<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن وزیراعظم کی واپسی پر جاری ہوگا، رانا ثنا اللہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40280008/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی سیاسی صورتحال کے درمیان وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پیر کو کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے کے لیے نوٹیفکیشن وزیراعظم شہباز شریف کی بیرون ملک سے واپسی پر جاری کیا جائے گا۔ یہ منصب 27ویں آئینی ترمیم کے تحت تخلیق کیا گیا ہے، اور اس کی تاخیر نے مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دے رکھا ہے، خصوصاً اس لیے کہ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل  سید عاصم منیر کی تین سالہ مدت 29 نومبر کو پوری ہورہی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو روز گزر جانے کے باوجود حکومت کی خاموشی نے اس بحث کو تقویت دی ہے کہ نیا چیف آف ڈیفنس فورسز کون ہوگا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس پانچ سالہ مدت والے عہدے کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے صورتحال سے متعلق بڑھتی بحث کو کم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ تمام مراحل آئین، قانون اور قواعد کے مطابق طے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازی میں جلدبازی نہیں ہوگی اور ہر قدم مکمل درستگی کے ساتھ اٹھایا جانا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ معاملہ ابھی مشاورت کے مرحلے میں ہے۔ ان کے مطابق غور طلب امور اور حتمی فیصلوں میں واضح فرق ہوتا ہے، اور جب تک فیصلہ نہ ہوجائے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکتا۔ آئینی ترمیم کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدتِ ملازمت نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد شروع ہوگی، جو اب تک زیر التوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا ثنا اللہ نے ان افواہوں کی بھی تردید کی جن میں کہا جا رہا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف لندن سے اس معاملے میں مداخلت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر مکمل طور پر غلط ہے، نواز شریف نے کبھی کوئی اعتراض نہیں اٹھایا اور ان سے منسوب بیانات حقیقی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے۔ وزیر اعظم کی واپسی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک دو دن میں واپس آجائیں گے، تاہم کوئی مخصوص تاریخ نہیں بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران انہوں نے قومی اسمبلی اسپیکر کے چیمبر میں تحریک انصاف کے وفد کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی تفصیلات بھی بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ وفد سے کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم کی واپسی تک عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر انتظار کیا جائے۔ تاہم ان کے مطابق وفد کے جانے کے فوراً بعد خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ایک دھمکی موصول ہوئی، جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال میں کوئی ملاقات ممکن نہیں ہوتی، خصوصاً جب رویہ مسلسل جارحانہ اور انتشار انگیز ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی سیاسی صورتحال کے درمیان وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پیر کو کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے کے لیے نوٹیفکیشن وزیراعظم شہباز شریف کی بیرون ملک سے واپسی پر جاری کیا جائے گا۔ یہ منصب 27ویں آئینی ترمیم کے تحت تخلیق کیا گیا ہے، اور اس کی تاخیر نے مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دے رکھا ہے، خصوصاً اس لیے کہ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل  سید عاصم منیر کی تین سالہ مدت 29 نومبر کو پوری ہورہی تھی۔</strong></p>
<p>دو روز گزر جانے کے باوجود حکومت کی خاموشی نے اس بحث کو تقویت دی ہے کہ نیا چیف آف ڈیفنس فورسز کون ہوگا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس پانچ سالہ مدت والے عہدے کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے صورتحال سے متعلق بڑھتی بحث کو کم کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ تمام مراحل آئین، قانون اور قواعد کے مطابق طے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازی میں جلدبازی نہیں ہوگی اور ہر قدم مکمل درستگی کے ساتھ اٹھایا جانا ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ معاملہ ابھی مشاورت کے مرحلے میں ہے۔ ان کے مطابق غور طلب امور اور حتمی فیصلوں میں واضح فرق ہوتا ہے، اور جب تک فیصلہ نہ ہوجائے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکتا۔ آئینی ترمیم کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدتِ ملازمت نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد شروع ہوگی، جو اب تک زیر التوا ہے۔</p>
<p>رانا ثنا اللہ نے ان افواہوں کی بھی تردید کی جن میں کہا جا رہا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف لندن سے اس معاملے میں مداخلت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر مکمل طور پر غلط ہے، نواز شریف نے کبھی کوئی اعتراض نہیں اٹھایا اور ان سے منسوب بیانات حقیقی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے۔ وزیر اعظم کی واپسی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک دو دن میں واپس آجائیں گے، تاہم کوئی مخصوص تاریخ نہیں بتائی۔</p>
<p>اسی دوران انہوں نے قومی اسمبلی اسپیکر کے چیمبر میں تحریک انصاف کے وفد کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی تفصیلات بھی بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ وفد سے کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم کی واپسی تک عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر انتظار کیا جائے۔ تاہم ان کے مطابق وفد کے جانے کے فوراً بعد خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ایک دھمکی موصول ہوئی، جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال میں کوئی ملاقات ممکن نہیں ہوتی، خصوصاً جب رویہ مسلسل جارحانہ اور انتشار انگیز ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40280008</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 09:34:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/12/02093239d740d45.webp" type="image/webp" medium="image" height="478" width="856">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/12/02093239d740d45.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
