<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:17:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:17:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک مٹیاری–لاہور ٹرانسمیشن کمپنی اور نیشنل گرڈ کمپنی میں اربوں کا مالی تنازع سی پیک کمیٹی کے سامنے پیش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280010/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) اور پاک مٹیاری–لاہور ٹرانسمیشن کمپنی (پی ایم ایل ٹی سی) کے درمیان 23 ارب روپے کے مالی تنازعہ کو چائنا–پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے ریویو کمیٹی کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے، جس کی صدارت وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق چینی کمپنی پی ایم ایل ٹی سی نے رپورٹ دی ہے کہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی(این ٹی ڈی سی) یا نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) صوبائی سیلز ٹیکس کے واجبات ادا کرنے سے انکار کر رہی ہے، حالانکہ یہ ٹیکس جولائی 2023 سے قانونی طور پر قابل اطلاق ہے اور ٹرانسمیشن سروس معاہدے کے تحت پاس تھرو لاگت کے طور پر شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این جی سی کی جانب سے عدم ادائیگی کے باعث پی ایم ایل ٹی سی پر پنجاب ریونیو اتھارٹی اور سندھ ریونیو بورڈ کو واجب الادا 22.8 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس جمع ہو چکا ہے۔ نیپرا کے فیصلوں اور صوبائی ٹیکس قوانین کے مطابق این جی سی/سی پی پی اے-جی کو یہ چارجز ڈسکوز کے ذریعے منتقل کرنے ہوں گے، لیکن ادائیگی نہیں کی گئی۔ چینی کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ عدم ادائیگی سے انہیں جرمانے اور ڈیفالٹ چارجز کا سامنا ہے اور نقدی کے بہاؤ اور کمپلائنس کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پی ایم ایل ٹی سی نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکنڈ شیڈول کے کلاز 12A میں ترمیم کی درخواست بھی دی ہے تاکہ اس کا متن درست طور پر پڑھا جائے: ’’سیکشن 150 کی شق ٹرانسمیشن لائن پراجیکٹ کے تحت ادا کیے جانے والے منافع پر لاگو نہیں ہوگی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران سیندک (ریکو ڈک) کاپر مائن پروجیکٹ کو سی پیک کے صنعتی تعاون کے تحت جائنٹ ورکنگ گروپ میں شامل کیا گیا ہے اور پٹرولیم ڈویژن نے اس کی پیش رفت کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ چائنا–پاکستان بارڈر پورٹ مینجمنٹ کمیٹی کے قیام کے حوالے سے چینی سفارتخانے نے مسودہ پروٹوکول بھیجا ہے اور پاکستان سے لیڈ اتھارٹیز کی تصدیق اور رائے طلب کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر منصوبہ بندی  نے میسرز چیلنج فیشن کے لیے یوٹیلٹیز کی فراہمی میں تاخیر پر 23 اکتوبر 2025 کو فالو اپ اجلاس کیا اور کہا کہ یہ ترجیحی سرمایہ کاری منصوبہ ہے اور فوری حل ضروری ہے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وفاقی کابینہ کو ایس ای زیڈز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عمومی معیار پیش کرے، جس میں کم از کم برآمدی وعدے، ملازمتیں پیدا کرنا اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;83ویں سی پیک پیش رفت اجلاس میں گوادار فری زون میں برآمدات کے 50 فیصد کے ریٹینشن کے لیے اسٹیت بینک آف پاکستان کو 23 ستمبر 2025 تک نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔ طویل مدتی حل کے لیے سی پیک سیکریٹریٹ اور وزارت منصوبہ بندی کو ایک کمیٹی تشکیل دینے کا کہا گیا ہے جس میں وزارت میرین افیئرز، وزارت خزانہ، وزارت صنعت و پیداوار، ایف بی آر،اسٹیٹ بینک، بی او آئی اور جی پی اے کے نمائندے شامل ہوں گے۔ وزارت میرین افیئرز نے کمیٹی کی صدارت کی جبکہ وزارت خزانہ یا وزارت منصوبہ بندی کے تحت اس کے ڈھانچے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) اور پاک مٹیاری–لاہور ٹرانسمیشن کمپنی (پی ایم ایل ٹی سی) کے درمیان 23 ارب روپے کے مالی تنازعہ کو چائنا–پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے ریویو کمیٹی کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے، جس کی صدارت وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق چینی کمپنی پی ایم ایل ٹی سی نے رپورٹ دی ہے کہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی(این ٹی ڈی سی) یا نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) صوبائی سیلز ٹیکس کے واجبات ادا کرنے سے انکار کر رہی ہے، حالانکہ یہ ٹیکس جولائی 2023 سے قانونی طور پر قابل اطلاق ہے اور ٹرانسمیشن سروس معاہدے کے تحت پاس تھرو لاگت کے طور پر شامل ہے۔</p>
<p>این جی سی کی جانب سے عدم ادائیگی کے باعث پی ایم ایل ٹی سی پر پنجاب ریونیو اتھارٹی اور سندھ ریونیو بورڈ کو واجب الادا 22.8 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس جمع ہو چکا ہے۔ نیپرا کے فیصلوں اور صوبائی ٹیکس قوانین کے مطابق این جی سی/سی پی پی اے-جی کو یہ چارجز ڈسکوز کے ذریعے منتقل کرنے ہوں گے، لیکن ادائیگی نہیں کی گئی۔ چینی کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ عدم ادائیگی سے انہیں جرمانے اور ڈیفالٹ چارجز کا سامنا ہے اور نقدی کے بہاؤ اور کمپلائنس کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق پی ایم ایل ٹی سی نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکنڈ شیڈول کے کلاز 12A میں ترمیم کی درخواست بھی دی ہے تاکہ اس کا متن درست طور پر پڑھا جائے: ’’سیکشن 150 کی شق ٹرانسمیشن لائن پراجیکٹ کے تحت ادا کیے جانے والے منافع پر لاگو نہیں ہوگی۔‘‘</p>
<p>اسی دوران سیندک (ریکو ڈک) کاپر مائن پروجیکٹ کو سی پیک کے صنعتی تعاون کے تحت جائنٹ ورکنگ گروپ میں شامل کیا گیا ہے اور پٹرولیم ڈویژن نے اس کی پیش رفت کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ چائنا–پاکستان بارڈر پورٹ مینجمنٹ کمیٹی کے قیام کے حوالے سے چینی سفارتخانے نے مسودہ پروٹوکول بھیجا ہے اور پاکستان سے لیڈ اتھارٹیز کی تصدیق اور رائے طلب کی ہے۔</p>
<p>وزیر منصوبہ بندی  نے میسرز چیلنج فیشن کے لیے یوٹیلٹیز کی فراہمی میں تاخیر پر 23 اکتوبر 2025 کو فالو اپ اجلاس کیا اور کہا کہ یہ ترجیحی سرمایہ کاری منصوبہ ہے اور فوری حل ضروری ہے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وفاقی کابینہ کو ایس ای زیڈز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عمومی معیار پیش کرے، جس میں کم از کم برآمدی وعدے، ملازمتیں پیدا کرنا اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر شامل ہوں۔</p>
<p>83ویں سی پیک پیش رفت اجلاس میں گوادار فری زون میں برآمدات کے 50 فیصد کے ریٹینشن کے لیے اسٹیت بینک آف پاکستان کو 23 ستمبر 2025 تک نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔ طویل مدتی حل کے لیے سی پیک سیکریٹریٹ اور وزارت منصوبہ بندی کو ایک کمیٹی تشکیل دینے کا کہا گیا ہے جس میں وزارت میرین افیئرز، وزارت خزانہ، وزارت صنعت و پیداوار، ایف بی آر،اسٹیٹ بینک، بی او آئی اور جی پی اے کے نمائندے شامل ہوں گے۔ وزارت میرین افیئرز نے کمیٹی کی صدارت کی جبکہ وزارت خزانہ یا وزارت منصوبہ بندی کے تحت اس کے ڈھانچے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280010</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 10:14:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/021009121f77ac5.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/021009121f77ac5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
