمل صرف علامات کو تسلیم کرنے تک محدود رہتا ہے، اصل وجوہات کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;س لمحے کو خاص طور پر اہم  جو چیز بناتی ہے وہ ان کمپنیوں کی نوعیت ہے جو جا رہی ہیں۔ یہ کم منافع بخش عام تجارتی ادارے یا معمولی لاگت کی تبدیلیوں کے حساس کاروبار نہیں ہیں، بلکہ وہ ڈیجیٹل اور تکنیکی ایکو سسٹم کا حصہ ہیں جو اب عالمی اقتصادی ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید ٹیلی کام انفرااسٹرکچر اگلے صنعتی دور کو تشکیل دے رہے ہیں، پاکستان ان کمپنیوں کو کھو رہا ہے جو اس کی منتقلی میں مددگار ہو سکتی تھیں۔ مسئلہ صرف موجودہ سرمایہ کاری کے نقصان کا نہیں، بلکہ تکنیکی ترقی کے اگلے مرحلے سے مکمل طور پر محروم ہونے کا بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کا اعتماد ایک نازک اثاثہ ہے، ایک بار جب یہ کمزور ہونا شروع ہو جائے تو اسے دوبارہ بحال ہونے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ پاکستان کا چیلنج صرف نئے سرمایہ کاروں کو راغب کرنا نہیں، بلکہ موجودہ سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلانا بھی ہے کہ کاروباری ماحول مزید خراب نہیں ہوگا۔ زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ پیغام مطلوبہ انداز میں نہیں پہنچ رہا۔ بڑی سرمایہ کاری کی دلچسپی دوسرے مواقع کی طرف منتقل ہونا شروع ہو گئی ہے اور جب تک بنیادی مسائل کا براہ راست سامنا نہیں کیا جاتا، یہ رجحان مزید تیز ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 0225&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اس بات کو نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ بڑی عالمی کمپنیوں کا مسلسل انخلا  پاکستان کے سرمایہ کاری کے ماحول کی حالت کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ جب ٹیکنالوجی کے میدان میں سب سے آگے کام کرنے والی کمپنیاں اپنے آپریشنز کم کرنا یا مکمل طور پر باہر نکلنا شروع کر دیتی ہیں، تو یہ معمول کی کارپوریٹ تنظیم نو  سے کہیں زیادہ پریشان کن چیز کی نشاندہی کرتا ہے۔</strong></p>
<p>یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ماحول اس قدر غیر یقینی ہو چکا ہے اور لاگت کا ڈھانچہ اس قدر بگڑ چکا ہے، کہ اچھی مالی وسائل والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھی یہاں کوئی قابل عمل مستقبل نظر نہیں آتا۔ صنعتی ماہرین، سرکاری عہدیداروں اور خود کمپنیوں کی طرف سے آنے والی وارننگز ایک ہی نتیجے کی طرف اشارہ کرتی ہیں: پاکستان سنجیدہ سرمایہ کاروں کے سرمائے کے لیے تیزی سے ایک کم کشش کی جگہ بنتا جارہا ہے۔</p>
<p>حد سے زیادہ ٹیکسیشن، کم ہوتے منافع ، ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال اور بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات نے ملٹی نیشنلز کے لیے آپریشنز کو برقرار رکھنا مشکل اور بعض صورتوں میں ناممکن بنادیا ہے۔ صرف ٹیلی کام سروسز کو ہی 34.5 فیصد کے مجموعی ٹیکس بوجھ کا سامنا ہے، جس میں 19.5 فیصد جی ایس ٹی اور 15 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس شامل ہے۔ مقامی اسمارٹ فونز، آپٹک فائبر اور درآمد شدہ آلات پر بھی ڈیوٹیاں لاگو ہوتی ہیں۔ ایک ایسی صنعت کے لیے جہاں منافع کا انحصار اسکیل اور دوبارہ سرمایہ کاری پر ہوتا ہے، اس طرح کے اخراجات محض ایک تکلیف نہیں ہیں؛ وہ کاروبار کی بنیادی عملداری کو ختم کر دیتے ہیں۔</p>
<p>اس سیکٹر کے اندر سے دی جانے والی وارننگز واضح اور دو ٹوک ہیں۔ پریس میں جن حکام کا حوالہ دیا گیا ہے انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ ناکافی اسپیکٹرم، غیر متوقع پالیسی اور ٹیلی کام آپریشنز پر کمرشل بجلی کی شرحیں لاگو کرنے کے امتزاج نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں سرمایہ کاری کرنا تقریباً غیر معقول ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر  آئی ٹی نے  بھی اسی طرح خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں فائیو جی کی طویل تاخیر سے شروع ہونے والی سروس اب خطرے میں ہے، دلچسپی کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کہ آپریٹرز نقصانات میں چل رہے ہیں اور ان کے پاس دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے کوئی منافع نہیں ہے۔ دستیاب اسپیکٹرم صرف 274 میگا ہرٹز ہے، جو علاقائی ہم منصبوں سے کہیں کم ہے جبکہ صنعت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ جدید ہو جائے لیکن اس کے لیے درکار آلات مہیا نہیں کیے جا رہے۔</p>
<p>یہ کوئی الگ تھلگ رجحان نہیں ہے۔ ٹیلی نار نے 18 سال بعد زیادہ اخراجات اور کم منافع کی وجہ سے اپنا کاروبار فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ مائیکروسافٹ اپنے دفتر کی بندش اور مقامی چھانٹیوں کے اعلان کے بعد، اب پارٹنر  لیڈ ماڈل کی طرف منتقل ہوتے ہوئے تنظیم نو کر رہا ہے۔ حکومت اصرار کرتی ہے کہ یہ مکمل انخلا نہیں ہے لیکن تجزیہ کاروں نے نوٹ کیا ہے کہ یہ فیصلہ پھر بھی بگڑتے ہوئے کاروباری اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>اوبر نے پچھلے سال اپنی ایپ سروسز بند کر دی تھیں اور کریم  جو افراط زر، گرتی ہوئی مانگ اور وینچر کیپیٹل کے غائب ہونے کا سامنا کر رہی تھی نے اپنی خدمات کو مکمل طور پر معطل کر دیا۔ سابق ایگزیکٹوز نے منظوریوں میں رکاوٹیں، اوبر کے حصول کے بعد سست فیصلہ سازی، اور یانگو  اور ان ڈرائیو سے بڑھتے ہوئے مقابلے کو بیان کیا ہے۔ یہ شعبے سے متعلق تفصیلات ہیں لیکن یہ ایک وسیع رجحان کی عکاسی کرتی ہیں جس میں غیر ملکی کمپنیاں یہ نتیجہ اخذ کر رہی ہیں کہ یہاں رہنے کے لیے درکار کوششیں ممکنہ فوائد سے زیادہ ہیں۔</p>
<p>ان تمام فیصلوں میں جو عمومی عنصر نظر آتا ہے، اسے پہچاننا بالکل مشکل نہیں ہے۔ ٹیکس کا بوجھ بھاری ہے، ضوابط غیر یقینی ہیں، کرنسی کی غیر مستحکم صورتحال منافع کو گھٹا رہی ہے، پالیسی کے اشارے غیر مستقل ہیں اور آپریٹنگ اخراجات آمدنی سے تیز رفتار ی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک خاص مقامی پر سمجھدار سرمایہ کہیں اور منتقل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>بدقسمتی یہ ہے کہ یہ سب کچھ نیا نہیں ہے۔ پالیسی ساز برسوں سے جانتے ہیں کہ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ، ضابطہ کاری کا ماحول اور انتظامی عمل سرمایہ کاری کو بڑھاوا دینے کے بجائے اسے روک رہے ہیں۔ پھر بھی جب عالمی کمپنیاں ملک سے نکل رہی ہیں یا اپنے آپریشنز کم کر رہی ہیں، تو ردعمل صرف علامات کو تسلیم کرنے تک محدود رہتا ہے، اصل وجوہات کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔</p>
<p>س لمحے کو خاص طور پر اہم  جو چیز بناتی ہے وہ ان کمپنیوں کی نوعیت ہے جو جا رہی ہیں۔ یہ کم منافع بخش عام تجارتی ادارے یا معمولی لاگت کی تبدیلیوں کے حساس کاروبار نہیں ہیں، بلکہ وہ ڈیجیٹل اور تکنیکی ایکو سسٹم کا حصہ ہیں جو اب عالمی اقتصادی ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>جب مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید ٹیلی کام انفرااسٹرکچر اگلے صنعتی دور کو تشکیل دے رہے ہیں، پاکستان ان کمپنیوں کو کھو رہا ہے جو اس کی منتقلی میں مددگار ہو سکتی تھیں۔ مسئلہ صرف موجودہ سرمایہ کاری کے نقصان کا نہیں، بلکہ تکنیکی ترقی کے اگلے مرحلے سے مکمل طور پر محروم ہونے کا بھی ہے۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کا اعتماد ایک نازک اثاثہ ہے، ایک بار جب یہ کمزور ہونا شروع ہو جائے تو اسے دوبارہ بحال ہونے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ پاکستان کا چیلنج صرف نئے سرمایہ کاروں کو راغب کرنا نہیں، بلکہ موجودہ سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلانا بھی ہے کہ کاروباری ماحول مزید خراب نہیں ہوگا۔ زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ پیغام مطلوبہ انداز میں نہیں پہنچ رہا۔ بڑی سرمایہ کاری کی دلچسپی دوسرے مواقع کی طرف منتقل ہونا شروع ہو گئی ہے اور جب تک بنیادی مسائل کا براہ راست سامنا نہیں کیا جاتا، یہ رجحان مزید تیز ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 0225</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280038</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 15:54:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/0215521722b7637.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/0215521722b7637.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
