<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس سے امن معاہدہ براعظم کی سلامتی کمزور کر سکتا ہے، یورپ کو خوف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280031/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپی ممالک میں یہ خوف بڑھ رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین جنگ ختم کرنے کی تازہ کوشش بالآخر ایسی ڈیل پر منتج ہوسکتی ہے جو روس کو نہ تو کمزور کرے اور نہ ہی اس کے خلاف مؤثر سزا کا باعث بنے، جس سے براعظم کی سلامتی مزید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یورپی رہنماؤں کو یہ اندیشہ بھی ہے کہ امریکہ، جو نیٹو میں ان کا روایتی محافظ ہے، مستقبل میں روس کے ساتھ معاشی شراکت داری بڑھا سکتا ہے ، ایک ایسا منظرنامہ جسے یورپ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکہ کے پیش کردہ 28 نکاتی امن منصوبے کے بعض حصوں کو یوکرین اور یورپی ممالک نے مسترد کروانے میں کامیابی حاصل کی، تاہم یورپی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے میں براعظم کے لیے سنگین خطرات موجود رہیں گے۔ یورپ کی اصل کمزوری اس کے پاس ”ہارڈ پاور“ کی کمی ہے، جس کے باعث وہ مذاکرات پر اثرانداز ہونے سے قاصر ہے۔  یورپی نمائندے نہ تو فلوریڈا میں ہونے والی امریکہ۔یوکرین بات چیت میں شریک تھے اور نہ ہی وہ اس ہفتے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی ماسکو میں ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات پر کوئی اثر ڈال سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق یورپی قیادت اب اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگی ہے کہ جنگ کے خاتمے پر ہونے والی کوئی ممکنہ ڈیل اچھی نہیں ہوگی۔ یورپ کو خدشہ ہے کہ کسی بھی معاہدے میں روس کو قبضہ شدہ یوکرینی علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کی اجازت دے دی گئی تو پیوٹن مزید جارحیت پر اکسائے جائیں گے۔ روسی دعووں کو رد نہ کرنے اور ڈونباس کے باقی علاقوں سے متعلق امریکی لچک نے بھی یورپی پریشانی میں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ یورپی حکام اس بات پر بھی مضطرب ہیں کہ روس کو عالمی معیشت میں دوبارہ جگہ دینے سے اس کی فوجی مشینری مضبوط ہوگی، جو مستقبل میں کسی نئی جارحیت کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یورپی یونین اب تک روس کے منجمد اثاثوں کو یوکرین کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے پر متفق نہیں ہوسکی، حالانکہ یہ ایک بڑی سودے بازی ثابت ہوسکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں چند ممالک نے یوکرین کے لیے جنگ کے بعد سکیورٹی ضمانتوں کے تحت ایک ’ری ایشورنس فورس‘ کی تجویز دی ہے، مگر اس کی افادیت محدود ہوگی اور یہ بھی امریکی حمایت کے بغیر مؤثر نہیں ہوسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ آج اس کمزوری کی قیمت ادا کر رہا ہے جو اس نے برسوں تک دفاعی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری نہ کرکے پیدا کی۔ نتیجتاً وہ ایک ایسے بحران میں میز پر موجود نہیں جس کا براہ راست اثر اس کی اپنی سلامتی پر پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپی ممالک میں یہ خوف بڑھ رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین جنگ ختم کرنے کی تازہ کوشش بالآخر ایسی ڈیل پر منتج ہوسکتی ہے جو روس کو نہ تو کمزور کرے اور نہ ہی اس کے خلاف مؤثر سزا کا باعث بنے، جس سے براعظم کی سلامتی مزید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یورپی رہنماؤں کو یہ اندیشہ بھی ہے کہ امریکہ، جو نیٹو میں ان کا روایتی محافظ ہے، مستقبل میں روس کے ساتھ معاشی شراکت داری بڑھا سکتا ہے ، ایک ایسا منظرنامہ جسے یورپ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔</strong></p>
<p>اگرچہ امریکہ کے پیش کردہ 28 نکاتی امن منصوبے کے بعض حصوں کو یوکرین اور یورپی ممالک نے مسترد کروانے میں کامیابی حاصل کی، تاہم یورپی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے میں براعظم کے لیے سنگین خطرات موجود رہیں گے۔ یورپ کی اصل کمزوری اس کے پاس ”ہارڈ پاور“ کی کمی ہے، جس کے باعث وہ مذاکرات پر اثرانداز ہونے سے قاصر ہے۔  یورپی نمائندے نہ تو فلوریڈا میں ہونے والی امریکہ۔یوکرین بات چیت میں شریک تھے اور نہ ہی وہ اس ہفتے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی ماسکو میں ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات پر کوئی اثر ڈال سکتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق یورپی قیادت اب اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگی ہے کہ جنگ کے خاتمے پر ہونے والی کوئی ممکنہ ڈیل اچھی نہیں ہوگی۔ یورپ کو خدشہ ہے کہ کسی بھی معاہدے میں روس کو قبضہ شدہ یوکرینی علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کی اجازت دے دی گئی تو پیوٹن مزید جارحیت پر اکسائے جائیں گے۔ روسی دعووں کو رد نہ کرنے اور ڈونباس کے باقی علاقوں سے متعلق امریکی لچک نے بھی یورپی پریشانی میں اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ یورپی حکام اس بات پر بھی مضطرب ہیں کہ روس کو عالمی معیشت میں دوبارہ جگہ دینے سے اس کی فوجی مشینری مضبوط ہوگی، جو مستقبل میں کسی نئی جارحیت کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یورپی یونین اب تک روس کے منجمد اثاثوں کو یوکرین کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے پر متفق نہیں ہوسکی، حالانکہ یہ ایک بڑی سودے بازی ثابت ہوسکتی تھی۔</p>
<p>فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں چند ممالک نے یوکرین کے لیے جنگ کے بعد سکیورٹی ضمانتوں کے تحت ایک ’ری ایشورنس فورس‘ کی تجویز دی ہے، مگر اس کی افادیت محدود ہوگی اور یہ بھی امریکی حمایت کے بغیر مؤثر نہیں ہوسکتی۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ آج اس کمزوری کی قیمت ادا کر رہا ہے جو اس نے برسوں تک دفاعی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری نہ کرکے پیدا کی۔ نتیجتاً وہ ایک ایسے بحران میں میز پر موجود نہیں جس کا براہ راست اثر اس کی اپنی سلامتی پر پڑ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280031</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 14:19:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/02141414f41c570.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/02141414f41c570.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
