<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:25:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:25:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کپاس کی آمد، پیک ٹائم گزر گیا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280017/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کی تازہ ترین پندرہ روزہ رپورٹ میں اب سیزن کا سب سے فیصلہ کن ڈیٹا پوائنٹ شامل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;15 نومبر تک آمد 4.4 ملین بیل (155 کلوگرام فی بیل) سے کچھ اوپر پہنچ گئی ہیں، لیکن مجموعی رفتار اس مرحلے پر مالی سال 24 اور مالی سال 25 دونوں سے سست ہے۔ کاغذ پر یہ فرق معمولی لگ سکتا ہے، تاہم سیزنل پیٹرن واضح ہے: فصل اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں رفتار میں اضافہ نظر آنا چاہیے تھا۔ یہ اضافہ نظر نہیں آ رہا، جو آخری وقت کی کٹائی میں کسی بھی اضافے کی توقع کو صفر کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر مڈ نومبر کے بعد رفتار غائب ہو تو کپاس شاذ و نادر ہی بحال ہوتی ہے۔ اس سیزن کے اس مقام تک تاریخی طور پر سالانہ آمد کا 80 فیصد حصہ پہلے ہی ریکارڈ کیا جا چکا ہوتا ہے۔ منحنی خطوط(کروو) پہلے ہی ہموار ہو چکی ہے بجائے بڑھنے کے۔ پنجاب، وہ صوبہ جو عام طور پر فصل کے لگنے کے بعد رفتار مقرر کرتا ہے، نے کئی سالوں میں سب سے کمزور آغاز ریکارڈ کیا ہے۔ اس دوران سندھ اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے لیکن حالیہ دو بحالی سائیکل کی بجائے  مالی سال 21 جیسا رویہ اختیار کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/692e49d94b459.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/692e49d94b459.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کے اعداد و شمار اس تبدیلی کی وضاحت واضح طور پر کرتے ہیں۔ گزشتہ سال 31 اکتوبر سے 15 نومبر کے درمیان صوبے نے تقریباً 1.2 ملین بیل اضافہ کیا۔ اس سال یہ اضافہ بمشکل نصف ہے۔ سندھ، جو بعض اوقات نومبر کے آخر میں فرق کم کر دیتا ہے، نے بھی کوئی نمایاں اضافہ نہیں دکھایا۔ جبکہ گندم کی بوائی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے اور ان پٹ خریداری میں ہچکچاہٹ کے آثار نظر آ رہے ہیں، اس لیے سیزن کے آخر میں کسی بھی اضافے کے امکانات کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی طور پر پاکستان نے کبھی چھ ملین بیل سے تجاوز نہیں کیا جب پنجاب نے مڈ نومبر تک تین ملین بیل تک کا ہدف حاصل نہ کیا ہو۔ مالی سا 26 نے پہلے ہی اس حد کو کافی حد تک پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو ملکی سطح پر آمد 5 سے 5.5 ملین بیل کے درمیان رہ سکتی ہیں۔ اس سے موجودہ سیزن مالی سال 21 کے قریب تر ہو جاتا ہے نہ کہ مالی سال 22 یا مالی سال 24 کے، جنہیں اکثر صنعت کی بحالی کی مثال کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ لوگ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ مقامی آمد میں کمی درآمدات کو فوری طور پر ضروری بنا دے گی اور یوں سپلائی چین برقرار رہے گی۔ یہ منطق خام مال حاصل کرنے والے برآمد کنندگان کے لیے درست ہو سکتی ہے، لیکن اسے بحالی کے ثبوت کے طور پر نہیں پیش کیا جا سکتا۔ اگر کپاس کی طلب زیادہ تر بیرونی رسد کے ذریعے برقرار رکھی جا رہی ہے، دو نسبتا بہتر سیزنز کے بعد، تو مسئلہ تغیر پذیری کا نہیں بلکہ کاشتکاروں کے اعتماد کے غائب ہونے کا ہے۔ سیزن کاغذوں پر ابھی بھی جاری ہے، لیکن حقیقت میں اس کا نتیجہ پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کی تازہ ترین پندرہ روزہ رپورٹ میں اب سیزن کا سب سے فیصلہ کن ڈیٹا پوائنٹ شامل ہے۔</strong></p>
<p>15 نومبر تک آمد 4.4 ملین بیل (155 کلوگرام فی بیل) سے کچھ اوپر پہنچ گئی ہیں، لیکن مجموعی رفتار اس مرحلے پر مالی سال 24 اور مالی سال 25 دونوں سے سست ہے۔ کاغذ پر یہ فرق معمولی لگ سکتا ہے، تاہم سیزنل پیٹرن واضح ہے: فصل اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں رفتار میں اضافہ نظر آنا چاہیے تھا۔ یہ اضافہ نظر نہیں آ رہا، جو آخری وقت کی کٹائی میں کسی بھی اضافے کی توقع کو صفر کر دیتا ہے۔</p>
<p>اگر مڈ نومبر کے بعد رفتار غائب ہو تو کپاس شاذ و نادر ہی بحال ہوتی ہے۔ اس سیزن کے اس مقام تک تاریخی طور پر سالانہ آمد کا 80 فیصد حصہ پہلے ہی ریکارڈ کیا جا چکا ہوتا ہے۔ منحنی خطوط(کروو) پہلے ہی ہموار ہو چکی ہے بجائے بڑھنے کے۔ پنجاب، وہ صوبہ جو عام طور پر فصل کے لگنے کے بعد رفتار مقرر کرتا ہے، نے کئی سالوں میں سب سے کمزور آغاز ریکارڈ کیا ہے۔ اس دوران سندھ اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے لیکن حالیہ دو بحالی سائیکل کی بجائے  مالی سال 21 جیسا رویہ اختیار کر رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/692e49d94b459.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/12/692e49d94b459.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>پنجاب کے اعداد و شمار اس تبدیلی کی وضاحت واضح طور پر کرتے ہیں۔ گزشتہ سال 31 اکتوبر سے 15 نومبر کے درمیان صوبے نے تقریباً 1.2 ملین بیل اضافہ کیا۔ اس سال یہ اضافہ بمشکل نصف ہے۔ سندھ، جو بعض اوقات نومبر کے آخر میں فرق کم کر دیتا ہے، نے بھی کوئی نمایاں اضافہ نہیں دکھایا۔ جبکہ گندم کی بوائی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے اور ان پٹ خریداری میں ہچکچاہٹ کے آثار نظر آ رہے ہیں، اس لیے سیزن کے آخر میں کسی بھی اضافے کے امکانات کم ہیں۔</p>
<p>تاریخی طور پر پاکستان نے کبھی چھ ملین بیل سے تجاوز نہیں کیا جب پنجاب نے مڈ نومبر تک تین ملین بیل تک کا ہدف حاصل نہ کیا ہو۔ مالی سا 26 نے پہلے ہی اس حد کو کافی حد تک پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو ملکی سطح پر آمد 5 سے 5.5 ملین بیل کے درمیان رہ سکتی ہیں۔ اس سے موجودہ سیزن مالی سال 21 کے قریب تر ہو جاتا ہے نہ کہ مالی سال 22 یا مالی سال 24 کے، جنہیں اکثر صنعت کی بحالی کی مثال کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔</p>
<p>کچھ لوگ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ مقامی آمد میں کمی درآمدات کو فوری طور پر ضروری بنا دے گی اور یوں سپلائی چین برقرار رہے گی۔ یہ منطق خام مال حاصل کرنے والے برآمد کنندگان کے لیے درست ہو سکتی ہے، لیکن اسے بحالی کے ثبوت کے طور پر نہیں پیش کیا جا سکتا۔ اگر کپاس کی طلب زیادہ تر بیرونی رسد کے ذریعے برقرار رکھی جا رہی ہے، دو نسبتا بہتر سیزنز کے بعد، تو مسئلہ تغیر پذیری کا نہیں بلکہ کاشتکاروں کے اعتماد کے غائب ہونے کا ہے۔ سیزن کاغذوں پر ابھی بھی جاری ہے، لیکن حقیقت میں اس کا نتیجہ پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280017</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 11:46:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/02114306aaf9dde.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/02114306aaf9dde.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
