<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہانگ کانگ آتشزدگی میں 151افراد کی ہلاکت، حکومت کا آزادانہ تحقیقات کا حکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280030/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہانگ کانگ کی حکومت نے شہر کی حالیہ تاریخ کی بدترین آگ کی وجوہات کے تعین کے لیے ایک جج کی سربراہی میں آزاد انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سانحے میں 151 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ تقریباً 30 ابھی تک لاپتہ ہیں۔ حکام کے مطابق وانگ فک کورٹ کے بلند رہائشی ٹاورز میں جاری تعمیراتی کام کے دوران ناقص پلاسٹک میش اور انسولیشن فوم استعمال کیے گئے، جنہوں نے آگ کو تیزی سے سات عمارتوں تک پھیلایا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے غفلت کے شبہے میں 13 افراد کو حراست میں لیا ہے، جبکہ انسدادِ بدعنوانی کمیشن نے بھی ممکنہ کرپشن پر 12 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ کچھ افراد دونوں تحقیقات میں نامزد ہیں یا نہیں۔ عوامی غم و غصے میں اضافہ کے ساتھ مختلف حلقے شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ حکام خبردار کر رہے ہیں کہ سانحے کو سیاسی رنگ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیشتر لاشیں سیڑھیوں اور چھتوں سے ملی ہیں جہاں لوگ آگ سے بچنے کی کوشش میں پھنس گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دو انتہائی متاثرہ عمارتوں میں تلاش کا عمل کئی ہفتے جاری رہ سکتا ہے۔ اب تک 60 سے زائد پالتو جانور بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے سے پہلے رہائشیوں نے حکام کو آگ کے خطرات سے آگاہ کیا تھا، اور بعد ازاں تحقیقات میں سامنے آیا کہ تعمیراتی ٹھیکیداروں نے ناقص میٹریل مشکل مقامات پر استعمال کیا تاکہ معائنے سے بچ سکیں۔ آگ کے وقت فائر الارم بھی درست کام نہیں کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز سے ہزاروں افراد متاثرین کی یاد میں شمعیں روشن کر رہے ہیں، جن میں انڈونیشیا اور فلپائن سے تعلق رکھنے والی گھریلو ملازمائیں بھی شامل تھیں۔ سینکڑوں بے گھر افراد کو عارضی رہائش گاہوں، یوتھ ہاسٹلز اور ہوٹلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے ہر گھرانے کو ہنگامی مدد کے طور پر 10,000 ہانگ کانگ ڈالر فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفتیشی عمل جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس المناک واقعے کی مکمل وجوہات سامنے لانے اور ذمہ داروں کو سزا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ہانگ کانگ کی حکومت نے شہر کی حالیہ تاریخ کی بدترین آگ کی وجوہات کے تعین کے لیے ایک جج کی سربراہی میں آزاد انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سانحے میں 151 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ تقریباً 30 ابھی تک لاپتہ ہیں۔ حکام کے مطابق وانگ فک کورٹ کے بلند رہائشی ٹاورز میں جاری تعمیراتی کام کے دوران ناقص پلاسٹک میش اور انسولیشن فوم استعمال کیے گئے، جنہوں نے آگ کو تیزی سے سات عمارتوں تک پھیلایا۔</strong></p>
<p>پولیس نے غفلت کے شبہے میں 13 افراد کو حراست میں لیا ہے، جبکہ انسدادِ بدعنوانی کمیشن نے بھی ممکنہ کرپشن پر 12 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ کچھ افراد دونوں تحقیقات میں نامزد ہیں یا نہیں۔ عوامی غم و غصے میں اضافہ کے ساتھ مختلف حلقے شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ حکام خبردار کر رہے ہیں کہ سانحے کو سیاسی رنگ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔</p>
<p>بیشتر لاشیں سیڑھیوں اور چھتوں سے ملی ہیں جہاں لوگ آگ سے بچنے کی کوشش میں پھنس گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دو انتہائی متاثرہ عمارتوں میں تلاش کا عمل کئی ہفتے جاری رہ سکتا ہے۔ اب تک 60 سے زائد پالتو جانور بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>واقعے سے پہلے رہائشیوں نے حکام کو آگ کے خطرات سے آگاہ کیا تھا، اور بعد ازاں تحقیقات میں سامنے آیا کہ تعمیراتی ٹھیکیداروں نے ناقص میٹریل مشکل مقامات پر استعمال کیا تاکہ معائنے سے بچ سکیں۔ آگ کے وقت فائر الارم بھی درست کام نہیں کر رہے تھے۔</p>
<p>چند روز سے ہزاروں افراد متاثرین کی یاد میں شمعیں روشن کر رہے ہیں، جن میں انڈونیشیا اور فلپائن سے تعلق رکھنے والی گھریلو ملازمائیں بھی شامل تھیں۔ سینکڑوں بے گھر افراد کو عارضی رہائش گاہوں، یوتھ ہاسٹلز اور ہوٹلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے ہر گھرانے کو ہنگامی مدد کے طور پر 10,000 ہانگ کانگ ڈالر فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔</p>
<p>تفتیشی عمل جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس المناک واقعے کی مکمل وجوہات سامنے لانے اور ذمہ داروں کو سزا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280030</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 14:01:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/0213572499fa8e5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/0213572499fa8e5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
