<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:48:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 08:48:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینیزویلا کے جہاز پر امریکی حملہ قانونی تھا، وائٹ ہاؤس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280009/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا میں وینیزویلا کے مبینہ منشیات بردار جہاز پر کیے گئے مہلک حملوں کے معاملے نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کو وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ امریکی ایڈمرل فرینک بریڈلی نے یہ کارروائیاں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی اجازت سے کیں، حالانکہ ناقدین انہیں غیر قانونی قرار دے رہے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ دوسری کارروائی مبینہ طور پر بچ جانے والے افراد کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع کی ہدایت پر پہلے حملے کے دو زندہ بچ جانے والوں کو مارنے کے لیے دوسرا حملہ کیا گیا۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ دوسری کارروائی کے حق میں نہیں تھے اور پیٹ ہیگستھ نے بھی ایسا حکم دینے کی تردید کی ہے۔ اس کے باوجود وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ وزیر دفاع نے 2 ستمبر کی کارروائی کے لیے مکمل اختیار دیا تھا اور یہ کارروائی امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی پانیوں میں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر سے اب تک امریکی فوج کی جانب سے کیریبین اور لاطینی امریکا کے ساحلی علاقوں میں کم از کم 19 حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں تقریباً 76 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ماہرین اور قانون سازوں نے ان حملوں کی قانونی حیثیت پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ناکارہ یا سمندر میں بے یار و مددگار افراد پر حملہ ممنوع ہے اور انہیں طبی امداد دینا لازم ہوتا ہے، جب تک وہ مزاحمت نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون کی ماہر پروفیسر لورا ڈکنسن کے مطابق یہ کارروائیاں مسلح تنازع کے زمرے میں نہیں آتیں، اس لیے مہلک طاقت کا استعمال آخری حل کے طور پر ہی ممکن تھا۔ ایک سابق فوجی وکلاء کے گروپ نے ان احکامات کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا حکم ماننے والے اہلکاروں پر جنگی جرائم کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف سخت اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں ممکنہ فوجی مداخلت اور خفیہ کارروائیاں شامل ہیں، جبکہ مادورو نے منشیات اسمگلنگ کے الزامات کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا میں وینیزویلا کے مبینہ منشیات بردار جہاز پر کیے گئے مہلک حملوں کے معاملے نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے پیر کو وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ امریکی ایڈمرل فرینک بریڈلی نے یہ کارروائیاں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی اجازت سے کیں، حالانکہ ناقدین انہیں غیر قانونی قرار دے رہے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ دوسری کارروائی مبینہ طور پر بچ جانے والے افراد کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔</strong></p>
<p>واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع کی ہدایت پر پہلے حملے کے دو زندہ بچ جانے والوں کو مارنے کے لیے دوسرا حملہ کیا گیا۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ دوسری کارروائی کے حق میں نہیں تھے اور پیٹ ہیگستھ نے بھی ایسا حکم دینے کی تردید کی ہے۔ اس کے باوجود وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ وزیر دفاع نے 2 ستمبر کی کارروائی کے لیے مکمل اختیار دیا تھا اور یہ کارروائی امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی پانیوں میں کی گئی۔</p>
<p>ستمبر سے اب تک امریکی فوج کی جانب سے کیریبین اور لاطینی امریکا کے ساحلی علاقوں میں کم از کم 19 حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں تقریباً 76 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ماہرین اور قانون سازوں نے ان حملوں کی قانونی حیثیت پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ناکارہ یا سمندر میں بے یار و مددگار افراد پر حملہ ممنوع ہے اور انہیں طبی امداد دینا لازم ہوتا ہے، جب تک وہ مزاحمت نہ کریں۔</p>
<p>قانون کی ماہر پروفیسر لورا ڈکنسن کے مطابق یہ کارروائیاں مسلح تنازع کے زمرے میں نہیں آتیں، اس لیے مہلک طاقت کا استعمال آخری حل کے طور پر ہی ممکن تھا۔ ایک سابق فوجی وکلاء کے گروپ نے ان احکامات کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا حکم ماننے والے اہلکاروں پر جنگی جرائم کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف سخت اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں ممکنہ فوجی مداخلت اور خفیہ کارروائیاں شامل ہیں، جبکہ مادورو نے منشیات اسمگلنگ کے الزامات کی تردید کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280009</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 09:45:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/020943145d8f176.webp" type="image/webp" medium="image" height="540" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/020943145d8f176.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
