<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتی بل منظور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280034/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے  قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتی بل 2025 منظور کرلیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل وزیر قانون  اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا، جنہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ وفاقی وزیر  نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ نے 2014 میں ہدایت دی تھی کہ غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون نے بتایا کہ اس بل کے تحت قائم ہونے والا کمیشن غیر مسلموں کو حکومت کے سامنے اپنے مسائل پیش کرنے اور ان کا حق دلانے کا پلیٹ فارم  ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ اجلاس کی صدارت قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کی جب کہ اس دوران  اپوزیشن نے نعرے بھی لگائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعظم نذیر تارڑ نے زور دیا کہ بل میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی چیز نہیں، اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا اور آئین بھی غیر مسلموں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل پر بحث کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ایسے قوانین کے ممکنہ غلط استعمال سے خبردار کیا اور استفسار کیا کہ بل کیوں پیش کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ قانون اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرے، مگر اسلام کے خلاف کوئی قانون منظور نہیں ہونا چاہیے اور شفافیت کے لیے بل پر جامع بحث ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل کے بعض سیکشنز خاص طور پر سیکشن 35 اور سیکشن 12 کی شق ایچ پر اعتراض کیا کہ یہ عدالتوں کے موجودہ اختیارات پر اثر ڈال سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر قانون  نے واضح کیا کہ عدالتوں کے اختیارات برقرار رہیں گے اور کمیشن کو خودکار اختیارات دینے یا واپس لینے کے لیے تجاویز زیر غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمن نے انتباہ کیا کہ وزیر قانون شاید قادیانیوں کی چالاکیوں سے واقف نہیں وہ ایسے قوانین سے فائدہ اٹھا کر پھر الگ ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ایسے معاملات میں نہیں پڑنا چاہیے۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ   نیا پینڈورا باکس  یہاں نہ کھولا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے  قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتی بل 2025 منظور کرلیا۔</strong></p>
<p>بل وزیر قانون  اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا، جنہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ وفاقی وزیر  نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ نے 2014 میں ہدایت دی تھی کہ غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔</p>
<p>وزیر قانون نے بتایا کہ اس بل کے تحت قائم ہونے والا کمیشن غیر مسلموں کو حکومت کے سامنے اپنے مسائل پیش کرنے اور ان کا حق دلانے کا پلیٹ فارم  ثابت ہوگا۔</p>
<p>مشترکہ اجلاس کی صدارت قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کی جب کہ اس دوران  اپوزیشن نے نعرے بھی لگائے۔</p>
<p>اعظم نذیر تارڑ نے زور دیا کہ بل میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی چیز نہیں، اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا اور آئین بھی غیر مسلموں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔</p>
<p>بل پر بحث کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ایسے قوانین کے ممکنہ غلط استعمال سے خبردار کیا اور استفسار کیا کہ بل کیوں پیش کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ قانون اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرے، مگر اسلام کے خلاف کوئی قانون منظور نہیں ہونا چاہیے اور شفافیت کے لیے بل پر جامع بحث ہونی چاہیے۔</p>
<p>سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل کے بعض سیکشنز خاص طور پر سیکشن 35 اور سیکشن 12 کی شق ایچ پر اعتراض کیا کہ یہ عدالتوں کے موجودہ اختیارات پر اثر ڈال سکتے ہیں۔</p>
<p>وزیر قانون  نے واضح کیا کہ عدالتوں کے اختیارات برقرار رہیں گے اور کمیشن کو خودکار اختیارات دینے یا واپس لینے کے لیے تجاویز زیر غور ہیں۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمن نے انتباہ کیا کہ وزیر قانون شاید قادیانیوں کی چالاکیوں سے واقف نہیں وہ ایسے قوانین سے فائدہ اٹھا کر پھر الگ ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ایسے معاملات میں نہیں پڑنا چاہیے۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ   نیا پینڈورا باکس  یہاں نہ کھولا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280034</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 14:38:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/02142141468ff94.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/02142141468ff94.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
